BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 19 October, 2006, 21:52 GMT 02:52 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’مشرف سے تصادم ناگزیر ہے‘
 

 
 
مشرف سے ڈیل کی خبریں افواہیں ہیں: بے نظیر
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ کے قائد میاں نوازشریف نے پاکستان میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کرانے کے لیئے انتخابات سے قبل ملک میں قومی حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔

لندن میں جمعرات کے روز ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں آئندہ انتخابات سے قبل پاکستان واپس جانے کے عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا لیکن اس ضمن میں انہوں نے وقت کا تعین کرنے سے انکار کردیا۔

نواز شریف نے پریس کانفرنس کے دوران مشرف حکومت سے تصادم کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنرل مشرف ہر چیز کو ملک پر تھونپنا چاہتے ہیں جبکہ وہ آئین اور قانون کی بات کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف انہیں اور بے نظیر کو انتخابات میں حصہ لینے سے روکنا چاہتے ہیں جبکہ ’ہم ملک میں آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں تو اس صورت میں تصادم ہونا ناگزیر ہے۔‘

بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان یہ ملاقات پاکستان پیپلز پارٹی کے مشرف حکومت سے خفیہ رابطوں کی ’افواہوں‘ کے پس منظر میں ہوئی جس میں دونوں جماعتوں کے چند سرکردہ اراکین بھی شامل تھے۔

ملاقات کے بعد ہونے والی پریس کانفرنس میں کیئے جانے سوالوں کا رخ زیادہ تر بے نظیر بھٹو کی طرف رہا اور ذرائع ابلاغ کے نمائندے مختلف زاویوں سے مشرف حکومت سے ان کی جماعت کے رابطوں کی خبروں کے بارے میں سوال پوچھتے رہے۔

بے نظیر بھٹو نے پریس کانفرنس کے افتتاحی کلمات میں ہی کہا کہ اتحاد برائے بحالی جمہوریت کے نام سے ان کا مسلم لیگ نواز گروپ سے اتحاد قائم و دائم ہے اور اس میں کسی قسم کی کوئی دراڑ نہیں پڑی ہے۔

بے نظیر بھٹو نے مشرف حکومت سے رابطوں کی خبروں کی بڑے پُر زور انداز میں تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب افواہیں ہیں اور فوج کے سیاست میں ملوث ہونے اور فوجی آمریت کے حوالے سے ان کی مشرف حکومت سے کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہونے والی قانون سازی کے بارے میں ان کی حکومتی جماعت سے کسی حد تک مفاہمت تھی۔

نواز شریف نے کہا کہ بے نظیر بھٹو کی طرف سے کرائی جانے والی یقین دہانی سے وہ مطئمن ہیں اور میثاقِ جمہوریت پر قائم ہیں۔

قومی حکومت کے بارے میں کیے جانے والے مطالبے کے بارے میں جب بے نظیر بھٹو سے پوچھا گیا کہ ان کا یہ مطالبہ کس سے ہے تو انہوں نے کہا کہ یہ ان کا موقف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری بھی پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے بارے میں یقین دہانی کرا چکی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد