BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 15:26 GMT 20:26 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’مدرسے میں رہنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں‘
 

 
 
مدرسہ بنوریہ کراچی
(اس سے قبل ایک تکنیکی مسئلے کے باعث یہاں جامعہ بنوریہ العالمیہ کے بجائے جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کی تصویر شائع ہوگئی تھی)

ہمارے ساتھی جاوید سومرو آج کل جامعہ بنوریہ العالمیہ میں قیام پذیر ہیں۔ جامعہ بنوریہ میں اپنے قیام کے دوران وہ مدرسے کی زندگی کے بارے میں ایک خصوصی سیریز پر کام کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ جامعہ سے مدرسہ ڈائری اور دیگر خصوصی مضامین بھی تحریر کریں گے جو ہمارے قارئین آئندہ چند روزمیں ملاحظہ کریں گے۔ ان کی دوسری ’مدرسہ ڈائری‘ پیش کی جا رہی ہے:-

دوسرے روز ہی مجھے اس بات کا احساس ہوگیا ہے کہ مدرسے میں رہنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ یہ ہزاروں لوگ جو یہاں قیام کرتے ہیں اور زندگی کو سخت اصولوں کے تحت گزارتے ہیں وہ یقیناً قدرت کا خاص تحفہ رکھتے ہیں۔

مجھے یہ سمجھ میں ہی نہیں آتا تھا کہ وہ کیا طاقت ہے جو اندر سے لوگوں کو اس بات کے لئے آمادہ کرتی ہے کہ وہ دنیا کی پرکشش چیزوں کو چھوڑ کر ایک باضابطہ زندگی گزاریں؟ لیکن یہاں مدرسے میں لوگوں سے بات چیت سے محسوس ہوا کہ معاملہ صرف چیزوں کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کا ہے۔ مثال کے طور پر بچوں کی تعلیم و تربیت کو ہی لیجئے۔ مغرب میں، اور کسی حد تک پاکستان میں بھی یہ سوچ خاصی مضبوط ہے کہ بچوں کو اپنی دلچسپی اور پسند کی تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دی جانی چاہیئے، انہیں مختلف ماحول سے روشناس کرایا جائے، انہیں پڑھائی کے ساتھ ساتھ کھیل کود اور فن و ادب کی طرف بھی راغب ہونے کے لئے ہمت افزائی کی جانی چاہیے تاکہ وہ جدید دنیا کے شانہ بشانہ چل سکیں۔ بظاہر یہ باتیں بہت اچھی اور عقلمندانہ ہیں اور آپ کو لگے گا کہ شاید اس پر کسی کو کوئی اعتراض کیونکر ہوگا؟

لیکن یہاں مدرسے میں باتیں اتنی سادہ نہیں بلکہ بعض اوقات بالکل متضاد ہیں۔ مدرسے کے ایک اہم منتظم کے ساتھ ہونے والی ایک سیر حاصل گفتگو سے معلوم ہوا کہ ان کے مطابق ملک میں خرابیوں کی ایک وجہ تو یہی آزادی اور وہ تعلیم ہے جو طالب علموں کو کالجوں اور یونیورسٹیوں میں دی جاتی ہے۔

جامعہ بنوریہ
ہم طالب علموں کو بہت کم وقت دیتے ہیں تاکہ وہ فضول کے معاملات میں نہ پڑیں: منتظم مدرسہ

’آپ بتائیں کہ کیوں ملک توڑنے کے ذمہ دار لوگوں سے لے کر فوج اور نوکر شاہی کے بدعنوان افسران تک اور جاگیرداروں سرمایہ داروں سے لے کر فحاشی اور غیراسلامی قوانین کے حامیوں تک سب ہی لوگ باہر کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پڑھے ہوئے ہیں؟‘ منتظم صاحب نے دریافت کیا۔

میں نے سوال کے جواب میں سوال کیا ’تو کیا آپ کے خیال میں یونیورسٹیاں اور کالج بند کردینے چاہئیں کیونکہ آپ کے بقول ساری خرابیاں وہیں سے جنم لیتی ہیں؟‘

منتظم صاحب مسکرائے اور پوچھا یہ تو حکومت بتائے۔ میں نے بات کو آگے بڑھانے کے لئے لقمہ دیا۔ ’حکومت تو مجھے معلوم نہیں اس منطق کا کیا جواب دے لیکن مغرب میں یہ خیال عام ہے کہ دنیا میں مذہب کے نام پر جو دہشت گردی ہو رہی ہے اس میں مدرسوں کا بڑہ عمل دخل ہے تو کیا اسے درست مانتے ہوئے مدرسوں کی تعلیم پر پابندی عائد کی جائے؟ جناب جیسے مغرب کی اس بات کودرست تسلیم نہیں کیا جاتا اسی طرح میرے خیال میں تمام خرابیوں کا ذمہ دار بھی کالجوں اور یونیورسٹیوں کی تعلیم کو نہیں ٹھرایا جاسکتا‘۔

موضوع بدلتے ہوئے میں نے پوچھا ’ویسے آپ لوگوں ہاں طالب علموں کے اوقات کار کیا ہیں؟‘

انہوں نے جواب دیا ہم انہیں ذرا سختی سے رکھتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ طالب علم فجر کی اذان کے ساتھ اٹھتے ہیں نماز کے بعد کلاسیں ہوتی ہیں پھر گیارہ بجے کھانے کا وقفہ ہوتا ہے جس کے بعد پھر کلاسیں پھر کچھ نیند جس کے بعد ظہر کی نماز پھر کلاسیں اور تھوڑی دیر کے لئے کھیل کود اور پھر کلاسیں جن کے بعد مغرب کی نماز، بعد میں کھانا اور پھر کل کی کلاسوں کی تیاری اور دن بھر کی تعلیم پر تکرار اور سوالات۔

’تو ہم طالب علموں کو بہت کم وقت دیتے ہیں تاکہ وہ فضول کے معاملات میں نہ پڑیں، اسی لئے آپ کو ہمارے ہاں سب لوگ سلجھے ہوئے اور اعلیٰ اخلاقی معیار کے ملیں گے‘ منتظم صاحب نے کہا۔

 
 
سیاست اور مذہب
صدر مشرف کے اقدامات پر علی احمد خان کا کالم
 
 
غیر ملکیوں کا اخراج
پاکستانی مدرسوں کی اصلاح کی نئی مہم
 
 
اسی بارے میں
لال مسجد پر پولیس چھاپہ
17 August, 2004 | پاکستان
ڈیڈ لائن پر عمل ناممکن
03 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد