BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 October, 2006, 15:48 GMT 20:48 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’متحدہ کے دفاتر، جرائم میں اضافہ‘
 

 
 
پنجاب اسمبلی
حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں نے ایم کیو ایم پر تنقید کی ہے
پاکستانی پنجاب کے وزیر قانون راجہ بشارت نے کہا ہے کہ حکومت کو رپورٹ ملی ہے کہ جن علاقوں میں ایم کیو ایم کے دفاتر کھلے ہیں وہاں سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے یہ بیان پنجاب اسمبلی کی کارروائی کے دوران دیا۔

پنجاب اسمبلی میں تحاریک التوا کے بعد پوائنٹ آف آڈر پر بات کرتے ہوئے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ایم ایم اے کے رکن ارشد بگو نے کہا تھا کہ سیالکوٹ سمیت جہاں جہاں ایم کیو ایم کے دفاتر کھلے ہیں وہاں سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے انہوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں پر تنقید کی اور کہا کہ پنجاب حکومت ان کی سرپرستی کررہی ہے،ان کے اس بیان سے اسمبلی میں ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا۔

حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں نے ایم کیو ایم پر تنقید کی ہے۔
صوبائی وزیر قانون نے کہا کہ رکن اسمبلی ارشد بگو کی کچھ بات سچ اور کچھ جھوٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جھوٹ یہ ہے کہ حکومت ایم کیو ایم کے کارکنوں کی سرپرستی کر رہی ہے اور سچ یہ ہے کہ حکومت کو یہ رپورٹ ملی ہے کہ جن علاقوں میں ایم کیو ایم کےدفاتر قائم ہیں وہاں سٹریٹ کرائم میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں تفصیلی رپورٹ اس وقت سامنے لائیں گے جب ایوان میں امن وامان پر بحث ہورہی ہوگی۔

پیپلز پارٹی کے رانا افتاب احمد خان نے کہا کہ جہاں جہاں حکومت کے علم میں آیاہے وہاں ایم کیو ایم کے عہدیداروں یا کارکنوں کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔

پیپلز پارٹی کی ہی رکن اسمبلی فرزانہ راجہ نے کہا کہ حکومت کو اس ضمن میں دلیرانہ اقدام اٹھانے ہوں گے۔

انہوں نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے منسوب اس بیان کاحوالہ دیا جس میں انہوں نے مبینہ طورحکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین کو لوٹوں کا سردار کہا تھا۔

فرزانہ راجہ نے کہا کہ یہ حکمران الطاف حسین سے ڈرتے ہیں اسے لیے انہیں جواب تک نہیں دے پاتے اس کے مقابلے میں دوسری سیاسی جماعتوں کو دبانے کے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے جاتےہیں۔

صوبائی وزیر رانا قاسم نون نے کہا کہ اگر الطاف حسین نے چودھری شجاعت کے بارے میں کوئی نازیبا گفتگو کی ہے تو وہ اس کی بھرپور مذمت کرتےہیں۔

بعد میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما فاروق ستار نے لاہور میں ایک افطار ڈنر کے موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر قانون کے بیان کی مذمت کی اور کہا کہ’ ان کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔”

انہوں نے کہا کہ اگر حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین یا وزیر اعظم شوکت عزیز ایسی کوئی بات کریں گے تو اس کی کوئی اہمیت ہوگی اور وہ اس کا جواب دیں گے۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ پنجاب میں ایم کیو ایم کی مقبولیت میں اضافہ ہورہا ہے اسی لیے اس قسم کی بے بنیاد باتیں پھیلائی جارہی ہیں۔

ادھر کراچی سے ایم کیو ایم کے مرکزی دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کے غریب اور متوسط طبقہ کے لوگ جاگیرداروں اور چودھریوں کے مظالم تلے پسے ہوئے ہیں یہ عوام ان ظالم جاگیرداروں کے خلاف متحدہ کے پرچم تلے متحد ہورہےہیں اسی لیے ان پر بوکھلاہٹ طاری ہورہی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
کراچی: متحدہ کے کارکن ہلاک
20 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد