BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 February, 2006, 15:51 GMT 20:51 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کشوری لال کے اٹھانوے سال
 

 
 
کشوری لال
ہوئی۔میں زندگی سے نہ صرف مطمئن بلکہ خوش ہوں
وہ پہلے گاندھی کے لئے کام کرتے تھے اب بھگوان کے لئے کام کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ گاندھی کے نظریے کے پرچار کے لئے وہ شہروں، دیہاتوں اور ریگستانوں میں جاتے تھے، بھگوان کی عبادت کے لئے انہوں نے خود کو ایک کمرے تک محدود کیا ہوا ہے۔

اٹھانوے سالہ کشوری لال نے تحریک آزادی اور تقسیم ہند کو اپنی آنکھوں سے دیکھا جبکہ پاک بھارت جنگ بھی ان کے سامنے کی بات ہے۔

ان کے آباؤ اجداد ڈیڑھ سو سال قبل جودھ پور سے عمرکوٹ آئے تھے۔ کشوری لال میگھواڑ کی پیدائش یہیں ہوئی۔اب عمر کے آخری ایام بھی وہ یہاں گزارنا چاہتے ہیں۔

کشوری لال نے کانگریس کی سیاست کی اور ہندی میں پرتیما (بی اے) اور مدھیما (ایم اے) کیا۔ مگر قیام پاکستان کے بعد کانگریس کی سیاست اور ہندی کی تعلیم دونوں کارآمد نہیں رہیں جس کے بعد انہوں نے بڑھئی کا کام کیا جو ان کا آبائی پیشہ تھا۔

تقسیم ہند سے قبل ’ہندوجاتیوں‘ میں اوچ نیچ کا بہت فرق تھا۔ کشوری لال خود بھی اس نظام کا شکار ہوئے۔ آٹھ سال کی عمر میں جب انہوں نےسکول جانے کی کوشش کی تو ان کی ذات آڑے آگئی۔ سکول ’اونچی‘ ذات والوں کے لئے ہوا کرتے تھے۔

لہذا سکول انتظامیہ نے یہ کہہ کر داخلہ دینے سے انکار کردیا کہ ’اپنی بینچ لیکر آؤ یا فرش پر بیٹھو، اونچی ذات والوں کے ساتھ ساتھ نہیں بیٹھنےدینگے‘۔

کشوری نے بتایا کہ اس زمانے میں رکن اسمبلی سوامی کرشنانند عمرکوٹ آئے تو یہ مسئلہ ان کے سامنے رکھا گیا جنہوں نے حکومت کی جانب سے ایک ہندی ودیالہ (اسکول) کھول کردیا۔ اس سکول میں پہلے سال ہی شیڈول کاسٹ کے پینتیس بچوں نے داخلہ لیا۔ میں نے وہاں تین سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد سندھی سکول میں داخلہ لے لیا جہاں چار سال تک پڑھا۔ انگریزی سکول میں داخلہ نہیں مل سکا۔

اس دور میں مہاتما گاندھی نے ہریجن شیوک سنگھ کے نام سے ایک مہم شروع کر رکھی تھی جس کا نعرہ تھا بچوں کو شکشا (تعلیم) دلاؤ اور شدھ کھاؤ۔ بعض مقامات پر آشرم بھی بنائے گئے تھے جہاں ان کو مفت کھانا فراہم کیا جاتا تھا۔

اصول پرستی
 ’مجھے بھی گورے تحصیلدار نے بلا کر چندہ طلب کیا، کانگریس نے فیصلہ کیا تھا کہ جنگ کے لئےفنڈ نہیں دیا جائیگا، میں نے گورے تحصیلدار سے کہا کہ پارٹی کا فیصلہ ہے میں فنڈ نہیں دونگا جس پر گورے نے دھمکی دی کہ جیل جانا پڑیگا۔ میں نے کہا بھیج دو پرواہ نہیں ہے ۔ بنیوں اور تاجروں سمیت لوگوں نے بہت چندہ دیا۔ لوگوں نے تحصیلدار کو بتایا کہ یہ پاگل کانگریسی ہے، چندہ نہیں دیگا۔ اس کے بعدگورے نے مجھ سے چندہ نہیں مانگا
 
کشوری لال
مہاتما گاندھی ایم ایل اے سوامی کرشنانند کو ہریجن کمیونٹی یعنی میگھواڑ، بھیل اور کولہی جاتیوں کی فلاح کے لئے ماہانہ ایک لاکھ روپے بھیجا کرتے تھے۔

’تعلیم حاصل کرنے کے بعد میں بھی اس مہم کا حصہ بن گیا اور سوامی کرشنانند کے سیکریٹری کے طور پر نوکری کی۔ یہ رقم میں ہی تقسیم کیا کرتا تھا۔‘

اس مہم کا ذکر کرتے ہوئے کشوری لال کی بوڑھی آنکھیں چمکنے لگتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ہم معززین کے پاس جاتے تھےاور لوگوں کو درس دیتے تھے کے مردار چیزیں مت کھاؤ اور بچوں کو تعلیم دلاؤ۔ وہ بتاتے ہیں کہ اس وقت ایک تو ’ونچی اور نیچی ذات‘ کی تفریق ہوتی تھی اور دوسرا ان ’چھوٹی‘ ذاتوں کی آپس میں بھی تفریق تھی۔

انہوں نے بتایا کہ وہ کانگریس کا پرچار کرتے جس کے ماہانہ دو سو روپے ملتے تھے۔ کچھ سفری الاؤنس بھی ملتا تھا۔انہوں نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ ’ہم بس، ریل گاڑی اور تانگے میں سفر کرتے تھے مگر کبھی بھی بل پچاس روپے سے زیادہ نہیں ہوا‘۔

قیام پاکستان کے بعد اس آگہی مہم کو جاری نہ رکھنے کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ اس مہم کو چلانے والا کوئی نہیں تھا۔

کشوری لال اپنی زندگی سے مطمئن ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اب بھیل، کولہی اور میگھواڑ مردار چیزیں نہیں کھاتے، تعلیم بھی حاصل کرتے ہیں۔

کشوری گاندھی سے ملاقات کو اعزاز سمجھتے ہیں۔ وہ پنڈت نہرو سے بھی مل چکے ہیں۔ ماضی کو یاد کرکے وہ بتاتے ہیں کہ جب بھگت سنگھ کو ’قتل‘ کیاگیا، ان دنوں کانگریس کا کراچی میں ایک اجلاس ہو رہا تھا جس میں شرکت کے لئے گاندھی کھوکھروپار ریلوے روٹ سے ممبئی میل میں کراچی جا رہے تھے۔ ’چھور سٹیشن پر ان کے درشن ہوئے۔‘

کشوری لال کانگریس کے پکے کارکن رہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب برطانیہ کی جرمنی سے جنگ ہوئی تو انگریزوں نے پیسے جمع کرنا شروع کیے۔

’مجھے بھی گورے تحصیلدار نے بلا کر چندہ طلب کیا، کانگریس نے فیصلہ کیا تھا کہ جنگ کے لئےفنڈ نہیں دیا جائیگا، میں نے گورے تحصیلدار سے کہا کہ پارٹی کا فیصلہ ہے میں فنڈ نہیں دونگا جس پر گورے نے دھمکی دی کہ جیل جانا پڑیگا۔ میں نے کہا بھیج دو پرواہ نہیں ہے ۔ بنیوں اور تاجروں سمیت لوگوں نے بہت چندہ دیا۔ لوگوں نے تحصیلدار کو بتایا کہ یہ پاگل کانگریسی ہے، چندہ نہیں دیگا۔ اس کے بعدگورے نے مجھ سے چندہ نہیں مانگا۔‘

کشوری لال کا کہنا ہے کہ کانگریس نے انہیں نہ صرف شعور بلکہ حوصلہ بھی دیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ انیس سو سینتس انہوں نے کانگریس کی ٹکٹ پر عمرکوٹ میونسپل کا الیکشن جیتا تب ٹھاکروں کے رانا ارجن سنگھ میونسپلٹی کے پریذیڈنٹ ہوئے تھے۔ لوگوں نے کہا کہ تم ’نچلی ذات‘ سے تعلق رکھتے ہوئے رانا صاحب کے سامنے کیسے بیٹھوگے؟

کشوری لال نے بتایا کہ انہوں نے جواب دیا تھا کہ انہیں عوام نے منتخب کیا ہے۔ ’میں تو ضرور بیٹھوں گا۔‘ انہوں نے بتایا کہ وہ جیسے ہی میونسپل ہال میں داخل ہوئے تو رانا ارجن سنگھ نے ان کا ہاتھ پکڑا اور اپنے برابر والی کرسی پر بٹھایا۔

خود ہجرت نہ کرنے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’میں خود نہیں گیا اور اب بھی جانے کی خواہش نہیں ہے۔ ہمیں پاکستان میں کبھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی۔میں زندگی سے نہ صرف مطمئن بلکہ خوش ہوں‘۔

کشوری بتاتے ہیں کہ کانگریس کا مقصد انگریزوں کی غلامی سے نجات تھا۔جب یہ مقصد پورا ہوگیا تو انہوں نے سیاست چھوڑ دی۔ ویسے بھی پاکستان بننے کے بعد کانگریس میں شامل لوگوں کا کیا ہوگا، اس کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں گیا، تقسیم ہند کے بعد یہاں کانگریس کا وجود ہی ختم ہوگیا تھا۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے قیام کے بعد نہ ہم نے کانگریس سے رابطہ کیا نہ انہوں نے ایسا ضروری سمجھا۔

کشوری لال قیام پاکستان کے بعد تین مرتبہ بھارت جاچکے ہیں۔ آخری مرتبہ انیس سو تراسی میں سوامی دیانند کے سوسالہ برسی میں شرکت کے لئے گئے تھے۔ وہ بتاتے ہیں کہ وہ سوامی دیانند کے سیوک ہیں۔ وہ مہاتما گاندھی کی سطح کے رہنما تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ انسان سب برابر ہیں۔ذات پات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ انسان سب برابر ہیں۔ جہالت کے خاتمے کے لئے تعلیم حاصل کریں۔

گاندھی کے اس پیروکار کا کہنا ہے کہ مہاتما کے قتل پر یہاں کے لوگوں کو بھی بڑا دکھ ہوا تھا۔ان کے قتل کے بعد بھارت میں کانگریس کمزور ہوئی اور دیگر جماعتوں نے زور پکڑا تھا۔

کشوری لال نے شادی نہیں کی۔ وہ کہتے ہیں کہ عمر تھی تب شادی کے لئے وقت نہیں تھا، جب وقت ہے تو عمر نہیں رہی۔

 
 
اسی بارے میں
تھرپارکر کے نامکمل ٹھاکر
09 February, 2006 | پاکستان
جناح: بھارت کی نظرمیں
07 June, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد