BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 21 May, 2006, 07:50 GMT 12:50 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
قبائلی سردار، طالبان کی تفتیش
 

 
 
حکومت کے لیئے جاسوسی کے الزام میں ڈیڑھ سو افراد مارے جاچکے ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے کہا ہے کہ ان کی جانب سے حکومت سے رابطوں پر عائد پابندی کی خلاف ورزی کے الزام میں ڈیڑھ درجن قبائلی سرداروں کے نام زیر تفتیش ہیں۔

کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے ٹیلفون پر بات کرتے ہوئے، شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے کہا کہ انہوں نے پابندی کے باوجود قبائلی شخصیات کی جانب سے سرکاری اہلکاروں سے ملاقاتوں کے معملے کو سنجیدگی سے لیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس فہرست کے بارے میں مزید تفصیل بتانے سے گریز کیا۔

اس سلسلے میں ان کا کہنا تھا کہ مقامی طالبان کی شوریٰ دو اہم قبائلی سرداروں کی طرف سے پابندی کے فیصلے کی خلاف ورزی پر معافی سے متعلق جلد فیصلہ کرے گی۔ عبداللہ کے مطابق میر شیروف ایدرخیل اور نواب خان بوراخیل نے گزشتہ دنوں رزمک روڈ پر ہلاک ہونے والے مقامی طالبان جنگجوؤں کے جنازے کے موقع پر معافی طلب کی ہے۔

ترجمان کے بقول ان افراد نے پشاور میں گزشتہ دنوں صدر جنرل پرویز مشرف سے ایک جرگے میں ملاقات کا اعتراف کیا اور اسے اپنی ایک غلطی تسلیم کیا ہے۔ ان کے مطابق ان افراد کے بارے میں ان کی شوری جلد فیصلہ کرے گی۔

میر علی کے قریب درپہ خیل قبیلے کے سردار ملک طوطی گل کے قتل کے بارے میں جب مقامی طالبان کے ترجمان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے اس کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا تاہم کہا کہ اس واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

تاہم عبداللہ کا کہنا تھا کہ ملک طوطی گل کی ذاتی دشمنیاں بھی تھیں۔ ملک طوطی گل بھی ان قبائلی عمائدین میں شامل تھے جنہوں نے پشاور میں صدر مشرف سے جرگے میں ملاقات کی تھی۔

ملک میر شیروف ایدرخیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مقامی طالبان سے رابطوں کی تصدیق کی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جرگے میں علاقے سے فوج کے انخلاء جیسے مسئلہ پر ہی بات کی تھی۔

پہلے جنوبی اور اب شمالی وزیرستان میں کافی عرصے سے حکومت کے حمایت یافتہ ہونے یا امریکہ کے لیئے جاسوسی کے الزام میں ڈیڑھ سو قبائلی ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
’چوبیس طالبان ہلاک‘
15 July, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد