http://www.bbc.com/urdu/

Tuesday, 20 December, 2005, 15:37 GMT 20:37 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

پاک فوج کا پہلا سکھ افسر

پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار سکھ مذہب رکھنے والے ایک نوجوان ہرچرن سنگھ کو فوج میں افسر بھرتی کیا گیا ہے۔

اس بارے میں فوجی ترجمان شوکت سلطان نے بی بی سی کو بتایا کہ ہرچرن سنگھ ابھی آرمی اکیڈمی میں زیر تعلیم ہیں اور وہ کیڈٹ ہیں۔ ان کے مطابق جب وہ امتحان پاس کریں گے تو سیکنڈ لیفٹیننٹ بنیں گے۔

انیس سالہ ہرچرن سنگھ کا تعلق ننکانہ صاحب میں مقیم ایک غریب گھرانے سے ہے اور ان کے والد آیا سنگھ وفات پاچکے ہیں۔

پاکستان فوج میں افسر بھرتی ہونے کے لیے مذہب کی بنیاد پر بظاہر تفریق تو نہیں ہے اور تمام مذاہب کے نوجوانوں کو امتحان میں حصہ لینے کی اجازت ہے۔ البتہ سکھ اور ہندو مذہب والوں کو فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا۔

ہرچرن سنگھ کی ہمشیرہ امریک کور نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پانچ بہن بھائی ہیں۔ ان کے مطابق تین بہنیں دونوں بھائیوں سے بڑی ہیں اور ہرچرن سنگھ کا نمبر چوتھا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے بھائی ابتدا ہی سے پڑھنے لکھنے میں خاصے ہوشیار تھے۔

امریک سنگھ کے مطابق ان کی نہ دکان ہے نہ کوئی زمین اور بھائی کی نوکری سے ملنے والی تنخواہ سے ان کے گھر کے اخراجات چلتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے گوردوارے میں ڈیوٹی کرتی تھیں اور جو تنحواہ ملتی تھی اس سے بھائیوں کے پڑھائی کے اخراجات پورے کرتی رہیں۔ لیکن ان کے مطابق جب سے ان کے بھائی کو فوج میں ملازمت ملی تو انہوں نے گوردوارے کی ملازمت چھوڑ دی۔

ہرچرن سنگھ کے آباؤ و اجداد بھارت سے نقل مکانی کرکے صوبہ سرحد کے شہر کوہاٹ میں آباد ہوئے اور بعد میں خاندان کے کچھ لوگ شمالی علاقہ جات میں بھی رہے۔

ہندوستان کے بٹوارے کے بعد بھی یہ خاندان پاکستان میں رہا لیکن بعد میں کوہاٹ سے ننکانہ صاحب منتقل ہوگئے۔

امریک کور نے کہا کہ کاش ان کے والد آج زندہ ہوتے تو ہرچرن سنگھ کو فوجی افسر دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔

واضح رہے کہ فوج میں مسیحی افراد کو بھرتی کیا جاتا رہا ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ کسی سکھ مذہب والے کو کمیشن ملا ہے۔ اس سے اب سکھ مذہب کے دیگر نوجوانوں کے لیے بھی ایک لحاظ سے فوج کی ملازمت کا راستہ کھل گیا ہے۔