BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 November, 2006, 12:56 GMT 17:56 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
اسلام آباد میں سینئر صحافی قتل
 

 
 
پمز ہسپتال کےباہر صحافی جمع
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منگل اور بدھ کی درمیانی شب سینئر صحافی اور خبررساں ادارے پی پی آئی کے بیورو چیف ملک محمد اسماعیل کو نامعلوم افراد نے پراسرار حالت میں قتل کر دیا ہے۔

مقتول صحافی کا پوسٹ مارٹم کرنے والے سرکاری ہسپتال پمز کے ڈاکٹر وسیم خواجہ نے بتایا کہ محمد اسماعیل کی دائیں کن پٹی پر اتنی زوردار چوٹ لگائی گئی ہے کہ ان کی کھوپڑی چپک گئی ہے اور ان کی دائیں آنکھ بھی اندر چلی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں ایسا لگتا ہے کہ پتھر یا کسی اور آہنی آلے سے انہیں پکڑ کر ضرب لگائی گئی ہے۔ ان کے مطابق رات کو بارہ سے ساڑھے بارہ بجے ان کی موت واقع ہوئی ہوگی۔

ڈاکٹر نے کہا کہ کسی تیز دھار آلے سے ان پر حملے کے تین نشان بھی موجود ہیں۔ جبکہ ان کی کلائیوں پر رسی باندھنے کے نشان بھی ہیں۔ ان کے مطابق پولیس نے انہیں بتایا کہ رسی انہوں نے مقتول کی لاش کو سیدھا رکھنے کی خاطر باندہی تھی۔

انہوں نے بتایا کہ مقتول کے جسم کے مختلف حصوں سے گوشت کے ٹکڑے مزید تحقیق کی خاطر لیے گئے ہیں اور ان کے تجزیہ کے بعد ہی یہ پتہ چلے گا کہ کہیں انہیں زہر وغیرہ تو نہیں دیا گیا۔ تاہم ڈاکٹر نے کہا کہ انہیں پکڑ کر ٹارگٹ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔

محمد اسماعیل کا قتل
  اسلام آباد میں ایک سینیئر صحافی کا قتل کھلم کھلی دہشت گردی کی واردات ہے۔
 
صدر پی ایف یو جے پرویز شوکت

مقتول صحافی کے ایک ساتھی علی حسین طوری نے بتایا کہ منگل کی شام کو وہ ترکی کے سفارتخانے کی ایک تقریب میں گئے تھے اور وہاں سے رات کو نو بجے واپس دفتر آئے۔ ان کے مطابق وہ معمول کے مطابق کپڑے تبدیل کرکے واک کے لیے نکلے اور واپس نہیں لوٹے۔

اسماعیل ملک کی عمر تریپن برس کے قریب بتائی جاتی ہے اور ان کا آبائی گھر صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں واقع ہے۔ ان کے ساتھیوں کے مطابق مقتول نے کچھ عرصہ قبل اہل خانہ کو اسلام آباد سے واپس اٹک منتقل کیا تھا اور خود دفتر کے اندر ایک کمرے میں رہتے تھے۔

ایک صحافی نوید معراج نے بتایا کہ وہ تُرک سفارتخانے کی تقریب میں مرحوم کے ساتھ تھے اور منگل کی رات واپسی پر انہوں نے مقتول کو دفتر کے قریب اتارا۔ ان کے مطابق مقتول خوش اور ہشاش بشاش تھے اور انہوں نے کسی خطرے، پریشانی یا کسی خدشے کا اظہار نہیں کیا۔

اسلام آباد پولیس کے شعبہ تفتیش کے سربراہ اشفاق احمد نے بتایا کہ پولیس کو بدھ کی صبح نو بجے کے قریب اطلاع ملی اور لاش دوپہر کو پمز ہسپتال لائی گئی۔ ان کے مطابق سپر مارکیٹ کے سامنے سڑک کنارے واقع جھاڑیوں سے انہیں لاش ملی۔

انہوں نے بتایا کہ پولیس تفتیش کر رہی ہے لیکن تاحال ملزمان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ پولیس کے مطابق مقتول صحافی کی واسکٹ ان کی لاش سے دور پڑی ہوئی تھی۔

صحافی کے قتل کی اطلاع ملتے ہی اسلام آباد اور راولپنڈی کے متعدد صحافی ہسپتال پہنچے۔ مقتول کی لاش ان کے بھائیوں اور بیٹے نے وصول کی۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر پرویز شوکت نے محمد اسماعیل کے قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں ایک سینیئر صحافی کا قتل کھلم کھلی دہشت گردی کی واردات ہے۔

انہوں نے حکومت سے ملزمان کا فوری سراغ لگانے اور انہیں کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی دارالحکومت میں پیش آنے والے واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت صحافیوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ صحافیوں کی تنظیم نے جمعرات کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں اس واقعے پر احتجاج کے لیئے حکمت عملی وضع کی جائے گی۔

واضح رہے کہ محمد اسماعیل سمیت رواں سال تاحال تین صحافی پاکستان میں قتل کیے جاچکے ہیں۔ ان سے پہلے قبائلی علاقہ جات میں حیات اللہ خان اور صوبہ سندھ میں کیمرہ مین منیر سانگی کو قتل کیا جاچکا ہے۔

صحافیوں کے خلاف تشدد کے اعداد وشمار جمع کرنے والی ایک تنظیم کا کہنا کہ تاحال ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کے خلاف تشدد، اغوا اور حراساں کرنے کے ساٹھ سے زائد واقعات اخبارات میں رپورٹ ہوچکے ہیں۔

ان کے مطابق حکومتی ایجنسیاں، سیاسی اور مذہبی جماعتیں اور شدت پسند تنظیمیں اور قبائل صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے، اخبارات کی کاپیاں جلانے، صحافیوں کو زدوکوب کرنے اور انہیں حراساں کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
صحافی حیات اللہ قتل انکوائری
17 September, 2006 | پاکستان
عمرکوٹ کے صحافی پر تشدد
29 August, 2006 | پاکستان
کراچی سے بلوچ صحافی لاپتہ
21 September, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد