http://www.bbc.com/urdu/

Friday, 10 February, 2006, 18:22 GMT 23:22 PST

مدرسہ ڈائری
جاوید سومرو، کراچی

’گبر سنگھ کا ڈائیلاگ بہت یاد آیا‘

ہمارے ساتھی جاوید سومرو آج کل جامعہ بنوریہ العالمیہ میں قیام پذیر ہیں۔ جامعہ بنوریہ میں اپنے قیام کے دوران وہ مدرسے کی زندگی کے بارے میں ایک خصوصی سیریز پر کام کریں گے۔ اس کے علاوہ وہ جامعہ سے مدرسہ ڈائری اور دیگر خصوصی مضامین بھی تحریر کریں گے جو ہمارے قارئین آئندہ چند روزمیں ملاحظہ کریں گے۔ ان کی پہلی ’مدرسہ ڈائری‘ پیش کی جا رہی ہے:-

جامعہ بنوریہ کے آہنی دروازے کے سامنے کھڑے ہوئے نجانے کیوں مجھے فلم شعلے میں گبر سنگھ کا وہ ڈائیلاگ یاد آیا جس میں وہ کہتا ہے کہ ’ٹھاکر اس ملک کی کوئی جیل اتنی مضبوط نہیں کہ وہ گبر سنگھ کو روک سکے‘۔

جب سے میں نے کراچی کے اس مدرسے میں آکر تھوڑے دنوں کے لئے رہنے کا فیصلہ کیا ہے تب سے قریبی دوست اور دفتری ساتھیوں سے گھوم پھر کر اس موضوع پر بات چیت ہوتی ہی رہی ہے۔ بعض دوستوں نے تعریف کی کہ اچھا آئیڈیا ہے اور زبردست رپورٹ بنے گی جبکے بعض نے مذاق کیا یا حیرت زدہ ہوئے کہ ’جاوید تم اور مدرسے میں! ناممکن‘۔

خیر میں آج اسی بات کو ممکن بنانے کے لئے مدرسے کے دروازے پر کھڑا ہوں گو اب بھی کچھ تذبذب کا شکار ہوں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ اب نہ صرف بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے لئے مدرسے کے اندرونی حالات زندگی پر پروگرام ترتیب دینے ہیں بلکہ انگریزی کی ایک ڈاکیومینٹری بنانے کے لئے بھی اسائینمنٹ مکمل کرنا ہے۔

لیکن اتنا مجھے اندازہ ہے کہ صحافتی اعتبار سے یہ ایک دلچسپ اور اہم کام ہے اور آج جب پوری دنیا میں مدرسوں کے بارے میں یہ خیال عام ہے کہ یہاں شاید دہشت گردوں کی پرورش اور تربیت ہوتی ہے اور القاعدہ کے حامی پائے جاتے ہیں تو میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ ان باتوں میں کتنی صداقت ہے اور لوگ یہاں زندگی کیسے بسر کرتے ہیں؟

مدرسے میں رہنے کے لئے تیاری کے طور پر داڑھی بھی بڑھا لی ہے اور پہننے کے لئے شلوار قمیض کے چار جوڑے بھی بیگ میں رکھ لئے ہیں۔ لیکن جب جامعہ بنوریہ کے دروازے پر پہنچا اور اندر سے درجنوں ملکی اور غیر ملکی طالب علموں کو نکلتے دیکھا تو ایک خیال شدت سے آیا کہ بھاگ جاؤں۔

میں نے بلآخر مدرسے کا دروازہ عبور کر ہی لیا۔ واہ اندر تو دنیا ہی کچھ اور ہے۔ میں ظہر کی نماز کے ختم ہونے پر مدرسے میں داخل ہوا تھا اور اس وقت کئی سونمازی نماز ادا کرکے باہر نکل رہے تھے، جبکہ کئی طالبعلم جو مدرسے میں ہی رہتے ہیں وہ اپنے رہائشی کمروں کی جانب رواں دواں تھے۔

بعد میں مجھے مدرسے کی انتظامیہ نے بتایا تھا کہ مدرسے میں لگ بھگ تین ہزار طلبہ اور طالبات پڑھتے ہیں جن میں سے تقریباً تین سو غیرملکی ہیں۔ میں نے طالب علموں اور ان کے اساتذہ میں سے چند سے باتیں کی ہیں۔ بڑی دلچسپ باتیں ہوئی ہیں جن کا تذکرہ آنے والے دنوں میں کروں گا۔

میں جب لندن سے روانہ ہوا تھا اس وقت دنیا کے متعدد ممالک میں پیغمبر اسلام حضرت محمد کے خاکے چھاپے جانے کے خلاف شدید احتجاج جاری تھا جن میں کئی لوگ ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

مجھے بڑی حیرت ہوئی جب مجھے یہ تمام خاکے یہاں اس مدرسے میں دیکھنے کو ملے۔ عمومی رائے یہ تھی کہ ہم اگر کسی مسئلے پر احتجاج کر رہے ہیں تو کم از کم اس کی پوری آگاہی تو حاصل ہونی چاہیے۔ مجھے یہ دلیل کافی جاندار لگی اور میرا مزید لوگوں سے ملنے کے لئے اشتیاق بڑھ گیا ہے۔

ویسے تو میرے حساب سے کافی سودمند دن گزرہ لیکن کرکٹ نہ کھیل پانے کا افسوس رہ گیا۔ ہوا کیا کہ شام کو کچھ طالب علم کرکٹ کھیل رہے تھے میرا دل بھی چاہا تو سیدھا ان کے پاس گیا۔ لیکن انہوں نے یہ کہہ کر مجھے چلتا کیا کہ کرکٹ صرف مدرسے والوں کے لئے ہے۔

میں نے انہیں بارہا باور کرانے کی کوشش کی کہ بھائی میں بھی مدرسے میں رہوں گا لیکن ان کو یقین نہ آیا۔ میں مایوس ہوکر آگے بڑہ گیا اور سوچا کوئی بات نہیں کل پھر کوشش کروں گا۔