BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 26 May, 2006, 17:33 GMT 22:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
یروشلم میں جلاوطن حکومت: بلوچ تردید
 

 
 
یہ ویب سائیٹ بلاگ سپاٹ پر قائم کی گئی ہے
ایک ویب سائٹ نے بلوچستان کی جلاوطنی میں قائم کی گئی حکومت کی ویب سائٹ ہونے کا دعوٰی کیا ہے۔

سائٹ کے مطابق 18 اپریل 2006 کو کچھ بلوچ قوم پرستوں نے مل کر یہ حکومت قائم کی اور انٹرنیٹ پر اپنے ’سرکاری بلاگ‘ کے ذریعے دنیا کو اس سے روشناس کرایا۔

حکومت قائم کرنے والے ارکان کا نام یا ان کے بارے میں کوئی معلومات اس ویب سائٹ پر نہیں البتہ سائٹ کو چلانے والے شخص کا نام اور تعارف ضرور ہے۔

میر آزاد خان بلوچ نامی شخص کا دعوٰی ہے کہ وہ اس حکومت کے جنرل سیکریٹری ہیں اور ان کا صدر دفتر یروشلم اسرائیل میں ہے۔

البتہ جب بی بی سی نے ان سے رابطہ کرنا چاہا تو انہوں نے اسرائیلی فون نمبر کے بجائے ایک امریکی فون نمبر دیا اور اس کی وجہ یہ بتائی کہ انہوں نے امریکی نمبر رومنگ پر رکھا ہوا ہے تاکہ پاکستان اور ایران سے ان کے ساتھیوں کو اسرائیل کا نمبر نہ ملانا پڑے۔

بی بی سی کے اصرار اور اس وعدے کے باوجود کہ ان کا نمبر خفیہ رکھا جائے گا وہ یروشلم کا کوئی بھی نمبر دینے پر تیار نہ ہوئے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے صدر دفتر یروشلم میں اس لیے بنایا ہے کہ وہ خود وہاں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ کسی ایسے ملک میں دفتر نہیں بنانا چاہتے تھے جس کے پاکستان یا ایران سے سفارتی تعلقات ہوں اور ان کے کارکنوں کو خطرہ ہو۔

بلوچ رہنماؤں اختر مینگل اور شاہد بگٹی نے اس حکومت کی موجودگی سے لا علمی ظاہر کی ہے

ویب سائٹ پر ابتدًا ان کا تعارف ایک ’بلوچ یہودی‘ کے طور پر دیا گیا تھا اور صدر دفتر کی جگہ ’یروشلم، اسرائیل‘ لکھا تھا لیکن بی بی سی سے انٹرویو کے بعد سے اسے بدل کر ان کے تعارف کے طور پر ایک ’یہودی قوم پرست‘ اور صدر دفتر ’مشرق وسطٰی‘ لکھ دیا گیا ہے۔

میر آزاد خان بلوچ کا یہ بھی دعوٰی ہے کہ انہوں نے خان آف قلات کو اس حکومت کا بادشاہ نامزد کیا ہے لیکن انہوں نے اعتراف کیا کہ انہیں خان آف قلات کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا۔

انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا تمام خرچہ فی الحال ذاتی فنڈ سے چلایا جا رہا ہے اور انہیں اسرائیل کی حکومت کی طرف سے کوئی مدد نہیں مل رہی لیکن اگر اسرائیل کی حکومت ان کی مدد کرنا چاہے تو وہ ’بہت خوشی سے یہ مدد لیں گے کیونکہ ان کے مطابق ’بلوچ قوم دین کے قوائد سے آزاد ہے‘اور وہ پہلے بلوچ ہیں اور بعد میں مسلمان، ہندو، عیسائی یا یہودی۔

اسرائیل کی انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود کو عالمی سیاست سے الگ رکھا ہوا ہے، اسرائیل کے ’اندرونی معاملات‘ سے ان کا کوئی تعلق نہیں اور ان کا مقصد صرف بلوچ قوم کی آزادی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان پر پاکستان، ایران، اور افغانستان نے قبضہ کر رکھا ہے اور وہ خصوصًا پاکستان اور ایران سے بلوچ قوم کو آزاد کرانے کی جدوجہد میں مصروف ہیں۔ افغانستان، ان کے مطابق، دوست ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

پاکستان میں بلوچ رہنماؤں اختر مینگل اور شاہد بگٹی نے اس حکومت کی موجودگی سے لا علمی ظاہر کی ہے۔ دونوں رہنماؤں کے مطابق نہ تو کسی نے ان سے ایسی کسی حکومت کے قیام کے بارے میں رابطہ کیا ہے اور نہ ہی انہوں نے یہ ویب سائٹ دیکھی ہے۔

بلوچستان میں مبینہ آپریشن کے خلاف مظاہرے

البتہ جمہوری وطن پارٹی کے رہنما شاہد بگٹی نے اپنی پارٹی کی جدوجہد کے بارے میں کہا:
’ہماری جو بھی جدوجہد چل رہی ہے وہ نہ تو آزادی کی ہے اور نہ ملک کو توڑنے کی۔ ہماری جو بھی جدوجہد یہاں چل رہی ہے وہ خالصتًا بلوچستان کے سیاسی اور معاشی حقوق کے لیے چل رہی ہے‘۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس ویب سائٹ یا اس سے متعلق کوئی بھی بات کرنے سے پہلے انہیں مختلف امکانات پر نظر ڈالنی ہوگی:

’آج کل ویب سائٹ بنانا کوئی مشکل کام نہیں۔ پانچ یا دس ہزار پاکستانی روپوں میں کسی بھی نام سے آپ ویب سائٹ بنا سکتے ہیں‘۔

شاہد بگٹی نے کہا’ضروری نہیں ہے کہ یہ ویب سائٹ اصل ہو۔ ہو سکتا ہے کسی نے مذاق کے طور پر بنائی ہو، یا کسی ادارے نے بلوچستان میں جو جدوجہد چل رہی ہے اسے لوگوں کی نظروں میں خراب کرنے کے لیے اسے بنایا ہو‘۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اختر مینگل کے مطابق:
’یہ عجیب سی بات ہے کہ اس کا دفتر یروشلم اسرائیل میں ہے اور یہاں کی جو سیاسی پارٹیاں ہیں وہ اس سے لا علم ہیں‘۔

امریکہ میں بلوچستان سوسائٹی کے سربراہ ڈاکٹر واحد بلوچ نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ اس ویب سائٹ پر بلوچوں کی آزادی سے متعلق جو پیغام دیا گیا ہے اس کی پوری حمایت کرتے ہیں لیکن وہ اس ویب سائٹ کو قائم کرنے والے شخص یا مبینہ بلوچ حکومت کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔

 
 
اسی بارے میں
بلوچ ویب سائٹوں پر پابندی
27 April, 2006 | پاکستان
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد