BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 03 April, 2006, 18:31 GMT 23:31 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حرکت العالمی کا رکن گرفتار
 

 
 
کراچی پولیس
پولیس کے مطابق ملزم کے پاس سے پستول، کلاشنکوف اور دستی بم برآمد ہوئے ہیں
کراچی پولیس نے شدت پسند تنظیم حرکت العالمی کے انتہائی مطلوب ملزمان میں سے ایک کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

سی آئی ڈی پولیس کا کہنا ہے جنید عرف جبران عرف جمشید کو پیر کے روز اس وقت گلستان جوہر سے گرفتار کیا گیا جب وہ ایک موٹر سائیکل پر اپنے ساتھی احسان کے ہمراہ اسلحہ منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

ملزم کو جب روکنے کی کوشش کی گئی تو اس نے فائرنگ کی۔ جوابی فائرنگ کے بعد ملزم جنید کو گرفتار کرلیا گیا جبکہ اس کا ساتھی فرار ہوگیا۔

سی آئی ڈی کے مطابق جنید عرف جبران کے کٹ بیگ سے ایک پستول،
ایک کلاشنکوف اور دو دستی بم برآمد ہوئے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جنید عرف جبران کامران عاطف کا ساتھی ہے جسے مئی دو ہزار چار کو کراچی میں مقابلے کے بعد زخمی حالت میں گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا ماننا ہے کہ اس مقابلے کے دوران جنید فرار ہوگیا تھا۔

کامران عاطف پر امریکی قونصیلٹ پر خودکش حملے اور صدر پرویز مشرف پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام تھا۔

سی آئی ڈی کے مطابق جنید افغانستان سے تربیت یافتہ ہے اور بم بنانے کا ماہر ہے۔ ملزم نے اپنے دیگر ساتھیوں کی مدد سے مرینہ کلب میں سال نو کی رات کار میں بم دھماکہ کیا تھا۔ جبکہ شہر میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر دستی بموں سے حملے میں بھی وہ ملوث ہے۔

واضح رہے کہ سندھ حکومت نے فرقہ واریت اور دہشتگردی میں ملوث چوبیس ملزمان کی گرفتاری پر ایک کروڑ بیس لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے۔

ملزمان میں سے دو کا تعلق القاعدہ، آٹھ کا جنداللہ گروپ، چار کا حرکت العالمی اور آٹھ کا لشکر جھنگوی سے ہے۔ کراچی پولیس ان ملزمان میں سے صرف چند کو ہی گرفتار کرنے میں کامیاب ہوسکی ہے۔

انتہائی مطلوب ملزمان میں جنید عرف جبران بھی شامل ہے، جس کی گرفتاری پر پانچ لاکھ روپے انعام مقرر تھا۔

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ یہ انتہائی مطلوب ملزم کور کمانڈر کے قافلے پر حملے، امریکی قونصلیٹ پر خودکش حملے، پی اے سی سی، ٹرینٹی چرچ، بم دھماکوں گلستان جوہر تھانے پر حملے اور علماء کے قتل میں ملوث ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
کراچی دھماکے کا ایک ملزم رہا
24 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد