http://www.bbc.com/urdu/

Monday, 17 April, 2006, 14:37 GMT 19:37 PST

علی حسن
بی بی سی اردو ڈاٹ کام حیدرآباد، سندھ

کیفے جارج: کوئی مال بننے والا ہے؟

سندھ کے شہر حیدرآباد کے بیچوں بیچ واقع پرانا کیفےجارج پچپن سال بعد بند ہوگیا۔ یہ ایرانی النسل بہائی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا آخری چائے خانہ ہی نہیں تھا بلکہ دو کمروں میں بڑے خاندانوں کے ساتھ رہنے والوں کی بھی جائے پناہ تھی۔

اس سے قبل اس قبیلے کے لوگ سابق ریڈیو پاکستان کی ہوم سٹیڈ ہال چاڑی پر واقع عمارت کے نزدیک واقع کیفے تہران میں رہائش پذیر تھے۔ اسی کیفے میں بیٹھ کر اپنے وقت کے نامور فلمی اداکار محمد علی نے صداکاری کے گر سیکھے تھے۔

یہاں چاڑی پر قائم کیفے لبرٹی ، کیفے یونیٹی ، چھوٹی گٹی جانے والی سڑک کے کونے پر قائم کیفے کورونیشن ، تھانہ صدر کے سامنے واقع کیفے مہربان، لطیف آباد یونٹ سات میں قائم کیفے آکسفرڈ، سابق سنیما ہاؤس شاہین سنیما کے سامنے واقع کیفے سن ویو، ہوٹل شیراز، کیفے آریا مہر جیسے درجنوں چائے خانے ہوا کرتے تھے جو وقت کی گردش کے ساتھ آہستہ آہستہ ایک کے بعد ایک کر کے بند ہوتے چلے گئے۔ حیدرآباد کے یہ ٹھکانے کراچی کے کیفے ٹیریا اور لاہور کے ٹی ہاؤس جیسا درجہ رکھتے تھے۔

یہ چائے خانے سندھی زبان کے اکثر ادیبوں، دانشوروں، شعراء، محققین، سیاسی کارکنوں اور طلبا رہنماؤں کے لیےاوطاق، اردو زبان بولنے والوں کے لیے بیٹھک، کاٹھیاواڑی کاروباری حضرات، دوکانداروں اور تاجروں وغیرہ کے لیے ٹھیے کا درجہ رکھتے تھے ۔

یہ ٹھکانہ ایسا تھا کہ جہاں خالی جیب کے ساتھ آنے والے بھی گھنٹوں بیٹھ کر اپنا وقت خوش گپیوں میں گزار لیا کرتے تھے اور کوئی کسی پر بار نہیں ہوتا تھا۔

ان کیفوں اور ہوٹلوں میں اپنے وقت کے مشہور افسانہ نگاروں نے افسانے لکھے، سنائے اور داد حاصل کی۔ شاعرون نے غزلیں، گیت اور نظمیں لکھیں جو آج بھی لوگوں میں ادب کا ذخیرہ قرار دی جاتی ہیں ۔

یہ صرف چائے ہی نہیں تھے
 یہ چائے خانے سندھی زبان کے اکثر ادیبوں، دانشوروں، شعرا، محققین، سیاسی کارکنوں اور طلبا رہنماؤں کے لیےاوطاق، اردو زبان بولنے والوں کے لیے بیٹھک، کاٹھیاواڑی کاروباری حضرات، دوکانداروں اور تاجروں وغیرہ کے لیے ٹھیے کا درجہ رکھتے تھے
 

حمایت علی شاعر نے انہی میں سے کسی ایک کیفے میں بیٹھ کر مشہور فلم آنچل کا گانہ ’کسی چمن میں رہو تم بہار بن کر‘ لکھا جسے احمد رشدی نے گا کر فلمی نگار ایوارڈ ان کی جھولی میں ڈال دیا۔ ممتاز افسانہ نگار قدیر غوثی، صحافی رشید نیاز اور سید نایاب حسین، نیاز ہمایونی، اختر انصاری اکبرآبادی جیسے لوگوں ہی کے دم سے ہی یہ ہوٹل آباد تھے۔

شیخ ایاز نے یہیں کہیں بیٹھ کر شاہ سائیں عبداللطیف بھٹائی کے شاہ جو رسالو کا اردو ‍زبان میں ترجمہ کا آغاز کیا تھا۔ مولانا غلام محمد گرامی یہیں کہیں بیٹھ کر اپنے سہ ماہی رسالہ مہران کے لیے مضامین کی قطع برید کیا کرتے تھے۔ مبارک علی، محسن بھوپالی، منیر مانک، مدد علی سندھی ، امداد حسینی، عبدالقادر جونیجو اور بہت سارے لوگ جو بڑی نامی گرامی شخصیات ہیں، کبھی ان ہی ہوٹلوں کی زینت ہوا کرتے تھے۔

ان کی دانش یہیں چائے کی گرم گرم پیالیوں کے ساتھ پرورش پا رہی تھی۔ کیا وقت تھا، کیا دور تھا۔ نظر لگ گئی یا چیل تا‍زہ گوشت سمجھ کر ہاتھوں سے لے اڑی۔ اب تو اوطاق رہی نہ بیٹھک۔ اب تو ادیب و شاعر بھی ادب اور شعر قالینوں سے مزیں ائرکنڈیشنڈ کمروں میں اسی طرح تخلیق کرنے لگے ہیں جس طرح بڑے بڑے بنگلوں میں بیٹھ کر سیاست دان سیاست کرنے لگے ہیں۔ دونوں کا عام آدمی سے رشتہ ٹوٹ سا گیا ہے۔ یہ رشتہ کیا ٹوٹا، عوام کا اعتماد ہی اٹھ گیا۔

عوام، رشتہ اور اعتماد ایک علیحدہ کہانی کا عنوان ہیں۔ بات تو کیفے جارج کی ہو رہی تھی۔ شہر کے عین وسط میں جس جگہ ہوش محمد شیدی روڈ تلک چاڑی سے ملتی ہے، وہاں کیفے جارج واقع تھا۔ کسی بلڈر کی نظر اس جگہ کو بھی کھا گئی۔ ان ہی لوگوں کی نظریں اور بھاری جیبیں شہر کے تئیس میں سے بیس سنیما گھر کھا چکی ہیں۔ تہذیب و ثقافت تو بہت پہلے منہ موڑ چکیں، اب تفریح بھی ہاتھ سے گئی۔

ہر خوبصورت ‏عمارت کو بلڈرنگل گئے
 اس شہر کی ہر خوبصورت ‏عمارت کو بلڈرخاموشی سے نگل گئے۔ شہر کے نام نہاد ترقیاتی ادارے اور انتظامیہ کے افسران کے ساتھ ساتھ حکومت کے ذمہ دار عوامی نمائندے خاموش تماشائی بنے رہے۔ بعض نے تو بہتی گنگا سے خود بھی ہاتھ خوب دھوئے
 

اس شہر کی ہر خوبصورت ‏عمارت کو بلڈرخاموشی سے نگل گئے۔ شہر کے نام نہاد ترقیاتی ادارے اور انتظامیہ کے افسران کے ساتھ ساتھ حکومت کے ذمہ دار عوامی نمائندے خاموش تماشائی بنے رہے۔ بعض نے تو بہتی گنگا سے خود بھی ہاتھ خوب دھوئے۔

ہیرا آباد کے خوبصورت مکانات کی جگہ دڑبے جیسے فلیٹ اس ظالمانہ روش کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ ابلتی نالیاں، جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، پینے کے پانی کی مسلسل عدم دستیابی، تنگ سڑکوں پر کاروں کا بڑھتا بوجھ بھی اسی صورتحال کا ایک اور تکلیف دہ رخ ہے ۔

بہر حال جہاں بہت ساری چھنتی ہوئی سہولتوں پر حیدرآباد کے شہریوں کا کبھی نہ ختم ہونے والا ماتم جاری ہے، اس میں مرگ کیفے جارج کا نوحہ بھی شامل ہو جائے تو ماتم کناں کی صحت پر پڑنے والے اثرات سے کسی کو کیا غرض۔