BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 21 December, 2006, 15:00 GMT 20:00 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’ کوئلے کی کان کنی یا موت کاکھیل‘
 

 
 
کوئلے کی کان
اورکزئی ایجنسی میں روزانہ آٹھ سو سے لے کر ایک ہزار ٹن کوئلہ نکلتا ہے
پاکستان کے قبائلی علاقے اورکزئی ایجنسی میں کوئلے کی کانوں میں کام کرنے والے کان کن اور مزدور کان مالکان کی جانب سے استحصال کے باعث عدم تحفظ اور دوسرے مسائل کا شکار ہیں۔

انیس سو اکہتر میں وجود میں آنے والی اورکزئی ایجنسی کا شمار ملک کے پسماندہ اور غریب ترین قبائلی علاقوں میں ہوتا ہے۔

یہ واحد قبائلی ایجنسی ہے جن کی سرحدیں پڑوسی ملک افغانستان سے نہیں ملتیں۔ معدنیات کی دولت سے مالا مال اس ایجنسی میں کوئلہ اسّی کی دہائی میں دریافت ہوا۔

اس قیمتی معدنی ذخیرے کی دریافت سے ایک طرف اس پسماندہ قبائلی ایجنسی میں عوام کی معاشی حالت میں کچھ بہتری آئی تو دوسری طرف کوئلے کی ان کانوں میں کام کرنے والے کان کنوں یا مزدوروں کو کئی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔

اورکزئی ایجنسی میں کوئلہ سب سے پہلے شاہوخیل اور کاشہ کے علاقوں میں دریافت ہوا جبکہ شیخان اور تورہ اوڑی کے علاقوں میں بھی کوئلے کے وسیع ذخائر پائے جاتے ہیں۔

مقامی لوگ اپنے طور پر تجربے کی بنیاد پر کھودائی شروع کرتے ہیں

خوچہ میلہ کے پہاڑوں میں واقع کوئلہ کی ان کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں میں سے زیادہ تر کا تعلق سوات یا افغانستان کے علاقوں سے ہے۔ افغانستان کے شہر جلال آباد سے تعلق رکھنے والے ایک کان کن گل خان نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ’ کوئلے کی کانوں میں کام کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’یہ ایک انتہائی خطرناک اور کٹھن کام ہے جس کے لیے مہارت درکار ہوتی ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’ کوئلے کے کانوں میں کام کرنا موت سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ اسّی سے سو فٹ تک گہری کانوں سے جب ہم کندھوں پر کوئلے کی بوریاں رکھ کر نکالتے ہیں تو اس وقت ہمارے ذہن میں صرف ایک ہی بات ہوتی ہے کہ ہمارے آگے جانے والے ساتھی مزدور سے بوری نہ گرے ورنہ پیچھے آنے والے کی موت یقینی ہے‘۔

35 سالہ گل خان کا کہنا تھا کہ ان کے پانچ بچے ہیں اور وہ سخت مجبوری کی وجہ سے کوئلے کی کانوں میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ کوئلہ مالکان اور حکومت کی جانب سے ہمیں کوئی تحفظ حاصل نہیں اور نہ ہی کام کرنے سے پہلے ہمارے ساتھ کوئی تحریری معاہدہ ہوتا ہے۔ خدا ناخواستہ اگر ہمارے ساتھ کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو ہمارے بچوں کو کوئی تحفظ حاصل نہیں‘۔

انہوں نے مزید بتایا کہ صرف کھدائی کی انہیں روزانہ کے حساب سے دو سو سے لیکر تین سو روپے دیہاڑی ملتی ہے اور اگر کوئلہ نکل آتا ہے اور کان کامیاب ہو جاتی ہے تو پھر پیسے بھی بڑھتے ہیں اور دیہاڑی پانچ سو سے چھ سو روپے تک پہنچ جاتی ہے۔

پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کے زیادہ تر کانوں تک سڑکوں کا کوئی وجود نہیں

اورکزئی ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ممبر قومی اسمبلی اور وفاقی وزیر برائے
ثقافت ڈاکٹر جی جی جمال اورکزئی سے ان مزدوروں کے مسائل کے حوالے سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان مزدوروں کے مسائل کے حل کے لیے اورکزئی ایجنسی میں ایک ریسکیو سنٹر بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس پر بہت جلد کام شروع ہونے والا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سنٹر میں کان کنوں کو مختلف قسم کے تربیتی کورسزز کرائے جائیں گے جبکہ اس کے ساتھ مزدوروں کے بچوں کے لیے تعلیم اور صحت عامہ کے مراکز بھی قائم کیے جائیں گے۔

اورکزئی ایجنسی میں روزانہ آٹھ سو سے لے کر ایک ہزار ٹن کوئلہ نکلتا ہے جو سرحد اور پنجاب کے مختلف سیمنٹ فیکٹریوں اور اینٹوں کے بھٹوں کو سپلائی کیا جاتا ہے۔ پہاڑی علاقہ ہونے کی وجہ سے کوئلے کے زیادہ تر کانوں تک سڑکوں کا کوئی وجود نہیں جبکہ بجلی کے سہولیات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں جس کے باعث مالکان کو کوئلہ نکالنے کے لیے مجبوراً روایتی طریقوں کو استعمال میں لانا پڑ رہا ہے۔

علاقے میں کوئلے کی تلاش کے لیے سروے وغیرہ کا بھی کوئی تصور نہیں اور نہ ہی اس سلسلے میں انجنیئروں کی مدد لی جاتی ہے بلکہ مقامی لوگ اپنے طور پر تجربے کی بنیاد پر کھودائی شروع کرتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں اکثر اوقات ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

’حکومت کی جانب سے ہمیں کوئی تحفظ حاصل نہیں‘

شاہو خیل کے علاقے میں محبت خان نامی کوئلے ایک تاجر کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں کوئلے کے ذخائر کا پتہ لگانے کے کام میں خاصی مہارت حاصل ہے اور وہ جس جگہ پر کھدائی شروع کراتے ہیں وہاں کوئلہ ضرور نکل آتا ہے۔ محبت خان نے بتایا کہ’میں تجربے کی بنیاد پر کوئلے کا پتہ لگاتا ہوں اور اب تک میں نے جتنے بھی کانوں کا سراغ لگایا ہے ان سب میں کوئلہ نکلا ہے۔ جس پہاڑ میں کوئلے کے ذخائر ہوتے ہیں وہاں پتھروں کے تین فرش کاٹنے پڑتے ہیں جس کے بعد کوئلہ نکلتا ہے‘۔

اورکزئی جیسی پسماندہ ایجنسی میں کوئلہ نکلنا ایک بڑی نعمت سے کم نہیں لیکن حکومت کی جانب سے ان کانوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے مسائل میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ اس قیمتی معدنی صنعت کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد