BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 04 April, 2006, 09:06 GMT 14:06 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
سائیں بابا کا مزار
 

 
 
بھٹو کے مزار پر چاروں صوبوں سے گروپوں کی شکل میں لوگ آتے رہتے ہیں
بھٹو کے مزار پر چاروں صوبوں سے گروپوں کی شکل میں لوگ آتے رہتے ہیں
بابر علی ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے پندرہ برس بعد گڑھی خدابخش میں پیدا ہوا۔ اس نے اپنے گھر کے باہر کچی منڈیر پر کرکٹ کے بلے کے زور پر کھڑے کھڑے یہ داستان سنائی۔

ذوالفقار علی بھٹو بادشاہ تھا اس لیئے وہ یہاں رہتا تھا۔ ضیالو (ضیا الحق) بھٹو صاحب کا نوکر تھا۔ ایک دن بھٹو صاحب دورے پر گیا تو اس نے ضیالو کو اپنے تخت پر بٹھا دیا۔ جب بھٹو صاحب واپس آیا تو اس نے ضیالو سے کہا کہ تم اترو۔ ضیالو نے کہا کہ میں نہیں اتروں گا۔اس لیئے جھگڑا ہوا تخت پر اور بھٹو صاحب کو پھانسی آ گئی۔ اس کے بعد ضیالو نے کہا کہ بھٹو صاحب کو کفن نہیں پہنانا ہے۔ پھر یہاں بہت سی پولیس اور فوج آ گئی اور بھٹو صاحب کو انکے قبرستان میں پور دیا گیا۔ یہ سب میں نے ٹی وی پر دیکھا ہے۔میں نے گیارہ سالہ بابر علی سے پوچھا کہ تمہیں یہ کہانی کس نے سنائی۔ کہنے لگا میں نے ٹی وی پر بس اتنا ہی دیکھا ہے۔ میں نے پوچھا کیا تم بھی بھٹو ہو کہنے لگا میری قوم تو قنبر ہے۔ اسکے بعد بابر علی بیٹ گھماتا ہوا ان بچوں میں شامل ہوگیا جو بہت دیر سے اسے اشارے کررہے تھے۔

منٹھار علی اپنی ملازمت چھوڑ کر مزار پر آ بیٹھا

بابر علی کے گھر سے کوئی پچاس گز کے فاصلے پر میر اختیار خان کی پرانی سی حویلی ہے۔ میر اختیار خان کی عمر ستر برس کے لگ بھگ ہے اور رشتے میں وہ ذوالفقار علی بھٹو کے بھتیجے ہیں۔ وہ اسی حویلی میں رہتے ہیں جس میں کبھی ذوالفقار علی بھٹو کے دادا میر مرتضی خان رہتے تھے۔

گڑھی خدا بخش میں اکیلے رہ جانے والے میر اختیار خان بھٹو چار اپریل انیس سو انہتر کے دن فوج کے پہرے میں لائی جانے والی بھٹو صاحب کی لاش کو تابوت سے نکالنے والے تین افراد میں شامل تھے۔ لاش کو چارپائی پر ڈال کر حویلی میں لایا گیا جہاں فوج نے بھٹو خاندان کی قریبی خواتین کے علاوہ گاؤں کے کسی فرد کو اندرجانے کی اجازت نہیں دی۔ ہر طرف خاردار تاریں لگا دی گئی تھیں اور بار بار زور دیا جارہا تھا کہ لاش کو جلداز جلد دفنا دیا جائے۔اس وقت کے ڈپٹی کمشنر لاڑکانہ شاہد عزیز صدیقی کسی طرح فوجیوں کو یہ سمجھانے میں کامیاب ہوگئے کہ کوئی گڑبڑ نہیں ہوگی۔اس یقین دہانی کے بعد فوجیوں نے بھٹو خاندان کے آدمیوں کو نجی طور پر تجہیزوتکفین کی اجازت دے دی۔اسکے بعد بھی گاؤں میں کئی ہفتے تک فوج اور پولیس کا پہرہ لگا رہا۔ کسی کو بھی کئی روز تک صبح دس بجے کے بعد کھیتوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی تھی۔

 لوگ نرینہ اولاد کی دعا مانگنے کے لیئے بھی حاضری بھرتے ہیں اور منت پوری ہونے پر دیگیں اور بکرے لے آتے ہیں۔ شادی شدہ جوڑے بھی آتے ہیں اور جن لڑکے لڑکیوں کی شادی نہیں ہوتی وہ بھی سائیں کی حاضری میں آتے ہیں۔
 

میر اختیار خان بھٹو نے بتایا کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے دو تین برس کے اندر یہ گاؤں بھٹو برادری سے خالی ہوگیا۔کوئی لاڑکانہ شفٹ ہوگیا تو کوئی کراچی۔ میرے بیٹے نے بھی مجھ سے کہا کہ اب یہاں کیا رکھا ہے۔ لیکن میں اس شرم میں یہاں سے نہیں ہلتا کہ دنیا کیا کہے گی۔ کیا گڑھی خدابخش اس لیئے ہے کہ یہاں بھٹو خاندان کا ہر آدمی تدفین کے وقت ہی لایا جائے۔اور پھر میں خود کو انکی املاک کا امانت دار بھی سمجھتا ہوں۔ جب دفن یہیں ہونا ہے تو پھر یہاں سے کہیں اور کیا جانا۔

گڑھی خدا بخش کی آبادی ڈھائی تین ہزار کے لگ بھگ ہے۔ پانچ سو کے قریب کچے پکےگھر ہیں۔گاؤں کے تقریباً وسط میں سیم کے پانی سے بنا ہوا ایک بڑا سا جوہڑ ہے۔جس کے آس پاس کے کھلے علاقے میں بچے کھیلتے رہتے ہیں۔

میں نے اختیار خان بھٹو سے پوچھا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے اس گاؤں کے لیئے کیا کیا۔ کچھ نہیں کیا، ڈرینج اور سیوریج کا نظام، سکول ، ہسپتال سب بے نظیر کے دور میں بنا۔ جب کبھی بھٹو صاحب ہمارے گھر آتے تھے تو ہم اس سے مذاق مذاق میں پوچھتے کہ تم نے تو سارے ملک کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ یہاں کا ٹھیکہ کب اٹھاؤ گے۔اسکا جواب ہوتا کہ ابھی میرے پاس ٹائم ہے۔میں چاہتا ہوں کہ دوسرے علاقوں کی ترقی شروع ہوجائے پھر یہاں بھی بہت کچھ ہوجائے گا۔ ورنہ دنیا کہے گی کہ یہ بھی دوسروں جیسا ہے۔ہم اسکی یہ بات سن کر چپ ہوجاتے لیکن آپ کو بھی پتہ ہے کہ اسے کتنا وقت مل سکا۔

اختیار علی ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے بھٹو کی میت کو تابوت میں سے نکالا تھا

شیخ غلام نبی چوبیس برس سے سبز چوغہ پہنے یہاں کی جھاڑو لگا رہا ہے۔اسکے چوغے پر جئے بھٹو سفید رنگ کی کڑاہی سے لکھا ہوا ہے۔سائیں یہ لال رنگ کی چادر بابا سائیں کے لیئے قلندر شہباز کے روضے کا تحفہ ہے۔یہ کہتے ہیں غلام نبی نے قبر سے چادر پلٹ دی۔
In loving memory of Quaid-e-Awam Zulfiqar Ali Bhutto,son of Sir Shahnawaz Khan Bhutto,President and Prime Minister Islamic Republic of Pakistan,born January 5th 1928,Martyered April 4th 1979.A poet and a revolutionary.

لمبے چوڑے زیرِ تعمیر ہال میں یہ تحریر سنگِ مرمر کی جس قبر پر کندہ ہے۔اسکے سرھانے ایک نوجوان رحل پر قرآنِ پاک کھولے سورہ رحمان کی باآواز تلاوت کررہا ہے۔

اس قبر کو ذوالفقار علی بھٹو کے دادا میر مرتضی خان، والد سر شاہنواز خان، والدہ خورشید بیگم، اہلیہ امیر بیگم اور بیٹے میر مرتضی اور شاہنواز کی قبروں نے گھیرا ہوا ہے۔

غلام نبی جاروب کش نے بتایا کہ جب بے نظیر پہلی دفعہ وزیرِ اعظم بنیں اور بابا سائیں کے مزار کا کمپلیکس بنانے کا سوچا تو مسئلہ یہ تھا کہ اس قبرستان کے اردگرد جو گھر ہیں انکا کیا کیا جائے۔چنانچہ کوئی سو گھروں کے کنبوں کو ساری سہولتیں دے کر ایک نئی کالونی میں بسایا گیا جس میں میرا گھر بھی شامل ہے۔اور اب اس کمپلیکس کا رقبہ کوئی بیس ایکڑ کے لگ بھگ ہے تاکہ برسی کے دن آنے والوں کو تنگی نہ ہو۔

منٹھار علی کو دس برس پہلے ایک دن جانے کیا سوجھی کہ جامشورو یونیورسٹی کی ملازمت چھوڑ کر ذوالفقار علی بھٹو کے مزار کے صدر دروازے پر بیٹھ گیا اور پھول اور چادریں بیچنا شروع کردیں۔اس نے بتایا کہ برسی کے علاوہ بھی روزانہ کوئی نہ کوئی گروپ پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں سے آتا رہتا ہے۔کئی لوگ نرینہ اولاد کی دعا مانگنے کے لیئے بھی حاضری بھرتے ہیں اور منت پوری ہونے پر دیگیں اور بکرے لے آتے ہیں۔ شادی شدہ جوڑے بھی آتے ہیں اور جن لڑکے لڑکیوں کی شادی نہیں ہوتی وہ بھی سائیں کی حاضری میں آتے ہیں۔

میں نے منٹھار علی سے کہا کہ تم نے ایک اچھے بھلے سوٹ ٹائی والے سیاستداں کو بعد ازمرگ پیر کا چوغہ پہنا دیا۔

سائیں ایسا نہ کہیں۔گناہ مت کمائیں۔ابھی مجھے بتائیں کہ ضیاالحق کی قبر پر بھی کیا کوئی منٹھار علی بیٹھا ہے۔ کیا وہاں بھی لوگ پھول لے کر اولاد اور شادی کی منت ماننے جاتے ہیں۔آپ کیسی بات کرتے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 
 
اسی بارے میں
’بھٹو ضیا کے پہلے قیدی تھے‘
04 April, 2005 | قلم اور کالم
نصرت بھٹو کی یادداشت ختم
19 October, 2005 | پاکستان
تضادات سے بھرا انسان
04 April, 2005 | پاکستان
ہیرو اور اینٹی ہیرو
06 January, 2006 | قلم اور کالم
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد