BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 20 December, 2006, 16:52 GMT 21:52 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’تمہیں کون بچانے آئےگا‘
 

 
 
سلیم بلوچ
سلیم بلوچ کو کوئی ایک ہفتہ قبل رہا کیا گیا ہے (فائل فوٹو)
پاکستان میں سات ماہ بعد ریاستی اداروں کی قید سے رہا ہونے والے جمہوری وطن پارٹی کے نائب صدر سلیم بلوچ نے انکشاف کیا ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں سے حراست میں لیے گئے کوئی چودہ افراد اس وقت بھی راولپنڈی کے اذیت خانوں میں قید ہیں۔

انہوں نے قید میں تشدد سے تنگ آ کر خود کشی کی کوشش کا بھی اعتراف کیا۔ سلیم بلوچ کو اس سال دس مارچ کو کراچی سے حراست میں لیا گیا تھا اور انہیں کوئی ایک ہفتہ قبل رہا کیا گیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گرفتاری کے دن وہ لیاری میں اخبار کی خریداری کے لیے مقامی بک اسٹال پر موجود تھے کہ اچانک سادہ لباس میں ملبوس اہلکاروں نے انہیں گھیرے میں لے لیا، ہتھکڑی پہنا کر ایک کار میں بٹھایا، آنکھوں پر پٹی باندھی اور انتہائی تیز رفتاری سے نامعلوم مقام کی طرف لے گئے۔

سلیم بلوچ کے مطابق گرفتاری سے قبل انہوں نے اپنے کارکن سعید بروہی کو بلایا تھا جو بات اہلکاروں کے علم میں تھی، انہیں قافلے میں اس مقام پر پہنچا دیا گیا جہاں سعید بروہی ان کی آمد کے منتظر تھے۔ اس طرح سعید کو بھی اٹھا لیا گیا۔

سلیم بلوچ نے بتایا کہ ان دونوں کی آنکھوں پر پٹی اور ہاتھوں میں ہتھکڑی ڈال دی گئی اور ایک چار دیواری کے اندر کمرے میں پہنچایا گیا اور سوالات کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس دوران انہیں اور سعید کو الگ الگ رکھا گیا۔ ان کے مطابق اس انتہائی گندے کمرے میں انہیں انتالیس دن رکھا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ اٹھارہ اپریل کو پرائیوٹ گاڑیوں کے ایک مختصر قافلے میں بذریعے سڑک انہیں راولپنڈی منتقل کیا گیا جہاں تمام عرصے ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی رہی۔ وہاں وہ ساٹھ دن رہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں ذہنی اذیت دینے کے لیے ایک ایسے کمرے میں رکھا گیا جہاں دیواروں پر تصویریں لگی ہوئی تھیں جن میں ایک تصویر میں کسی شخص کو الٹا لٹکایا ہوا تھا۔ایک اور تصویر میں ایک شحص کو ذبح کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ایک تصویر میں ایک شخص کے جسم میں ڈرل مشین سے سوراخ کیا جا رہا تھا۔

سلیم نے بتایا کہ وہ یہ تمام مناظر نہ دیکھ سکے اور بیمار ہو گئے۔ بعد میں انہیں کمرے کے اس حصے میں لے جایا گیا جہاں لوگوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا تھا۔

ان کے مطابق وہاں انہیں اندازہ ہوا کہ شاید وہ پاکستان کے کسی قید خانے میں نہیں گوانتانامو بے یا عراق کے ابو غریب جیل میں ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ان ساٹھ دنوں میں نائب جیلر انہیں گالیاں دیتا رہا ان کے ساتھ نازیبا الفاظ استعمال کرتا رہا۔ وہ کہتے تھے کہ یہاں تمہیں کون بچائے گا؟ کیا بگٹی بچائے گا؟

سلیم بلوچ نے بتایا کہ اس جیل میں عبدالرؤف ساسولی، احمد خان مری، امین مری، کراچی کا نوجوان بلال، حافظ طارق، حاجی داؤد مینگل، حاجی گل احمد مری، کریم مری، میر اصغر مری، میر ہزار مری، مصری خان مری، مٹھا خان مری، مراد بخش مری اور سعید مری قید تھے جن میں سے سعید بروہی اور رؤف ساسولی کو آزاد کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ان سے یہ اعتراف کرنے کو کہا جاتا کہ وہ بلوچستان لبریشن آرمی کے سربراہ ہیں اور انہوں نے پڑوسی ملک سے پچاس کروڑ کا اسلحہ لیا ہے اور ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

انہوں نے بتایا ان سے سردار عطا اللہ مینگل اور بالاچ مری کے بارے میں بھی طرح طرح کے سوال کیے جاتے تھے۔

ان کے مطابق وہ خود کو زندہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے قید میں خود کشی کی کوشش بھی کی تھی اور ایک مرتبہ تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی کی جس کے بعد انہیں ہسپتال لے جایا گیا جہاں فوجی ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ ان کی آنکھ کا آپریشن ضروری ہے مگر انہوں نے نہیں کروایا جس وجہ سے بینائی متاثر ہو گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انہیں ان کی پارٹی سربراہ اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بارے میں رہا ہونے کے بعد معلوم ہوا جس کا دکھ وہ کبھی بھول نہیں سکتے۔

 
 
اسی بارے میں
بلوچ استاد حراست میں ہلاک
22 April, 2006 | پاکستان
سکیورٹی سخت، 70 زیر حراست
13 August, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد