BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 12 April, 2006, 00:42 GMT 05:42 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی:سبھی عدم تحفظ کا شکار
 

 
 
مشتعل ہجوم نے ہسپتالوں کے عملے کو بھی دھمکیاں دیں۔
کراچی کے نشتر پارک میں بم دھماکے کے بعد میڈیکل سٹاف، فائر بریگیڈ کے ملازمین اور پولیس کے اہلکار خود عدم تحفظ کا شکار ہوگئے ہیں۔

مشتعل ہجوم نے جناح ہسپتال اور لیاقت نیشنل ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور کئی املاک اور گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے بعد جانے والی فائر برگیڈ کو جلایا۔

جناح ہسپتال کے شعبہ حادثات کی سربراہ ڈاکٹر سیمی جمالی نے بی بی سی کو بتایا کہ جب وہ شعبہ ایمرجنسی میں پہنچیں تو وہاں پہلے ہی ایک بڑا مجمع موجود تھا۔

لوگوں نے ہسپتال میں ہنگامہ کیا مگر سکیورٹی ایجنسیز اور فورسز کا کوئی اہلکار ہسپتال کے عملے کو تحفظ دینے کے لیے موجود نہیں تھا۔

ڈاکٹر جمال نے بتایا کہ انہوں نے گورنر اور وزیر اعلیٰ ہاؤس رابطہ کرکے اپیل کی کہ ہسپتال میں فوج یا رینجرز کو تعینات کیا جائے تاکہ ڈاکٹر اور نرسیں کام کر سکیں۔

ان کے مطابق ہسپتال میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تھی، تمام ڈاکٹر اور نرس سٹاف موجود تھے مگر سکیورٹی کے حوالے سے ان کے پاس کچھ نہیں تھا۔ ڈاکٹر جمالی نے کہا کہ اتنا خوف تھا کہ وہ بات بھی نہیں کرسکتے تھے۔

دوسری جانب دھماکے کے بعد جیسے ہی فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی نشتر پارک پہنچی تو مشتعل لوگوں نے اس کو بھی نذر آتش کردیا، جبکہ صدر میں واقع فائر بریگیڈ کے دفتر پر کچھ لوگوں نے دھاوا بول دیا اور عملے کو تشدد کا نشانہ بنایا جس کے بعد گاڑیاں اور املاک جلنے کی اطلاعات آتی رہیں مگر فائر بریگیڈ کی گاڑی نہیں بھیجی گئی۔

کراچی کے فائر چیف کاظم نے بتایا کہ ’ہمیں کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا، فائر بریگیڈ کی ایک گاڑی ڈیڑھ سے دو کروڑ مالیت کی ہے جسے جلایا گیا‘۔

انہوں نے کہا عدم تحفظ کی اس صورتحال میں ممکن نہیں تھا کہ ہم جاسکیں۔
بعد میں پولیس موبائیل کی نگرانی میں فائر بریگیڈ کی گاڑیاں روانہ کی گئیں۔ جناح ہسپتال میں مشتعل لوگوں کی دھمکیوں کے بعد پولیس بے بس ہوکر رہ گئی جو بعد میں ایک کونے میں کھڑی ہوگئی اور رینجرز آنے کے بعد ان کا مورال بلند ہوا۔

سندھ کے وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم نے ایک نجی چینل سے بات کرتے ہوئے لوگوں کو پر امن رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے لوگوں کو کہا کہ وہ ڈسپلین کا مظاہرہ کریں ۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد