BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 June, 2006, 13:25 GMT 18:25 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
عارضی جنگ بندی کا اعلان
 

 
 
طالبان نے جنگ بندی کے لیئے کڑی شرائط رکھی ہیں
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے اتوار کے روز ایک ماہ کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

شمالی وزیرستان میں کسی نامعلوم مقام سے ٹیلفون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس فیصلے کا اعلان مقامی طالبان کے ایک ترجمان عبداللہ فرہاد نے کیا۔

حکومت نے اس اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اسے اچھا شگون قرار دیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا کہ علاقے کے مسائل پرامن طریقے سے حل کرنے کی کوششوں کو اس اعلان سے مدد ملے گی۔

اس فیصلے کی وجہ مقامی طالبان کے بقول حکومت کے ساتھ جرگے کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے کی جاری کوششیں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آمدورفت کو محفوظ بنانے کی خاطر جرگے کا مطالبہ تھا کہ جنگ بندی کا اعلان کیا جائے۔

مبصرین شمالی وزیرستان میں گزشتہ چند ماہ سے امن عامہ کی بگڑتی صورتحال کے ایک طویل دور کے بعد اسے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

تاہم مقامی طالبان نے اس جنگ بندی کے لیئے حکومت کے سامنے کافی سخت شرائط رکھی ہیں۔

طالبان کی پہلی شرط یہ تھی کہ اس ایک ماہ میں فوجیوں کو چیک پوسٹوں پر سے ہٹا کر قلعوں تک محدود کیا جائے گا جبکہ اس مدت کے خاتمے پر فوج کو شمالی وزیرستان سے مکمل طور پر نکلنا ہوگا۔

جنگ بندی کے لیئے طالبان کی شرائط
مقامی طالبان نے حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں قائم کی جانے والی تمام نئی چیک پوسٹوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں صرف پرانی چوکیوں قابل قبول ہونگی جن پر صرف خاصہ دار تعینات ہوں گے۔ انہوں نے ایسی چوکیوں کی تعداد بیس سے بچیس تک بتائی۔

مقامی شدت پسندوں کی دوسری شرط حکومت کی جانب سے مقامی قبائلیوں کی مراعات، نوکریاں، تنخواہیں اور بند دوکانیں اور کاروبار دوبارہ بحال یا کھولنے ہوں گے۔

عبداللہ فرہاد کے مطابق اس ایک ماہ کے دوران حکومت کو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن کے دوران گرفتار قبائلیوں کو رہا بھی کرنا ہوگا۔

مقامی طالبان نے حالیہ دنوں میں شمالی وزیرستان میں قائم کی جانے والی تمام نئی چیک پوسٹوں کے خاتمے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں صرف پرانی چوکیوں قابل قبول ہونگی جن پر صرف خاصہ دار تعینات ہوں گے۔ انہوں نے ایسی چوکیوں کی تعداد بیس سے بچیس تک بتائی۔

ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ لڑائی وہ شوق کی خاطر نہیں لیکن مجبوری کی وجہ سے کر رہے تھے۔ ہتھیار اٹھانے کی وجہ انہوں نے حکومت کے ظلم کو قرار دیا۔

تاہم حکومت گزشتہ دو ماہ سے ایک گرینڈ جرگے کی تشکیل کو کوششوں میں مصروف ہے۔ گورنر سرحد لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ علی محمد جان اورکزئی کا کہنا تھا کہ جنگ بندی جرگے کی تشکیل کے لیئے پس پردہ کوششیں کا تنیجہ ہیں۔
’یہ جنگ بندی انہیں کوششوں کا بظاہر نتیجہ دیکھائی دیتی ہے۔ ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

تاہم گورنر کا طالبان کی شرائط کے بارے میں کہنا تھا کہ ان پر جرگے میں تفصیلی بات ہوگی اور وہ فی الحال اس بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے ہیں۔ ’جرگے میں ان تمام مسائل پر بات ہوگی۔‘

گورنر کا کہنا تھا کہ اس اچھے اقدام پر وہ بھی کسی مثبت اقدام کی صورت میں ضرور جواب دینگے۔

شمالی وزیرستان میں اس جنگ بندی کے اعلان سے توقع ہے کہ مقامی آبادی کو اطمینان کا سانس لینے کا موقع ملے گا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد