BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 06 March, 2006, 16:00 GMT 21:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پنچایت کے فیصلہ دو خواتین اغوا
 

 
 
پنچائیت نے ایک لڑکی کو برآمد کرنے کے دو خواتین کو اغوا کرنے کا فیصلہ دیا۔
پنجاب کےضلع پاکپتن کی تحصیل عارف والا میں پسند کی شادی کے لیے گھر چھوڑ جانے والی لڑکی کو بازیاب کرانے کے لیے پنچائیت کے حکم پر دو خواتین کو اغوا کر لیا گیا ہے۔

اغوا کی جانی والی خواتین کے لواحقین کے مطابق عارف والا کے گاؤں 81 ای بی کے زمیندار کی بیٹی اپنی گھر کے ملازم محمد کے ساتھ گھر سے چلی گئی۔

لڑکی کو بازیاب کرانے کے لیے منعقد کی جانے والی پنچایت نے گھر سے چلی جانے لڑکی کے عوض لڑکے کی دو بھاوجوں کو اٹھانے کا فیصلہ دیا اور تیرہ افراد نے مبینہ طور پر ریحانہ بی بی اور فرزانہ بی بی کو اغوا کر لیا۔

پنچائیت کے فیصلے کے منظر عام آنےپر تھانہ صدر پولیس عارف والا نے اغواء کرنے والے تیرہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔ پولیس نے دو ملزموں کو گرفتار بھی کیا لیکن بعد میں پولیس نےچھوڑ دیا۔

گزشتہ روز اس پنچایتی فیصلہ کے خلاف خواتین کی بازیابی کے لئے ان کے لواحقین نے عارف والا میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔

اغوا کی جانے والی خواتین کے لواحقین نے اپنے وکلاء اور گاؤں کے نمبردار کے ہمراہ پولیس پر ملزمان کی سرپرستی کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ مقامی ڈی ایس پی ملزمان کی سرپرستی کر رہا ہے اور جانبدارانہ پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔

عارف والا کے ایس ڈی پی او چودھری محمد شریف نے بتایا کہ ان لڑکیوں کے لواحقین کے الزامات بالکل غلط لغو اور بے بنیاد ہیں ۔ ان دونوں خواتین کے غائب ہونے پر ان کو جب ان کے لواحقین سے درخواست ملی تو انہوں نے مقدمہ درج کروا دیا تھا۔

پولیس افسر نے تسلیم کیا کہ پولیس ابھی تک ان خواتین کو اٹھانے والے ملزمان کو گرفتار نہیں کر سکی ہے کیونکہ وہ اپنے گھروں سے غائب ہیں لیکن آئندہ چوبیس گھنٹوں میں ان ملزمان کی گرفتاری اور ان دونوں خواتین کی بازیابی کا اشادہ دیا۔

پولیس افسر نے ملزمان کی سرپرستی کے تاثر کو غلط قرار دیا۔

پنجاب میں غیرت کے نام پر خواتین کے قتل اور ان پر تشدد کے واقعات گزشتہ چند سالوں سے کثرت کے ساتھ منظر عام پر آ رہے ہیں جن کے بارے میں حقوق نسواں اور انسانی حقوق کے ادارے اپنی تشویش کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
’غیرت‘ کے نام ایک اور قتل
01 August, 2005 | پاکستان
غیرت: قانون میں تبدیلی ضروری
24 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد