BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 15 August, 2006, 01:52 GMT 06:52 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کرپشن اور عدلیہ
 

 
 
عدالت اعظمیٰ
پاکستان کی عدالت اعظمیٰ کو پچاس برس پورے ہونے پر گولڈن جوبلی تقریبات کے سلسلے میں منعقد کردہ عالمی عدالتی کانفرنس نے قانون کی بالادستی کے ذریعے بہتر حکمرانی کے قیام، احستاب کرنے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے سمیت تئیس نکاتی ’اسلام آباد ڈکلیریشن‘ منظور کیا ہے۔

اعلامیہ میں بدعنوانی کو سخت تشویش کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ’کرپشن دنیا کے تمام ممالک کے لیئے ایک بڑی تشویش کا معاملہ ہے۔‘ اعلامیے کے مطابق کرپشن کو صوابدیدی اختیارات میں کمی، فوری انصاف، مصبوط آزاد عدلیہ کے ذریعے موثر طور پر ختم کیا جاسکتا ہے۔

پیر کو اختتام پذیر ہونے والی چار روزہ یہ کانفرنس ’انصاف سب کے لیئے‘ کے عنوان سے منعقد کی گئی تھی اور اور اس میں دنیا کے چوالیس ممالک سے ایک سو دس مندوب شریک ہوئے۔ ان میں تئیس ممالک کے چیف جسٹس بھی شامل تھے جبکہ امریکہ، بھارت اور برطانیہ سمیت مختلف ممالک کے وفود بھی شریک تھے۔

مندوبین نے انصاف کی جلد فراہمی، آئین اور قانون کی بالادستی، تنازعات کے حل کے متبادل طریقے، ثالثی، بہتر حکمرانی، دہشت گردی، انسانی سمگلنگ اور سائبر جرائم کے خاتمے سمیت مختلف موضوعات پر تفصیلی مقالے پڑھے۔

کانفرنس میں سپریم کورٹ اور چاروں صوبائی ہائی کورٹس کے ججوں وکلاء تنظیموں کے نمائندوں اور مختلف ماہرین بھی شریک ہوئے اور متفقہ طور پر تئیس نکاتی اعلامیہ کی منظوری دی۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ یہ عدالت کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرے اور ماتحت عدالتوں سے بدعنوانی اور بلا جواز دیر کے خاتمے کے لیئے اقدامات کرے۔

اعلامیہ میں بنیادی انسانی حقوق کے معاملات میں سپریم کورٹ کے از خود کارروائی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ میڈیا نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی میں اہم کردار ادا کیا ہے جس پر عدالت اعظمیٰ نے از خود کارروائی بھی کی ہے جبکہ صنفی امتیاز ختم کرنے، بچوں سے متعلقہ جرائم کا فوری نوٹس لینے اور مقدمات کا فیصلہ سنانے پر زور دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو جب صدر جنرل پرویز مشرف نے آئین معطل کیا تھا تو پاکستان کی عدالت اعظمیٰ کے ججوں نے ان کے اقدام کو ایک بار پھر نظریہ ضرورت کے تحت جائز قرار دیتے ہوئے انہیں آئین میں ترامیم کا بھی اختیار دیا تھا اور خود جنرل پرویز مشرف کے متعارف کردہ عبوری آئین یعنی ’پی سی او‘ کے تحت حلف اٹھایا تھا۔

بعد میں جب جنرل پرویز مشرف کی متعارف کردہ ترامیم کے ساتھ آئین بحال کیا گیا تو پھر بھی کئی ججوں نے اس کے تحت حلف نہیں اٹھایا اور تاحال ’پی سی او، کے حلف یافتہ ہیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد