BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت:
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
تھر ایکسپریس واپس پہنچ گئی
 

 
 
تھر ایکسپریں
کراچی سٹیشن کو روشنیوں اور جھنڈوں سے سجایا گیا تھا (فوٹو:ریاض سہیل)
پاکستان سے موناباؤ بھارت جانے والی تھر ایکسپریس ڈیڑھ سو بھارتی مسافروں لے کر واپس زیرو پوائنٹ پہنچ گئی ہے۔

زیرو پوائنٹ سے ایف آئی اے امیگریشن کے اہلکار غفار الدین نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹرین سوا پانچ بجے واپس پاکستان میں داخل ہوئی ہے۔ جہاں مسافروں کی ویزے اور ٹکٹ چیک کیے جارہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بھارتی مسافروں کے ویزے میں کوئی بھی مسئلہ نہیں ہے۔مسافروں میں عورتیں، بچے بھی شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے اہلکار کے مطابق ٹرین ایک گھنٹے بعد کھوکھرا پار کے لیئے روانہ ہوجائے گی۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اکتالیس سال بعد کھوکراپار کے راستے چلنے والی افتتاحی ٹرین جمعہ کی رات کو گیارہ بجے کراچی سے روانہ ہوئی اور صبح ساڑھے آٹھ بجے زیرو پوائنٹ پہنچی جہاں کسٹمز اور امیگریشن کا کام مکمل ہونے کے بعد یہ ٹرین بھارتی حدود میں داخل ہو کر موناباؤ پہنچی جہاں سے پانچ گھنٹے کے بعد واپس پاکستان میں داخل ہوئی۔

کھوکھراپار ریلوے سٹیشن کے سٹیشن ماسٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ تھر ایکسپریس پاکستان کی حدود سے بھارت میں مقامی وقت کے مطابق ایک بجے کر پانچ منٹ پر داخل ہوئی ۔

انہوں نے بتایا کہ بھارت میں داخل ہونے کے بعد ’ ٹرین سے ہمارا موصلاتی رابطہ منقطح ہوگیا جیسے ہی پاکستان کی حدود میں داخل ہوگی تو رابطہ بحال ہوجائےگا‘۔

سٹیشن ماسٹر کے مطابق اس ٹریک پر یہ پہلی ٹرین بغیر کسی مشکلات سے کامیابی کیساتھ کھوکھراپار پہنچ گئی ہے اور مسافروں کو بھی کوئی تکلیف نہیں اٹھانی پڑی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ موناباؤ پر ویزے، ٹکٹ کی چیکنگ، کسٹمز اور امیگریشن میں تین گھنٹے لگتے ہیں۔

زیرو پوائنٹ تک ٹرین میں سفر کرنے والے بی بی سی نامہ نگاروں کے مطابق روانگی کے وقت حیدرآباد، میرپور خاص اور چھور میں افتتاحی ٹرین کا شاندار استقبال ہوا۔

ٹرین سروس کے افتتاح کے موقع پر کراچی کے ٹرین سٹیشن پر رنگا رنگ روشنیاں لگائی گئی تھیں اور ٹرین کو جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔

ٹرین پر کئی مسافر ٹکٹ خریدنے کے باوجود اس لیے سفر نہ کر سکے کیونکہ ان کے پاس بھارت کا ویزا نہیں تھا۔

اس سےقبل جمعہ کی رات تھر ایکسپریس کے افتتاحی سفر روانہ ہونے کے موقع پر کراچی سٹیشن پر ایک خصوصی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ دونوں شریک تھے۔

سٹیشن پر گورنر سندھ کی جماعت ایم کیو ایم کی جھنڈے لگے ہوئے تھے، اور پارٹی کارکنان جماعت کے سربراہ الطاف حسین کے حق میں نعرے لگا رہے تھے جس سے یہ تاثر مل رہا تھا کہ یہ پورا ایم کیو ایم کا ہی شو ہے۔ ایم کیو ایم کے دو وزراء کنورخالد یونس اور پروفیسر خالد وہاب نے افتتاحی ٹرین میں سفر کیا۔

تھر ایکسپریس کہلانے والی یہ ٹرین سروس کراچی سے ہفتے میں ایک بار چلے گی اور تین سو اسی کلومیٹر کا فیصلہ چودہ گھنٹے میں طے کر کے مونا باؤ پہنچے گی۔ اس ٹرین کا کرایہ تین سو نوے روپے فی کس ہے۔

 
 
ریل گاڑیکھوکراپر ٹرین
راجا کی ریل سے تھر ایکسپریس تک
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد