BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 09 April, 2006, 13:32 GMT 18:32 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
محفلِ میلاد میں بھگدڑ، 29 ہلاک
 

 
 
کراچی میں بھگدڑ
محفلِ میلاد میں بھگدڑ سے پچاس خواتین زخمی ہوئی ہیں
کراچی میں عید میلادالنبی کے موقع پر منعقد ہونے والی میلاد کی محفل میں بھگدڑ مچ جانے سے انتیس عورتیں اور بچے ہلاک اور پچاس زخمی ہوگئے ہیں۔

ہلاک ہونے والوں میں چوبیس خواتین اور پانچ بچے شامل ہیں۔

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب اتوار کی شام مقامی وقت کے مطابق پونے پانچ بجے کراچی کے مرکزی علاقے سبزی منڈی کے قریب واقع فیضان مدینہ مسجد میں منعقد ہونے والی خواتین کی محفلِ میلاد کے اختتام پر باہر نکلنے کے دوران بھگدڑ مچ گئی۔

بھگدڑ اس وقت مچی جب خواتین محفلِ میلاد کے اختتام پر مسجد کے داخلی راستے سے باہر جا رہی تھیں۔ مسجد سے باہر نکلتے وقت ایک لڑکی گر پڑی اور اس کے بعد خواتین میں افرا تفری پھیل گئی۔

دعوت اسلامی کے زیر اہتمام فیضان مدینہ مسجد کی ترجمان عبدالقادر کے مطابق ہر اتوار کو یہاں خواتین کا اجتماع ہوتا ہے۔ عید میلاد النبی کی وجہ سے اس مرتبہ یہ اجتماع بڑا تھا جس میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین اور بچے شریک تھے۔

مرنے والوں میں چھوٹے بچے بھی شامل ہیں

انہوں نے بتایا کہ مسجد سے نکلنے کا صرف ایک راستہ ہے گرمی اور رش کی وجہ سے ایک خاتون گرگئیں اور شور مچ گیا جس وجہ سے خواتین میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسجد کے باہر شامیانے بھی بھگدڑ کے درمیان خواتین کے اوپر گرگئے اور دیگر خواتین شامیانوں کے نیچے دب جانے والی عورتوں کے اوپر سےگزرتی رہیں۔

ایک زخمی عورت کے بھائی نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ ان کی دو بہنیں اس اجتماع میں تھیں،جیسے ہی بھگدڑ مچی تو وہ بھی گر کر زخمی ہو گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ انہیں موبائل پر اطلاع ملی جس کے بعد وہ وہاں پہنچ گئے اور زخمی بہن کو ہسپتال لے آئے۔

بھگدڑ میں ہلاک ہونے والوں میں سے اٹھارہ خواتین اور چار بچیوں کی لاشیں لیاقت نیشنل ہسپتال جبکہ ایک بچے سمیت چھ خواتین کی لاشیں جناح ہسپتال میں لائی گئیں ہیں۔

اس حادثے میں زخمی ہونے والوں کو لیاقت نیشنل ،جناح اور دیگر نجی ہسپتالوں میں پہنچایا گیا ہے جبکہ سرکاری ہسپتالوں میں بھی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد