BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 October, 2006, 14:15 GMT 19:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پشاور میں ڈینگو سے ایک ہلاک
 

 
 
ڈینگو وائرس کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بعد پشاور میں
کراچی، لاہور اور اسلام آباد کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی ڈینگو بخار میں مبتلا دومریضوں کی تصدیق ہوگئی ہے جن میں سے ایک نےگزشتہ روز ہسپتال میں دم توڑ دیا۔

ادھر لاہور میں حکام نے کئی مریضوں میں ڈینگو وائرس پائے جانے کی تصدیق کی ہے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور (کے ٹی ایچ ) کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر خوشدل خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اب تک ان کے پاس دو مریض آئے ہیں اور دونوں ڈینگو وائرس سے متاثرہ تھے جن میں سوات سے تعلق رکھنے والے پانچ سالہ جمیل نے جمعہ کے روز ہسپتال میں دم توڑ دیا جبکہ دوسرے مریض فیروز خان تاحال ہسپتال میں زیر علاج ہیں اور ان کی حالت اب خطرے سے باہر ہے۔

ڈینگو بخار، مچھر کا وائرس
 ڈینگو بخار، ایک قسم کے مچھر سے پھیلتا ہے اور یہ ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں تاہم مریض میں پائی جانی والی علامات کی روشنی میں ادوایات دیکر اس کا علاج کیا جاتاہے
 
ڈاکٹر خوشدل خان
ڈاکٹر خوشدل خان نے کہا کہ ڈینگو بخار، ایک قسم کے مچھر سے پھیلتا ہے اور یہ ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے جس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں تاہم مریض میں پائی جانی والی علامات کی روشنی میں ادوایات دیکر اس کا علاج کیا جاتاہے۔

خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ ریڈ زون کے کمرہ نمبر پینسٹھ 65 میں داخل مریض فیروز خان میں ڈینگو وائرس کی موجودگی کی تصدیق اسلام اباد کے این آئی ایچ لیبارٹری میں ان کے خون کے ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد ہوئی۔

پچیس سالہ فیروز خان ولد رحمت خان خلیل کا تعلق پشاور کے علاقے نوے کلی سفید ڈھیری سے ہے۔ وہ بائیس اکتوبر کو کراچی سے پشاور عید کی چھٹیاں گزارنے آئے تھے۔

فیروز خان نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کراچی لیاقت آباد میں ایک ورکشاپ میں مکینک کا کام کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کہ وہ کراچی سے آنے کے بعد شدید بخار میں مبتلا تھے اور ان کے جسم پر سرخ قسم کے دھبے بھی نمودار ہوگئے تھے ۔ بعد میں گھروالوں نے انہیں ایک پرائیویٹ ڈاکٹر کے پاس لے گئے جہاں سے انہیں کے ٹی ایچ میں داخل کرا دیا گیا۔

اس سے پہلے اسی ہسپتال میں ایک اور مریض میں بھی ڈینگو وائرس کی تشخیص ہوئی تھی جو بعد میں مرض کی شدت کے باعث جان بحق ہوگئے۔ یہ مریض پانچ سالہ جمیل تھے جو کراچی سے عید کی چھٹیوں میں اپنے والدین کے ہمراہ سوات آئے تھے ۔ بعد میں انہیں شدید تشویشناک حالت میں کے ٹی ایچ کے ریڈ زون کے کمرہ نمبر 64 میں داخل کیا گیا تاہم وہ ایک ہفتے کے بعد گزشتہ روز جان بحق ہوگئے۔

لاہور میں ڈینگو
 ڈاکٹروں کے مطابق لاہور میں ایک مریض ڈینگو بخار میں مبتلا پایا گیا تھا جسے علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہےاس کےعلاوہ تین دیگر مریضوں کے بارے میں بھی شبہ ہے کہ انہیں ڈینگووائرس ہوسکتا ہے
 

ادھر لاہور سے ہمارے نامہ نگار علی سلما ن کے مطابق شیخ زیدہسپتال کے ایڈمنسٹریٹر ڈاکٹر صبورملک نے بتایا کہ ان کے ہپستال میں ایک مریض ڈینگو بخار میں مبتلا پایا گیا تھا جسے علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہےاس کےعلاوہ تین دیگر مریضوں کے بارے میں بھی شبہ ہے کہ انہیں ڈینگووائرس ہوسکتا ہے تاہم اس بارے میں حتمی بات ان کے لیبارٹری ٹیسٹ کی رپورٹ آنے کے بعد کی جاسکتی ہے۔

شیخ زید ہپستال انتظامیہ نے ڈینگو وائرس میں مبتلا مریض کے بارے میں رپورٹ وفاقی اورصوبائی حکومت کو بھجوادی ہے۔

لاہور میں سنیچر کو محکمہ صحت کے حکام کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا جس کے بعد صوبہ بھر کے ہپستالوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیرصحت کے مطابق پنجاب کی تمام تحصیل اور ضلع سطح پرمانیٹرنگ سیل بنادئیےگئے ہیں اورذرائع ابلاغ میں خصوصی اشتہاری مہم چلائی جارہی ہے۔

لاہور کےشیخ زید ہسپتال میں دم توڑنے والے دو مریضوں کے بارے میں شبہ تھا کہ وہ ڈینگو بخار میں مبتلا ہوکر ہلاک ہوئے ہیں لیکن ہسپتال انتظامیہ نےان دونوں کے بارے میں کوئی تصدیق یا تردید نہیں کی۔

ڈاکٹر صبور نے بتایا کہ وہ دونوں ہسپتال آنے کے چند منٹ کے اندر ہی دم توڑ گئے تھے اس لیے ان کے خون کے ٹسٹ بھی نہیں لیے جاسکے۔

اطلاعات کے مطابق کراچی میں ڈینگو بخار کی وجہ سے کم از کم اٹھارہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں پاکستانی پنجاب کے شہر خوشاب میں بھی ایک مریض کی ہلاکت کی اطلاع ملی تھی اب لاہور میں ایک مریض کے پائے جانے سے یہ تصدیق ہوگئی ہے کہ یہ مرض لاہور بھی پہنچ چکاہے۔

ماہرین کے مطابق ہر برس دنیا بھر میں دس کروڑ افراد اس ڈینگووائرس کا شکار ہوتے ہیں لیکن اس بار ذرائع ابلاغ میں اس کی بڑے پیمانے پر تشہیر کے نتیجہ یہ نکلا ہے کہ پاکستان میں اس وائرس کی ادویات کی کمی ہو گئی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
ڈینگو بخار سے اٹھارہ ہلاک
14 October, 2006 | پاکستان
’ڈاکٹر خان کی صحت بہتر ہے‘
28 October, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد