BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 April, 2006, 18:51 GMT 23:51 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’کیمرے کے ساتھ تمہیں بھی توڑ دونگا‘
 

 
 
عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ اجتماع کے لحاظ سے سکیورٹی کے انتظامات مناسب نہیں تھے۔
نشتر پارک میں دھماکے کی اطلاع ملنے کے بعد میں جیسے ہی جناح ہسپتال پہنچا تو ہزاروں کا مجمع تھا جو مین گیٹ سے لیکر شعبۂ حادثات تک جمع تھا۔

ریکارڈنگ کے لئے میں اپنے بیگ سے منی ڈسک اور مائیک لیکر آگے بڑھا تو ایمرجنسی کے گیٹ پر چار پانچ ہاتھوں نے مجھے پکڑ لیا اور سرخ ٹی شرٹ پہنے ہوئے ایک نوجوان نے جس کی آنکھیں بھی سرخ ہو رہی تھیں مجھ سے مخاطب ہوکر کہا ’یہاں سے چلے جاؤ نہیں تو تمہارے کیمرے کے ساتھ تمہیں بھی توڑ دونگا۔‘

صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئےمیں وہاں سے ہٹ گیا اور ایک طرف کھڑا ہوگیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد کراچی کی سٹی نائب ناظمہ نسرین جلیل پہنچ گئیں۔ وہ بھی اندر جانے سے گھبرا رہی تھیں حالانکہ چار پانچ اہلکار حفاظت کے لئے ان کے ساتھ تھے۔

مشتعل لوگوں نےشعبہ ایمرجنسی کے گیٹ پر قابض ہونے کے بعد سٹریچر جمع کرنا شروع کردیئے اور کئی سٹریچر باہر لاکر رکھ دیئے۔ جیسے ہی کوئی ایمبولینس وہاں پہنچتی لوگ ’اللہ اکبر’ اور ’یااللہ مدد’ کے نعرے بلند کرتے۔

جب کسی زخمی کو ایمرجنسی میں لایا جاتا تو اسے دس بارہ افراد گھیرے میں لیکر اندر لے جاتے۔ زخمیوں میں کئی خون میں لت پت تھے اور کئی کے آدھے جسم پر کپڑے بھی موجود نہیں تھے۔

متشعل افراد کے ایک گروہ نے وہاں موجود پولیس اہلکاروں کو خبردار کیا کہ ان کی خیریت اسی میں ہے کہ وہ یہاں سے چلے جائیں۔ ’ہم خود حالات کوسنبھال لیں گے۔‘

اس دوران ایک نوجوان نے کہا’ اس وقت تم کہاں تھے جب ہمارے قائدین پر حملہ ہوا تھا اب کیوں آئے ہو۔‘

جب زخمیوں کو ہسپتال لایا جاتا
مشتعل لوگوں نےشعبہ ایمرجنسی کے گیٹ پر قابض ہونے کے بعد سٹریچر جمع کرنا شروع کردیئے اور کئی سٹریچر باہر لاکر رکھ دیئے۔ جیسے ہی کوئی ایمبولینس وہاں پہنچتی لوگ ’اللہ اکبر’ اور ’یااللہ مدد’ کے نعرے بلند کرتے۔

ایمبولینس میں آنے والی لاشوں اور زخمیوں کو ہر کوئی دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کہیں ان میں ان کا کوئی ساتھی یا رشتہ دار تو نہیں۔ مگر ایک گروہ کی ایمرجنسی گیٹ پر موجودگی کی وجہ سے وہ اس میں کامیاب نہیں ہو رہے تھے۔

لوگ تڑپ رہے ہوں یا کراہ رہے ہوں مگر صحافی اپنا فرض نبھانے میں مصروف رہتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ فوٹو گرافر اور ٹی وی چینل کے کیمرہ مین کر رہے تھے۔ مگر انہیں سختی سے کہا گیا کوئی تصویر نہ بنائے اور نہ ہی ریکارڈنگ کی جائے۔ اس کے بعد ہسپتال کے باہر موجود صحافی ٹیلیفون پر اپنے دفاتر کواپ ڈیٹ کرتے رہے۔

دھماکے کے بعد ہلاک ہونے والوں کی صحیح معلوم کرنے کے لئے ہر ادارے کی جانب سے حکام کو ٹیلیفون کئے گئے مگر پولیس افسران کے موبائل فون بند پڑے تھے۔

نشتر پارک میں دھماکے سے قبل ایم اے جناح روڈ سے ہزاروں لوگ مذہبی کیسٹیں بجاتے ہوئے گذر رہے تھے۔ حیرت انگیز بات ہے کہ جتنے لوگ عیدِ میلاد کی وجہ سے جمع تھے اس حساب سے سیکیورٹی کا انتظام نہیں تھا۔ صرف چند مذہبی رہنماؤں کے ساتھ گارڈ موجود تھے۔

جناح ہسپتال کے باہر موجود ایک نوجوان نے انتظامیہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب صدر مشرف کراچی آتے ہیں تو پورا شہر سیل ہوجاتا ہے مگر اتنے بڑے اجمتاع کے لئے کوئی حفاظتی انتظام نہیں کئے گئے تھے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد