BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 12 November, 2006, 14:34 GMT 19:34 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’عدالت میں آواز اٹھاؤں گا‘
 

 
 
کرنل غفار کو چار مارچ دو ہزار تین کو راولپنڈی سےگرفتار کیا گیا تھا
تین برس سے زائد عرصے تک حراست میں رہنے والے پاک فوج کے سابق کرنل عبدالغفار کا کہنا ہے کہ وہ اپنی غیر قانونی تحویل کے خلاف اور بنیادی حقوق کے حصول کے لیئے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔

اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کرنل عبدالغفار کا کہنا تھا کہ انہیں 22 ماہ تک غیر قانونی طور پر تحویل میں رکھا گیا جو کہ بنیادی انسانی حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اللہ کی حاکمیت کو مانتے ہیں اور اسی بات کی انہیں سزا دی گئی۔

ان کا کہنا تھا کہ غیر قانونی تحویل کے علاوہ ان کی جس گفتگو کو بنیاد بنا کر سزا سنائی گئی وہ بھی کسی قانون کے تحت جرم نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بنا اجازت فون ٹیپ کرنا خلافِ قانون ہے اور وہ اس معاملے کو بھی عدالتِ عظمٰی میں اٹھائیں گے۔ کرنل غفار نے کہا کہ جب حکومت کو ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تو اس ذاتی ٹیلیفونک گفتگو کو سزا کی بنیاد بنا لیا گیا۔

کرنل عبدالغفار کے مطابق ان پر لگائے جانے والے الزامات میں اکتوبر سنہ 2002 اور مارچ سنہ 2003 کے درمیان حکومتی پالیسی پر تنقید کرنا، سنہ 2002 میں غیر ملکیوں کے ساتھ روابط اور سات نومبر سنہ 2004 کو حکومت کے خلاف اہانت انگیز ریمارکس دینے کے الزام شامل تھے۔

انہوں نے بتایا کہ کورٹ مارشل کے دوران انہیں غیر ملکیوں سے روابط اور حکومتی پالیسی پر تنقید کے الزامات سے تو بری کر دیا گیا اور سات نومبر دو ہزار چار کو اپنے بیٹے سے ٹیلیفون پرگفتگو کے دوران حکومت کو’بےغیرت‘ قرار دینے اور جنرل مشرف کو ملک میں’خانہ جنگی کا ذمہ دار ٹھہرانے‘ پر تین سال قید اور نوکری سے برخاستگی کی سزا سنائی گئی۔

القاعدہ کے رہنماخالد شیخ محمد سے روابط کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کرنل غفار نے بتایا کہ ان کی گرفتاری کے بعد ان سے ابتدائی تفتیش میں القاعدہ سے روابط کے بارے میں سوالات کیئے گئے تاہم جب فروری سنہ دو ہزار پانچ میں ان کے فیلڈ جنرل کا کورٹ مارشل شروع ہوا تو ان پر لگائے جانے والے الزامات میں نہ ہی القاعدہ اور نہ ہی اس کے کسی لیڈر کا کوئی ذکر تھا اور ان کی چارج شیٹ ہی ان کی بے گناہی کا ثبوت ہے۔

سزا کی بنیاد۔۔۔
 کرنل عبدالغفار کو اپنے بیٹے سے ٹیلیفون پرگفتگو کے دوران حکومت کو’بےغیرت‘ قرار دینے اور جنرل مشرف کو ملک میں’خانہ جنگی کا ذمہ دار ٹھہرانے‘ پر تین سال قید اور نوکری سے برخاستگی کی سزا سنائی گئی۔
 

کرنل غفار نے بتایا کہ انہیں چار مارچ سنہ دو ہزار تین کو راولپنڈی سےگرفتار کیا گیا تھا اور بیس ماہ تک نہ ہی ان کے خلاف کوئی چارج شیٹ پیش کی گئی اور نہ ہی ان پر کسی قسم کا مقدمہ قائم کیا گیا جبکہ حاضر سروس فوجی ہونے کے ناتے فوجی قوانین کے تحت ان کی گرفتاری کے چوبیس گھنٹوں کے اندر چارج شیٹ پیش کیا جانا اور آٹھ دن کے اندر اندر مقدمہ شروع کیاجانا ضروری تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ انہیں اکیس ماہ کی قید کے دوران نو ماہ تک راولپنڈی، نو ماہ تک اٹک قلعے اور بقیہ عرصہ پنو عاقل چھاؤنی میں رکھا گیا اور اس دوران نہ ہی ان کے گھر والوں کو ان سے ملنے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی باہر کی دنیا سے ان کا قسم کا کوئی اور رابطہ رہا۔

کرنل عبدالغفار کے غیر قانونی تحویل کے دعوے کے حوالے سے جب پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے پر تفصیلی تبصرہ نہیں کرنا چاہتے تاہم اس وقت جو بھی کارروائی کی گئی تھی وہ فوجی قانون کے مطابق تھی۔

یاد رہے کہ فروری دو ہزار تین میں القاعدہ کے اہم رہنما خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد کرنل غفار سمیت چھ فوجی افسران کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے میجر روحیل فراز، میجر عطا اللہ وٹو اور کیپٹن ڈاکٹر عثمان کو دو سال تین ماہ تک حراست میں رکھنے اور نوکری سے برحاستگی کے بعد رہا کر دیا گیا تھا جبکہ کرنل عبدالغفار، میجر عادل قدوس اور کرنل خالد محمود عباسی کا کورٹ ماشل ہوا تھا اور انہیں سزا سنائی گئی تھی۔ اس وقت ان سزا یافتہ افراد میں سے صرف عادل قدوس قید میں ہیں جبکہ دونوں سابق کرنل قید پوری کرنے کے بعد رہا ہو چکے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
کرنل غفار پشاور جیل سے رہا
02 November, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد