BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 15 December, 2006, 08:46 GMT 13:46 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی:ہنگامہ آرائی، دو ہلاک
 

 
 
  پولیس
سہراب گوٹھ میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئی
کراچی میں پشتون لویہ جرگہ کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر شہر کے پشتوں آبادی والے علاقوں میں ہنگامہ آرائی ہوئی ہے جس دوران فائرنگ سے دو نوجوان ہلاک اور سات اہلکاروں سمیت دس افراد زخمی ہوگئے ہیں۔

پشتون لویہ جرگہ نے پشتون بستیوں کو مسمار کرنے اور ٹرانسپورٹروں کے خلاف کارروائیوں کے احتجاج میں جمعہ کو ہڑتال کی کال دی تھی۔

کراچی کے پشتون آبادی والے علاقے سہراب گوٹھ پر صبح سویرے ہی لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور سپر ہائی وے پر رکاوٹیں کھڑی کرکے ٹریفک کو معطل کردیا۔ مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس پہنچی تو ان کی مظاہرین سے جھڑپیں ہوئیں جس کے بعد پولیس پر پتھراؤ کیا گیا اور دونوں جانب سے فائرنگ کی گئی۔

فائرنگ کے دوران اندرون ملک سے آنے والی ایک بس کا مسافر سراج گولی لگنے سے ہلاک ہوگیا جبکہ چار سے زائد پولیس والے بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

مشتعل مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے رینجرز کو طلب کیا گیا ہے۔ مظاہرین کا پیچھا کرتے ہوئے رینجرز کی ایک گشتی گاڑی الٹ گئی جس میں سوار تین اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔

سہراب گوٹھ، قائد آباد اور قصبہ کے علاقوں میں مشتعل افراد نے ایک پولیس چوکی کو نذر آتش کردیا ہے جبکہ دو بینکوں اور ایک پیٹرول پمپ کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔

اس کے علاوہ دس کے قریب گاڑیوں کو جلایا گیا ہے جن میں موٹرسائیکل اور کاریں شامل ہیں۔

ڈیفینس کے علاقے میں قیوم آباد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ میں ایک شخص یونس خان ہلاک ہوگیا ہے اور علاقے میں کشیدگی پائی جاتی ہے۔

ڈی آئی جی کراچی مشتاق شاہ کا کہنا ہے کہ سہراب گوٹھ میں صبح سے ہی لوگ باہر نکل آئے اور انہوں نے ٹائر جلائے اور ہوائی فائرنگ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کرکے انہیں پیچھے دھکیلا ۔

ڈی آئی جی کے مطابق پولیس نے پچاس سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور اب صورتحال قابو میں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والا نوجوان دو فریقین کے دوران فائرنگ میں ہلاک ہوا ہے اور اس کا ہنگامہ آرائی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سندھ کے مشیر داخلہ وسیم اختر کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں جو ہلاکتیں اور نقصان ہوا ہے اس کا مقدمہ ہڑتال کی کال دینے والوں کے خلاف دائر کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ اس ہڑتال کے سیاسی مقاصد ہیں کیونکہ یہ اتنے بڑے مسائل نہیں ہیں جن کے لیے ہڑتال کی جائے۔

ہڑتال کی کال دینے والے پشتون لویہ جرگہ کے رہنما شاہی سید نے بی بی سی کو بتایا کہ ہڑتال کے دوران پولیس فائرنگ کرکے ہم پر ایف آئی آر درج کروانا چاہتی ہے۔ ’وہ سمجھ رہے ہیں کہ اس سے پشتون قوم کو دبا دیں گے مگر ہم حکومت کو بتانا چاہتے ہیں کہ نے ہم ایف آئی آر اور نہ ہی جیل سے ڈرتے ہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ہنگامہ آرائی میں پولیس کے ساتھ سادہ کپڑوں میں لوگ آتے ہیں، جو بلاوجہ فائرنگ کرتے ہیں، لوگوں نے جو نعرے لکھے ہیں انہیں مٹاتے ہیں ور پوسٹروں کو اتارتے ہیں۔

شاہی سید نے ہڑتال کے بارے میں بتایا کہ کچی آبادیوں کو مسمار کرنے، ٹرانسپورٹروں کو مختلف طریقوں سے تنگ کرنے کے خلاف انہوں نے پرامن ہڑتال کی کال دی تھی۔ جس میں تمام سیاسی جماعتوں کے لوگ شامل ہیں۔ ’کبھی یہ ٹرانسپورٹ والوں کو کبھی کچی آبادی میں رہنے والے غریب لوگوں کو مافیا کہتے ہیں۔’

شاہی سید نے بتایا کہ پچھلے بلدیاتی الیکشن میں جو گاڑیاں استعمال کی گئیں تھیں ان کا کرایہ ابھی تک ادا نہیں کیا گیا اور انیس سو پچانوے سے جو گاڑیاں جلائی گئیں ہیں ان کا بھی معاوضہ ٹرانسپورٹروں کو نہیں ملا ہے۔

ٹرانسپورٹروں کی ہڑتال اور شہر میں داخلہ کی دو اہم سڑکوں سپر ہائی وے اور قومی شاہراہ پر ہنگامہ آرائی کی وجہ سے کراچی میں پبلک ٹرانسپورٹ کی آمد رفت معطل رہی اور لوگوں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

واضح رہے کہ مجلس تحفظ حقوق اللہ نے بھی حقوق نسواں بل کے خلاف جمعہ کو ہڑتال کا اعلان کیا تھا جو پشتون ایکشن کمیٹی کی اپیل پر ملتوی کر دیا گیا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد