BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 20 October, 2006, 07:12 GMT 12:12 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
لاہور: ماں چار بچوں سمیت قتل
 

 
 
    پاکستان پولیس (فائل فوٹو)
خاندانی دشمنی قتل کا باعث ہو سکتی ہے: پولیس
لاہور میں ایک جوان عورت اور اس کے چار نو عمر بچوں کو بجلی کا کرنٹ لگا کر اور چھریوں کے پے در پے وار کرکے ہلاک کردیا گیا۔

پولیس نے قتل کے نامزد ملزم ریاض کو گرفتار کرلیا ہے جو مقتول عورت عاصمہ کا بھانجا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ قتل خاندانی جھگڑے کے نتیجہ ہوسکتے ہیں۔

یہ واقعہ جمعرات کو لاہور میں شالیمار کے علاقہ میں پیش آیا۔ ایک چودہ سالہ لڑکا حسنین ہلاک ہونےسے بچ گیا اور اس نے زخمی حالت میں گھر سے باہر نکل کر اور شور مچا کر لوگوں کو اکٹھا کیا۔

زخمی لڑکے کے مطابق اس کا چھبیس سالہ ماموں زاد بھائی ریاض رات نصف شب کے بعد ان کے گھر آیا اور ان کے ہاں رات بسر کی۔

صبح کے وقت ہلاک ہونے والی عورت کا شوہر سلامت کام کاج کےلیے باہر چلا گیا جبکہ بچے سکول چلےگئے تو ملزم نے مبینہ طور پر اپنی پھوپھی کو چھری سے حملہ کرکے ہلاک کردیا۔

زخمی لڑکے کے بیان کے مطابق اس کے بعد اس کا پندرہ سالہ بھائی زین العابدین گھر واپس آیا تو ملزم نے اسے بجلی کی تاروں میں جکڑ کر ہلاک کیا۔ ملزم باری باری گھر آنے والے تین اور کم سن بچوں کو بجلی کا کرنٹ لگا کر اور چھریوں کے وار کر کے ہلاک کرتا رہا۔

کرنٹ لگنے سے اکثر لاشیں جل چکی تھیں اور کالی ہوگئیں تھیں۔گھر کے تین کمروں میں خون بکھرا ہوا تھا اور ایک کمرے میں زخمی حسنین کے پاؤں کے نشان تھے۔

بیان کے مطابق ایک چودہ سالہ حسنین اس کے حملوں سے زخمی ہو کر اس کے قابو سے نکلنے میں کامیاب ہوسکا کیونکہ اس پر حملہ کے وقت اس کا دوسرا بھائی سہیل وہاں پہنچ گیا تھا اور ملزم دونوں کو بیک وقت قابو نہ کرسکا۔

اس پر ملزم مکان کی عقبی دیوار پھلانگ کر وہاں سے فرار ہوگیا۔

اہل محلہ کے مطابق ملزم ریاض دو تین دنوں سے مقتول عورت کے گھر آرہا تھا اور اس کا مقتول عورت سے جھگڑا بھی ہوا تھا۔

پولیس کو دیے گئے اپنے ابتدائی بیان میں ملزم نے کہا ہے کہ اس کی چچی چندا پہلے اس کی پھوپھی عاصمہ کے ساتھ رہتی تھی جسے عاصمہ کے شوہر سلامت علی نے جھگڑا کر کے گھر سے نکال دیا۔ اس نے کہا کہ اس نے یہ قتل اپنی چچی کے کہنے پر کیے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
شکر گڑھ میں چار افراد قتل
25 October, 2003 | پاکستان
لاہور میں گیارہ قتل
24 September, 2003 | پاکستان
اپنے ہی بچوں کے قتل کا الزام
04 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد