BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 08 May, 2006, 18:18 GMT 23:18 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
شمالی وزیرستان میں غالب کون؟
 

 
 
میران شاہ میں عمارتوں پرحالیہ لڑائی کی نشان دیکھے جا سکتے ہیں
شمالی وزیرستان کے صدرمقام میران شاہ میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کے پیش نظر پاکستانی سکیورٹی افواج سے برسرپیکار طالبان جنگجوؤں نے گزشتہ ہفتے یکطرفہ جنگ بندی کا اعلان کر دیا۔

دو مئی سے شروع ہونے والی جنگ بندی کا مقصد تبلیغی جماعت کے زیر اہتمام ہونے والے سالانہ اجتماع میں شرکت کرنے والوں کو سہولت بہم پہنچانا تھا۔

تبلیغی اجتماع تو سنیچر کے روز پرامن طور پر اختتام پذیر ہو گیا لیکن جنگ بندی کا اطلاق گیارہ مئی تک ہوگا۔

اس کے بعد کیا ہو گا اس کے بارے میں تو کوئی پیشن گوئی کرنا مشکل ہے لیکن میران شاہ کے ایک روزہ دورے کے دوران میں نے دیکھا کہ طالبان جنگجو اور مقامی افراد حالیہ دس دوزہ جنگ بندی کو مستقبل میں ممکنہ طور پر پیش آنے والی صورتِ حال کے لیئے تیار کر رہے ہیں۔

بنوں سے میران شاہ تک کے سفر کے دوران میں نے دیکھا کہ پاکستانی سیکورٹی دستے اپنے بنکروں کی تعمیرو مرمت میں مصروف تھے۔ وہ سکیورٹی دستے جو طالبان جنگجوؤں کے حملوں کے خطرے کے پیشِ نظر اپنے بنکروں سے نہیں نکلتے وہ ریت کی بوریاں رکھ کر اپنے بنکروں کو مزید مضبوط بنا رہے تھے۔

جنگ بندی کے نتیجے میں میران شاہ کے مرکزی بازار میں چہل پہل
جیسے ہی میں شمالی وزیرستان کے شہر میرعلی پہنچا، طالبان جنگجو شہر کے مرکزی بازار میں گشت کرتے ہوئے نظر آئے۔ جنگ بندی کی وجہ سے وہ بلا روک ٹوک فوجی چوکیوں کے پاس سے گزر رہے تھے۔

صرف سکیورٹی دستے ہی جنگ بندی کے ثمرات سے لطف اندوز نہیں ہو رہے تھے، مقامی طالبان بھی کافی خوش دکھائی دے رہے تھے اور خوشگوار مسکراہٹ نے ان کے چہرے پر ہر وقت موجود رہنے والے روایتی تناؤ کی جگہ لے لی تھی۔

تبلیغی مرکز کے نام سے جانی جانے والی اجتماع کا مقام میران شاہ کے مرکزی بازار سے صرف دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

اس سے پیشتر شمالی وزیرستان کے قبائلی علاقے میں باہر سے کسی گروپ کی آمد چند ہفتے پہلے اس وقت ہوئی تھی جب پاکستانی فوج غیر ملکی صحافیوں کو یہ دکھانے کے لیئے ہیلی کاپٹر پر یہاں لائی تھی کہ اسے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل ہے۔

اُس موقع پر پاک فوج کے ایریا کمانڈر میجر جنرل اکرم ساہی نے غیرملکی صحافیوں کو بتایا تھا کہ انہیں میڈیا میں یہ پڑھ کر انتہائی دکھ ہوتا کہ علاقے پر حکومت کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمارے لوگ ہر جگہ موجود ہیں۔‘

لیکن میں جب میران شاہ کے قریب واقع تبلیغی اجتماع میں پہنچا تو مجھے میجر جنرل اکرم ساہی کے لوگ تو کہیں نظر نہیں آئے لیکن خطرناک ہتھیاروں سے مکمل طور پر مسلح طالبان جنگجو بڑی تعداد میں ہر طرف پھیلے ہوئے نظر آئے۔

مرکزی اجتماع سے مشکل سے دو سو میٹر دور ایک نیلے ٹینٹ لگایا گیا تھا جس میں مقامی طالبان کی اعلیٰ قیادت براجمان تھی۔

جب میں ٹینٹ میں داخل ہوا تو میں دیکھا کہ وہاں طالبان کے رہنما حاجی عمر کئی دیگر کمانڈروں سے ساتھ موجود ہیں۔

تبلیغی اجتماع میں القاعدہ کے اتحادی گلبدین حکمت یار کے پوسٹر فروخت ہوتے رہے
انہوں نے ابھی ابھی شمالی وزیرستان میں حکومت کو سب سے زیادہ مطلوب طالبان کمانڈر مولوی صادق نور کو الوداع کیا تھا۔

ٹینٹ کی حفاظت پر معمور بعض طالبان جنگجو خود اپنے وزن سے زیادہ اسلحہ اور گولہ بارود اٹھائے ہوئے تھے۔

وہاں مجھے ایک نوجوان لڑکا جس کی عمر ابھی بمشکل پندرہ سال ہو گی گولیوں کی آٹھ میگزینوں اور چار گرینیڈوں سے مسلح نظر آیا۔

اِن میں سے زیادہ تر جنگجو شارٹ رینج وائرلیس سیٹ اٹھائے ہوئے تھے۔ مجھے وہاں موجود ایک طالبان جنگجو نے بتایا کہ جنگ بندی کے دوران کوئی انٹرویو یا فوٹو گراف نہیں ہو گا۔

طالبان جنگجوؤں میں گھِرے ٹیٹ میں بیٹھے ہوئے مجھے خوف بھی آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بغیر پائلٹ سے اڑنے والے امریکی جاسوسی جہاز سے داغے گئے میزائل کا نشانہ بن جاؤں۔

لیکن طالبان جنگجوؤں کو ایسا کوئی خوف نہیں تھا۔ بظاہر انہیں اپنی حفاظت پر موجود تبلیغی اجتماع کے ہزاروں شرکاء سے اپنے نظریاتی رشتے پر بہت یقین تھا۔

تاریخی طور پر تبلیغی جماعت کے اجتماعات میں کسی بھی طرح کی سیاسی نشان لانے کی ممانعت ہوتی ہے لیکن شمالی وزیرستان میں ایسا نہیں ہے۔ جیسے ہی تبلیغی اجتماع اختتام پزیر ہوا میں نے وہاں سینکڑوں شرکاء کو افغان کمانڈر گلبدین حکمت یار کے پوسٹر خریدتے دیکھا، جنہوں نے حال ہی میں افغانستان میں القاعدہ کے ساتھ مل کر امریکی فوج کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

جنگ بندی کے اعلان کے نتیجے میں کرفیو اٹھائے جانے سے میران شاہ کے مرکزی بازار میں بہت چہل پہل تھی۔

میران شاہ میں آپ جہاں بھی جائیں آپ کو کوئی نہ کوئی ایسا شخص ضرور ملے گا جو پاکستان سکیورٹی افواج سے نالاں ہو۔ مقامی افراد کھل کر فوج کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہیں۔

’یہاں رہنا کوئی آسان بات نہیں ہے‘، ایک دکاندار نے مجھے بتایا۔

’یہ بازار طلوعِ آفتاب کے ساتھ کھلتا تھا اور شام تک یہاں جم کر کاروبار ہوتا تھا۔ لیکن اب لوگ دوپہر کے قریب گھر سے نکلتے ہیں اور جلد از جلد گھر لوٹ جانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے اب صرف چند گھنٹے تک خریدوفروخت ہو سکتی ہے۔‘

جب میں نے ان سے پوچھا کہ کیا وہ طالبان کو بھی اس سلسلے میں برابر کا ذمہ دار نہیں سمجھتے تو انہوں نے کہا کہ ’نہیں، وہ تو مجاہدین ہیں جو امریکیوں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔ اگر انہیں چھیڑا نہ جائے تو وہ وزیرستان کے امن و امان کو خراب کیوں کریں گے؟‘

میران شاہ میں مجھے کوئی بھی اخبار نظر نہیں آیا۔ خبروں میں دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر کہے جانے پر طالبان کافی ناراض ہیں اور اسی وجہ سے انہوں نے حال ہی میں میرعلی میں اخباروں کو نذر آتش کیا تھا۔ اس کے بعد سے کوئی ٹرانسپورٹر بھی قبائلی علاقے میں اخبار لانے کو تیار نہیں ہے۔

صرف یہی نہیں زیادہ تر اخبار نویس اس وجہ سے صحافت کو خیرباد کہنے پر مجبور ہوئے کہ پشاور اور بنوں میں اپنے پبلشرز کو اس بات پر راضی نہیں کر سکے کہ وہ طالبان کو دہشت گرد اور سماج دشمن عناصر لکھنا بند کر دیں۔ اگر دنیا میں کہیں اور اخباروں کا داخلہ بند ہوتا تو اس بہت طوفان کھڑا ہوتا۔ لیکن یہاں میران شاہ میں اس کا سرسری ذکر بھی نہیں ہوا، جہاں لوگ بظاہر اس بات پر ہی خوش ہیں کہ وہ آزادانہ طور پر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا سکتے ہیں۔

انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہے کہ یہ ’آزادی‘ صرف گیارہ مئی تک ہی میسر ہے جب طالبان کی طرف سے اعلان کردہ جنگ بندی ختم ہو جائے گی۔

 
 
میران شاہ چوکی
ہمارے نامہ نگار ہارون رشید کی آپ بیتی
 
 
وزیرستان فوج قبائلی دلدل میں !
وزیرستان طالبان کے جال میں
 
 
لڑکیکھانےپینےکا مسئلہ
میران شاہ میں اشیائے خورد نوش کی قلت
 
 
میران شاہ میں فوجیہلاکتوں کی حقیقت
میران شاہ: لاشیں کہاں گئیں، وہ کون لوگ تھے؟
 
 
وزیرستان وزیرستان کا سچ
سرکار، قبائلی ملک اور ملا کا محتاج میڈیا
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد