BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 November, 2006, 19:59 GMT 00:59 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
باجوڑ: وکلاء کا حقائق کمیشن
 

 
 
باجوڑ
’حکومت نے کمیشن کو باجوڑ داخل ہونے سے روکا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی‘

صوبہ سرحد کے وکلاء برادری نے باجوڑ کے واقعے کی تحقیقات کےلیے ایک ’فیکٹس فائینڈ نگ‘ کمیشن تشکیل دیا ہے جو حقائق معلوم کرنے کے لیے پیر کی صبح باجوڑ ایجنسی کےلیے روانہ ہوگا۔

پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، پشاور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن اور سرحد بار کونسل نے مشترکہ طور پر یہ کمیشن تشکیل دیا ہے جو ممتاز قوم پرست رہنما برسٹر باچا، فاٹا لائرز ایسوسی ایشن کے صدر کریم محسود خان، محمد خورشید خان، قیصررشید، غلام نبی اور احمد زیب خان پر مشتمل ہے۔

کمیشن کے ایک ممبر احمد زیب خان ایڈوکیٹ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ کمیشن دورے کے دوران باجوڑ ایجنسی کے ممبران پارلیمنٹ، عینی شاہدین اور واقعے میں زخمی اور ہلاک ہونے والے افراد کے لواحقین سے ملاقاتیں کرینگے تا کہ اصل حقائق معلوم کیے جاسکے۔

اس سوال پر کہ اس کمیشن کی کیا حیثیت ہوگی تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک غیر جانب دار کمیشن ہے جس کا کسی سیاسی گروپ یا پارٹی سے تعلق نہیں بلکہ یہ عام باڈی ہے جو سنئیر کریمینل اور سول لاء کے ماہرین پر مشتمل ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیشن چند دن باجوڑ میں رہے گا اور واقعے کی حقائق معلوم کرنے کے بعد اس کی رپورٹ مرتب کرے گا اور بعد میں یہ رپورٹ صدر پاکستان، وزیراعظم، چیف جسٹس سپریم کورٹ وپشاور ہائی کورٹ اور گورنر سرحد کو بھیجوائے گا۔

احمد زیب خان نے ایک اور سوال کے جواب میں کہا کہ اگر حکومت نے کمیشن کو باجوڑ داخل ہونے سے روکا تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی بلکہ بقول ان کے ’یہ ظلم پر ظلم ہوگا اور اس بات کا ثبوت ہوگا کہ حکومت نے واقعی وہاں ظلم کیا ہے اور دنیا سے حقائق چھپانے کےلیے اس طرح کی پابندیاں لگائی جارہی ہے‘۔

ہلاک ہونے والوں کی تفصیلات
 ہلاک ہونے والے اسی افراد کے نام، عمریں اورقومیت اتوار کے روز ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق تین افراد کے علاوہ مرنے والوں میں تمام افراد کی عمریں بیس سال سے کم ہیں
 

واضع رہے کہ باجوڑ میں فوجی بمباری اور ہلاکتوں کے بعد سے حکومت نے ایجنسی کے حدود میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ واقعے کے بعد تاحال انسانی حقوق کی کسی تنظیم نے وہاں جانے کی کوشش نہیں کی ہے۔

دودن قبل اے پی ٹیلی ویژن کےلیے کام کرنے والے پشاور کے کیمرہ مین انعام الرحمان کو باجوڑ ایجنسی کی انتظامیہ نے تین گھنٹے تک منڈا چیک پوسٹ پر حراست میں رکھا اور ان سے پوچھ گوچھ کی جبکہ ان کا ایک کیمرہ بھی چھینا گیا جو ابھی تک ان کو واپس نہیں کیا گیا ہے۔

ادھر باجوڑ واقعے میں ہلاک ہونے والے اسی افراد کے نام، عمریں اورقومیت اتوار کے روز ذرائع ابلاغ میں شائع ہوئی ہیں۔ ان رپورٹس کے مطابق تین افراد کے علاوہ مرنے والوں میں تمام افراد کی عمریں بیس سال سے کم ہیں۔ ان میں چار کا تعلق افغانستان کے صوبے نورستان سے بتایا جاتا ہے جبکہ دیگر پاکستانی بتائے جارہے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
باجوڑ بمباری کے خلاف احتجاج
03 November, 2006 | پاکستان
باجوڑ: ’مخبر‘ کی لاش برآمد
02 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد