BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 November, 2006, 12:03 GMT 17:03 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
راکٹ ہم نے نہیں داغے: طالبان
 

 
 
ترجمان کے بقول فریقین سمجھوتے پر پوری طرح سے عمل درآمد کر رہے ہیں۔
پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں مقامی طالبان نے میرعلی میں فوجی کیمپ پر راکٹوں سے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔ مقامی طالبان نے علاقے میں کسی ٹیکس کے عائد کرنے کی خبروں کی بھی تردید کی ہے۔

شمالی وزیرستان میں جمعرات کی رات نامعلوم افراد نے نیم فوجی ملیشیا کے ایک کیمپ پر پانچ راکٹ داغے تھے۔

راکٹ کیمپ کے قریب کھلے میدان میں گرے جن سے کوئی نقصان نہیں ہوا تاہم یہ پانچ ستمبر کو حکومت اور مقامی طالبان کے درمیان امن معاہدے کے بعد کسی سرکاری ہدف پر پہلا حملہ تھا۔

مقامی طالبان کے ترجمان عبداللہ فرہاد نے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بات چیت میں اس واقعے میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ وہ اب بھی حکومت کے ساتھ معاہدے پر قائم ہیں اور یہ کارروائی ان عناصر کی ہوسکتی ہے جو خطے کے حالات کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں نہیں معلوم اس حملے میں کون ملوث ہے تاہم علاقے کی سرحدیں کافی طویل ہیں۔ ان کا اشارہ شاید غیرملکی عناصر کی جانب تھا۔

عبداللہ فرہاد نے واضع کیا کہ اگر وہ عسکری کارروائیوں کی طرف لوٹیں گے تو اس سے قبل امن معاہدے کے خاتمے کا باقاعدہ اعلان کریں گے۔ البتہ ان کے بقول فی الحال فریقین سمجھوتے پر پوری طرح سے عمل درآمد کر رہے ہیں۔

انہوں نے دعوی کیا کہ ان کے ساتھی اب افغانستان لڑنے کے لیئے بھی نہیں جا رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان میں ایک تحصیلدار کے اغوا جیسے واقعات کے بارے میں بھی مقامی طالبان کے ترجمان نے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ان واقعات کی تحقیقات کر رہے ہیں۔

عبداللہ فرہاد نے مقامی طالبان کی جانب سے علاقے میں ٹیکس عائد کرنے کی خبروں کی بھی تردید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی مساجد اور مدرسوں کے لیئے صدقے پر پابندی نہیں لیکن ایسا کوئی ٹیکس انہوں نے عائد نہیں کیا ہے۔

ان ٹیکسوں کا اعلان گزشتہ دنوں میران شاہ میں تقسیم کیے جانے والے پمفلٹ کے ذریعے کیا گیا تھا جس کے مطابق ٹیکسوں کی وصولی کا کام عیدالفطر کے بعد سے شروع ہونا تھا۔ پمفلٹ میں مختلف جرائم کے لیئے سزاؤں کی تفصیلات بھی دی گئی تھی۔

اگرچہ مقامی طالبان کے ترجمان نے ٹیکس عائد کرنے کی خبروں کی تردید کی تاہم انہوں نے میران شاہ میں دفتر کے قیام کی تصدیق کی جس کا مقصد بقول ان کے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنانا تھا۔

امن معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ مقامی طالبان نے ذرائع ابلاغ سے رابطہ کیا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
درگئی: حملے کے بعد
08 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد