BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 August, 2006, 08:55 GMT 13:55 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ایم کیو ایم کی اہمیت
 

 
 
جنرل مشرف نے الطاف حسین سے بات چیت کے بعد معاملہ طے کرایا
متحدہ قومی موممینٹ (ایم کیوایم) اور صدر جنرل پرویز مشرف کے درمیان بات چیت میں بار بار رخنہ آنے کے باوجود بالآخر مصالحت ہونے سے اس بات کو تقویت ملی ہے کہ صدر مشرف کے مفاد میں نہیں کہ وہ ایم کیو ایم کو حکومتی اتحاد سے الگ ہونے دیں۔

بدھ کو صدر مشرف نے ایم کیوایم کے لندن میں مقیم سربراہ الطاف حسین سے بذات خود بات چیت کرکے معاملات طے کیے۔ ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے سندھ کے گورنر عشرت العباد کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کے صوبائی اور وفاقی وزراء نے اپنے استعفے واپس لے لیے ہیں۔

پنجاب سے باہر ایم کیو ایم واحد بڑی سیاسی جماعت ہے جو کُھل کر صدر مشرف کی اتحادی ہے۔

ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (نواز) کو اقتدار سے باہر رکھ کر صدر مشرف نے جوڑ توڑ کرکے جو سیاسی ڈھانچہ کھڑا رکھا ہوا ہے ایم کیو ایم اس کا لازمی حصہ ہے۔

ایم کیو ایم کے قومی اسمبلی میں سترہ ارکان ہیں اور سندھ اسمبلی میں اکتیس۔

 ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی امن و امان کی صورتحال پر بھی اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بیس سال کی تاریخ ہے کہ ایم کیوایم جب بھی اقتدار سے باہر تھی سندھ اور کراچی بدامنی کی لپیٹ میں رہے۔
 
سندھ میں ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی کا مطلب ہے صوبہ میں حکمران مسلم لیگ کی موجودہ مخلوط وزارت اعلی کا خاتمہ۔ سندھ میں سب سے بڑی پارلیمانی جماعت پیپلز پارٹی ہے۔

دوسری طرف، قومی اسمبلی میں سرکاری مسلم لیگ کی اکثریت ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی کے منحرف ارکان پر مشتمل پیٹریاٹ کی مرہون منت ہے۔ جب اس اسمبلی میں پہلی بار میر ظفراللہ جمالی وزیراعظم منتخب ہوئے تھے تو انہیں صرف ایک رکن کی اکثریت حاصل تھی۔

اس ماہ حزب مخالف کے دو بڑے اتحاد اے آر ڈی اور متحدہ مجلس عمل کسی بھی وقت وزیراعظم شوکت عزیز کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا اعلان کرچکے ہیں۔

اس معاملے میں جنرل مشرف کو خود ہی مداخلت کرنی پڑی
ایسے وقت میں ایم کیو ایم کے سترہ ارکان کی حکومتی اتحاد سے علیحدگی سے عدم اعتماد کی تحریک کامیاب تو نہیں ہوجاتی لیکن چھوٹے گروپوں جیسے پیپلز پارٹی (پیٹریاٹ) اور حکومتی مسلم لیگ کی قیادت سے ناراض لیگی ارکان کی اہمیت اور سودے بازی کی پوزیشن میں خاصا اضافہ ہوجاتا۔

جنرل مشرف اور ان کی اتحادی مسلم لیگ اعلان کرچکے ہیں کہ موجودہ اسمبلیاں ہی دوسری بار مشرف کو اگلے پانچ سال کے لیے صدر منتخب کریں گی اور وہ فوج کے سربراہ کا عہدہ بھی اپنے پاس رکھیں گے۔

ایم کیو ایم کے حزب مخالف میں چلے جانے سے یہ انتخاب بھی ممکن نہیں کیونکہ صدر کا حلقہ انتخاب قومی اسمبلی اور سینیٹ کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں پر بھی مشتمل ہے۔

ایم کیو ایم کی حکومت سے علیحدگی امن و امان کی صورتحال پر بھی اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ بیس سال کی تاریخ ہے کہ ایم کیوایم جب بھی اقتدار سے باہر تھی سندھ اور کراچی بدامنی کی لپیٹ میں رہے۔
`

اس وقت حکومت کو بلوچستان اور وزیرستان میں شدید بدامنی کا سامنا ہے اور ملک کے معاشی اور تجارتی مرکز کراچی میں ممکنہ بدامنی حکومت کی ساری معاشی پالیسیوں کو بھی الٹ پلٹ کرسکتی ہے۔

تعجب نہیں کہ صدر مشرف کے معتمد اور ان کی کچن کیبنٹ کے اہم رکن طارق عزیز کی الطاف حسین سے ناخوشگوار بات چیت کے بعد صدرمشرف کو خود ایم کیو ایم سے معاملات سلجھانے پڑے۔

 
 
الطاف حسین سالگرہ
سالگرہ سرکاری خرچ پر خصوصی ضمیمے
 
 
بگٹیبدلتے رشتے
کل کے دشمن آج کےدوست ۔۔۔۔
 
 
ڈیرہ بگٹی ماضی، حال، مستقبل
برہمداغ اور آغا شاہد کو کون کون سی وزارتیں
 
 
شوکت عزیزاس ہفتے کی سیاست
’وزیراعظم شوکت عزیز ہی رہیں گے‘
 
 
اسی بارے میں
گورنر راج لگنے کی افواہیں
01 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد