BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 17 September, 2006, 11:34 GMT 16:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
وزیرستان معاہدہ: طالبان کی دھمکی
 
ملا داد اللہ کا کہنا تھا کہ ان کی دلیل یہ تھی کہ امریکی، برطانوی اور دیگر غیر ملکی افواج کو نشانہ بنایا جائے
طالبان کمانڈر ملا داد اللہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر حکومت پاکستان نے وزیرستان میں امن معاہدے کی خلاف ورزی کی تو ’مسائل‘ پیدا ہوں گے اور علاقے میں عدم استحکام پیدا ہوگا۔

یہ بات انہوں نے پاکستان کے ایک انگریزی روزنامہ دی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہی ہے۔

واضح رہے کہ رواں ماہ حکومت اور وزیرستان کے قبائلی عمائدین کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت پاکستان حکومت نے شدت پسندوں کے خلاف فوجی کارروائی بند کرنے اور مقامی طالبان نواز شدت پسندوں نے پرامن رہنے کا عہد کیا تھا۔

وزیرستان میں گزشتہ ڈھائی برس سے فوجی کارروائی جاری تھی اور اس عرصہ میں سکیورٹی فورسز اور شدت پسندوں کے سینکڑوں افراد مارے گئے۔

اس معاہدے کے بعد مغربی میڈیا نے کھل کر اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے طالبان کو پاکستان سے بڑی مدد ملے گی اور ایک لحاظ سے وزیرستان طالبان کا ایک محفوظ مورچہ بن سکتا ہے۔

تاہم حکومت نے اس بارے میں خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس معاہدے کے بعد بھی وہ ضرورت پڑنے پر ’سرجیکل آپریشن‘ جاری رکھیں گے۔

ملا داد اللہ نے اپنے انٹرویو میں یہ تو نہیں کہا کہ آیا پاکستان سے بھی طالبان افغانستان میں حملے کریں گے لیکن انہوں نے بتایا ہے کہ تین ماہ قبل جب وہ وزیرستان گئے تھے تو انہوں نے مقامی طالبان کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ پاکستان فوج کے بجائے غیر ملکی افواج کو نشانہ بنائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میری دلیل یہ تھی کہ امریکی، برطانوی اور دیگر غیر ملکی افواج کو نشانہ بنایا جائے‘۔

ایک ٹانگ والے ملا داد اللہ طالبان کی دس رکنی قیادت کونسل کے رکن ہیں اور وہ اہم جنگجو کمانڈر سمجھے جاتے ہیں۔

طالبان کے سربراہ ملا عمر کے قریبی ساتھی ملا داد اللہ نے کہا ہے کہ وہ موسم بہار میں افغانستان میں موجود غیر ملکی افواج پر حملے تیز کردیں گے۔

ان کا دعویٰ ہے کہ پانچ سو خود کش بمبار ان کی کمانڈ میں ہیں جو کہیں بھی کسی بھی وقت حملے کرنے کو تیار ہیں۔

یاد رہے کہ سن دو ہزار ایک میں افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد سے طالبان اور امریکہ کی سربراہی میں مختلف ممالک کی افواج کے درمیان مسلح اور خونی جھڑپیں جاری ہیں اور تاحال سینکڑوں افراد مارے جاچکے ہیں۔ محض رواں سال جنوری سے اب تک چوبیس سو لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
طالبان کے خلاف جنگ ایجنڈے پر
06 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد