BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 March, 2006, 09:06 GMT 14:06 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’بھگوان‘ انڈیا نہیں جا سکے
 

 
 
جسٹس رانا بھگوان داس
ہائی کمیشن نے جسٹس رانا بھگوان داس اور ان کے اہل خانہ کو ویزے جاری نہیں کیئے
پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے سینیئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس کے اہل خانہ کو انڈیا اور پاکستان کی سرحد پر روک دیئے جانے کے بعد جسٹس بھگوان داس نے بھارت کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق جسٹس بھگوان داس جو پاکستان کے پہلے ہندو جج ہیں وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ کل لاہور امرتسر بس سروس میں بھارت جانے کے لیئے جب واہگہ بارڈر پہنچے تو انڈین حکام نے انہیں تو بھارت میں داخلے کی اجازت دے دی مگر ان کے اہل خانہ کو بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی۔

اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے ترجمان کے مطابق ہائی کمیشن نے جسٹس رانا بھگوان داس اور ان کے اہل خانہ کو ویزے جاری نہیں کیئے تھے۔

عدالت عظمیٰ کے رجسٹرار ڈاکٹر فقیر حسین نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ جسٹس بھگوان داس کے اہل خانہ کو انڈیا میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔

سارک قوانین کے تحت پاکستان کی عدالت عظمٰی کے ججوں کو انڈیا میں داخلے کے لیئے ویزے کی ضرورت نہیں ہے مگر ان کے اہل خانہ کے لیئے ضروری ہے کہ وہ ویزا حاصل کریں۔

جسٹس بھگوان داس کے بھائی اشوک داس نے جو جسٹس داس کے ساتھ انڈیا جا رہے تھے اس بات کی تصدیق تو کی کہ انھیں بھارت نہیں جانے دیا گیا مگر یہ نہیں بتایا کہ ان کے پاس انڈیا کا ویزہ تھا یا نہیں۔

جسٹس بھگوان داس کو انڈیا کی ریاست اتر پردیش کے شہر لکھنؤ جانا تھا اور وہ امرتسر سے براستہ سڑک لکھنؤ جانا چاہتے تھے۔

انڈین اخبار ’ٹریبیون‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق جسٹس بھگوان داس نے بھارتی حکام سے ان کے اہل خانہ کو بھارت میں داخلے کی استدعا کی مگر حکام نے ان کی درخواست مسترد کر دی۔

واہگہ بارڈر پر آئے ہوئے انڈیا کی عدلیہ کے اعلیٰ حکام نے بھی جسٹس بھگوان داس کے اہل خانہ کو انڈیا میں داخلے کی اجازت دینے سے متعلق انڈین اعلیٰ حکام سے بات کی مگر ان کے اہل خانہ کو انڈیا جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔

 
 
اسی بارے میں
’جج کیوں کسی سے کم رہیں‘
26 February, 2005 | پاکستان
سپریم کورٹ کے لیے پانچ نئے جج
14 September, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد