BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 20 October, 2006, 02:38 GMT 07:38 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’ناکام وزرائے اعظم کی ملاقات تھی‘
 
 محمد علی درانی
بے نظیر اور نواز شریف نے اپنا سیاسی مقدر اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے: درانی
جمعرات کو لندن میں پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو اور مسلم لیگ کے قائد نواز شریف کی ملاقات پر اپنے ردِ عمل میں وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات محمد علی درانی نے کہا ہے کہ یہ دو ناکام وزرائے اعظم کی ملاقات تھی۔

بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے محمد علی درانی نے کہا کہ لندن ملاقات میں کوئی نئی بات نہیں ہوئی کیونکہ دونوں رہنماؤں کے پاس ماضی کی طرح اس وقت بھی کوئی سیاسی ایجنڈہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے سیاسی اعتبار سے کوئی وزن دار بات نہیں کی ہے۔

جب اس سے نواز شریف کے اس بیان پر تبصرے کو کہا گیا کہ جنرل مشرف سے تصادم ناگزیر ہے تو محمد علی درانی نے کہا: ’نواز شریف ایک سادہ انسان ہیں اور "سادہ" لوگوں کی جنت میں رہتے ہیں۔۔

ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر کے ساتھ مل کر نواز شریف نے اپنی جماعت کے کارکنوں کے سیاسی نظریات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ ’نواز شریف، بے نظیر بھٹو کے پرائیویٹ سیکٹری بن کر رہ گئے ہیں اور انہوں نے اپنا سیاسی اثاثہ بے نظیر کے پاس رہن رکھ دیا ہے۔‘

بے نظیر اور نواز شریف کی جانب سے قومی حکومت اور اس کے تحت انتخابات کے مطالبے کے حوالے سے وفاقی وزیرِ اطلاعات کا کہنا تھا کہ یہ مطالبہ دراصل حکومت کا مطالبہ تھا۔ اپوزیشن جب حکومت مخالف تحاریک یا تحریکِ عدم اعتماد کی باتیں کر رہی تھی تو اسے کہا گیا تھا کہ وہ انتخابات کا انتظار کرے۔انہوں نے کہا کہ شفاف اور منصفانہ انتخابات کرانا حکومت کی ضرورت ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا کسی فردِ واحد کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ دو سابق وزرائے اعظم کو انتخابی عمل میں شرکت سے روک دے تو محمد علی درانی نے کہا: ’یہ دونوں رہنما اپنے کارہائے نمایاں کی وجہ سے انتخابی عمل سے باہر ہوئے ہیں۔ نواز شریف سے جیل سے باہر نکلنے کے لئے حکومت سے پوچھ کر ڈِیل نہیں کی تھی اور نہ بے نظیر بھٹو نے کسی سے پوچھ کر سرے جائیداد خریدی تھی۔ ان رہنماؤں نے اپنا سیاسی مستقبل اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے۔‘

 
 
اسی بارے میں
’مشرف سے تصادم ناگزیر ہے‘
19 October, 2006 | پاکستان
تحریک عدم اعتماد ناکام
29 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد