BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 08 December, 2006, 17:46 GMT 22:46 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
دو دن میں جزائر چھوڑنے کا حکم
 

 
 
ماہی گیر
بنڈال کے ماہی گیروں کو دو دن میں جزیرہ چھوڑنے کا حکم دیا گیا ہے
کراچی میں ماہی گیروں اور سیاسی جماعتوں کے اعتراضات اور خدشات کے باوجود بنڈال اور ڈنگی جزائر پر جدید شہر کے تعمیراتی منصوبے پر عملدر آمد شروع ہوگیا ہے۔

بنڈال جزیرے پر وقتی طور پر رہائش پذیر ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ انہیں اہلکاروں نے متنبہ کیا ہے کہ وہ دو دن میں وہاں سے چلے جائیں۔

وفاقی حکومت نے کراچی سے چار کلومیٹر دور بحیرۂ عرب میں واقع جزیروں بنڈال اور ڈنگی کو متحدہ عرب امارات کی ایک نجی کمپنی کےحوالے کرتے ہوئے رہائشی منصوبے کی منظوری دی تھی۔

اس منصوبے کو ڈائمنڈ آئی لینڈ سٹی کا نام دیا گیا ہے اور اس پر تینتالیس ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

ماہی گیر
پاکستان فشر فورک نے ڈائمنڈ آئی منصوبے کے خلاف احتجاج کیا ہے

بارہ ہزار ایکڑ پر بنائی جانے والی اس رہائشی سکیم میں پورٹ قاسم اتھارٹی کے پندرہ فیصد حصص ہوں گے۔

اس منصوبے پر جمعہ سے عملدر آمد شروع ہوگیا ہے۔ ڈنگی جزیرے پر زمین کی سطح ہموار کرنے کے لیے چھ ٹریکٹر پہنچائے گئے ہیں جبکہ مزدور زمین سے چھوٹے درختوں کو کاٹ رہے ہیں۔ اہم شخصیات کی متوقع آمد کے لیئے دو ہیلی پیڈ بھی بنائے گئے ہیں۔

ان منصوبوں کے خلاف سرگرم ماہی گیروں کی تنظیم پاکستان فشر فوک کے رہنما محمد علی شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعہ کی دوپہر بارہ بجے کے قریب فوجی اہلکاروں نے جھگیوں پر دہاوا بول دیا اور ماہی گیروں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔

محمد علی شاہ کے مطابق بنڈال پر ماہی گیروں کی بنائی ہوئی عارضی رہائش گاھوں کو مسمار کرکے انہیں سردی میں بے گھر کیا گیا ہے۔ اہلکاروں نے انہیں دھمکا کر کہا کہ وہ فوری طور جزیرے سے نقل مکانی کر جائیں۔

کراچی کی اہم شاہراہوں پر ڈائمنڈ سٹی آئی لینڈ کی تشہیر کے لیے بڑے بڑے بورڈ آویزاں کیئے گئے ہیں جن میں ایک خوبصورت شہر کو دکھایا گیا ہے۔

ماہی گیروں کی جھونپڑیاں
ماہی گیر اس جزیرے پر پڑاؤ ڈالتے ہیں اور مچھلیاں سکھاتے ہیں

ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ ان جزائر کے اطراف میں مینگروو کے درخت ہیں جن میں مچھلی کی افزائش ہوتی ہے۔ ماہی گیروں کی بستی ابراہیم حیدری سے کھلے سمندر میں جانے اور پورٹ قاسم بندرگاہ کا گزر بھی ان جزیروں کے سامنے سے ہے اور اس منصوبے کی تعمیر سے دونوں راستے متاثر ہوں گے۔

بنڈال جزیرہ ماہی گیروں کے عارضی قیام اور مچھلی سُکھانے کے کام آتا ہے۔ کھلے سمندر میں جانے والے ماہی گیر واپسی پر چھوٹی چھوٹی جھگیوں میں اسی جزیرے پر رہتے ہیں جبکہ جزیرے کے کھلے میدان میں مچھلی اور جھینگے دھوپ میں سکھائے جاتے ہیں۔

وفاق اور صوبہ سندھ کے درمیان بھی ان جزائر کی حق ملکیت پر تنازعہ کھڑا ہوا تھا۔ صوبائی حکومت کا مؤقف اختیار کیا تھا کہ یہ جزائر صوبے کی ملکیت ہیں اور اس کی رقم اسے ملنی چاہیئے۔ ان کا مؤقف تھا کے صوبے کی منظوری کے بغیر کوئی تعمیر شروع نہیں ہوگی۔ جس کا ابھی تک تعین نہیں ہوسکا ہے۔

 
 
ماہیگیر بچے’نیا دبئی‘ منصوبہ
لیکن یہاں کے ماہیگیر کہاں جائیں گے؟
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد