BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 27 December, 2006, 08:15 GMT 13:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
دورِ حاضر کا بڑا شاعر
 

 
 
منیر نیازی
اشفاق احمد کے بقول منیر نیازی کی طبعیت میں تعلی اور خود پسندی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا
لاہور سے تنویر کا فون آتا ہے: ایک بری خبر ہے۔

’بری خبر؟‘ میں کہتا ہوں اور میرا دل بے طرح دھڑکنے لگتا ہے۔ اس طرف لمحے بھر میں کتنی ہی بری باتیں دماغ میں آتی اور گزر جاتی ہیں اور دوسری طرف ایک لمبی چپ ہے اور قیاس آرائیوں کی سائیں سائیں۔

میں کسی بات پر قائم نہیں ہونا چاہتا۔ شاید میں کسی بھی دکھ کا سامنا کرنے کے لیے تیار نہیں۔

’خیریت کیا ہوا؟‘ میں ایک سرسری سے رسمی سوال کے پیچھے دُبکنے کے کوشش کرتا ہوں۔ چولستان میں شتر مرغ نہیں ہوتے لیکن شاید صحرا کے رہنے والوں میں ان کی کچھ خصوصیت آ جاتی ہے۔

’منیر نیازی صاحب کا انتقال ۔ ۔ ۔‘ دوسری طرف سے تنویر کی لرزتی ہوئی آواز آتی ہے۔ میں پورا جملہ نہیں سُن پاتا۔

’کیا۔ ۔ ۔ نہیں‘ میں بے ساختہ کہتا ہوں۔

تنویر سے ملاقات بہت پرانی نہیں لیکن ایسی ہے جیسے ہم ایک دوسرے کو بہت جانتے ہیں، اس سے کسی غیر ذمہ داری کا گمان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

’ہاں، تھوڑی ہی دیر پہلے‘۔

’تنویر! کیا آپ کو پورا یقین ہے؟ کیا آپ نے ری چیک کر لیا ہے؟ میں سب کچھ جانتے ہوئے بھی یقین کرنے کو تیار نہیں ہوتا۔

یہ تو بہت ہی بری خبر تھی۔ ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کے بارے میں چھوٹی چھوٹی بُری خبریں سننے پر بھی تیار نہیں ہوتے۔

میں مزید تفصیل جاننا چاہتا ہوں۔ وہ صرف اتنا بتا پاتی ہیں کہ سانس کی تکلیف ہوئی تھی۔ ہسپتال لے جایا گیا اور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا اور اس کے ساتھ ہی فون کا سلسلے منقطع ہو جاتا ہے۔

عذرا میرا منہ دیکھ رہی ہیں۔ ہم تھوڑی ہی دیر پہلے گھر پہنچے ہیں۔ پروین راؤ اپنی بیٹی ساشا کے ساتھ ہمیں گھر لائی ہیں۔ عذرا کہتی ہیں فاطمہ کو فون کر لوں۔ میں فاطمہ کو فون کرتا ہوں۔

’ہاں،انور میں ایئر پورٹ جا رہی ہوں، جو بھی پہلی فلائٹ ملے گی لاہور چلی جاؤں گی‘۔ فاطمہ میری طرف سے کسی سوال کے بغیر جواب دیتی ہے۔

ہمارے درمیان چونتیس سال کا تعلق ہے۔ ہم ایک ساتھ منیر نیازی سے ملے اور اس بات کو بھی تیس سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ شاید اسے یقین تھا کہ اگر اس وقت میرا فون آیا ہے تو اس کا باعث منیر نیازی کے سوا کیا ہو گا۔

اسے علم تھا کہ میرے پاکستان آنے میں یہ بات بھی شامل تھی کے میں منیر نیازی سے ملوں گا اور ان کے ساتھ ایک دن گزاروں گا اور ان سے گفتگو کروں گا۔

اور پھر لائن کٹ گئی
 میں پاکستان آنے سے قبل منیر نیازی صاحب کے ہاں فون کرتا رہا لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔ پھر میں نے فاطمہ حسن کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ میں پاکستان کیوں آرہا ہوں اور انہوں نے یقین دلایا کہ آ جائیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لاہور جا کر پتہ چلا منیر نیازی کا فون اکثر خراب رہتا ہے۔ لائن مین آتا ہے فون ٹھیک کرتا ہے اور چلا جاتا ہے اور فون پھر خراب ہو جاتا ہے
 

میں پاکستان آنے سے قبل منیر نیازی صاحب کے ہاں فون کرتا رہا لیکن ان سے بات نہیں ہو سکی۔ پھر میں نے فاطمہ حسن کو فون کیا اور انہیں بتایا کہ میں پاکستان کیوں آرہا ہوں اور انہوں نے یقین دلایا کہ آ جائیں کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔ لاہور جا کر پتہ چلا منیر نیازی کا فون اکثر خراب رہتا ہے۔ لائن مین آتا ہے فون ٹھیک کرتا ہے اور چلا جاتا ہے اور فون پھر خراب ہو جاتا ہے۔

اسلام آباد سے ہوتا ہوا لاہور پہنچا تو عبداللہ حسین صاحب سے بات کی انہوں نے پوچھا اور کس کس سے ملاقات کر رہے ہو، میں نے منیر نیازی صاحب سمیت سب کے نام بتائے۔ انہوں نے کہا وہ تو بیمار ہیں۔ یہ تو مجھے بھی پتا تھا لیکن میں نے کہہ دیا اب ٹھیک ہیں اور ان سے ملاقات کا دن طے کر لیا۔

اسی دوران فیصل حنیف سے ملاقات ہوئی۔ وہ ان دنوں منیر نیازی صاحب کے سب سے زیادہ قریبی رفیق تھے۔ شاعر اور کمال کے خـوش باطن انسان بھی۔ انہوں نے ہی منیر نیازی صاحب سے مختصر ملاقات کے امکان کو نہ صرف ایک طویل ملاقات بلکہ مسلسل کئی ملاقاتوں میں تبدیل کردیا۔ ان میں دو شبانہ ملاقاتیں تنویر اور وجاہت کے گھر پر ہوئیں۔

شاید بی بی سی اردو سے منیر نیازی کی وہ گفتگو ذرائع ابلاغ کے کسی بھی ادارے سے آخری گفتگو تھی۔ اسی طرح تنویر اور وجاہت کے ہاں ان کی نشست لاہور میں کسی کے ہاں ان کی آخری نشست تھی۔

ان ملاقاتوں میں منیر نیازی صاحب نے علالت کے باوجود بڑی خوشی سے شرکت کی اور دیر تک شاعری سنائی اور یہ سب انہوں نے ہم سے اظہارِ محبت کے لیے بھی کیا لیکن اگر فیصل نہ ہوتے تو یہ ممکن نہ ہوتا۔

اسی لیے مجھے فیصل پر رشک آتا ہے۔ وہ منیر نیازی پر فریفتگی میں مجھ سے بہت آگے ہے۔

اس لیے میں نے فاطمہ کے بعد فیصل کو فون کیا لیکن ابھی میں نے بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے نے کہا کہ فون بند کر دیں۔ وہ بچوں کے ساتھ لاہور سے کہیں جا رہے تھے کہ انہیں راستے میں اس سانحے کی خبر مل گئی اور اب وہ کار کو واپس لاہور کی طرف دوڑا رہے تھے۔

اب منیر نیازی ہمارے درمیان نہیں ہیں اور میں اس بات کا اعتراف کرنے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتا کہ میں منیر نیازی کو دور حاضر کے شعرا میں سب سے بڑا شاعر سمجھتا تھا لیکن مجھے یہ ڈر تھا کہ کہیں اس بات کو تعلقاتِ عامہ کا حصہ تصور نہ کیا جائے اس لیے میں نے یہ بات کبھی اُن کے سامنے نہیں کہی اور اس کے علاوہ کہی بھی تو اگر مگر لگا کر، پر اب اس خوف کا مرحلہ ٹل گیا ہے اور میں پوری ذمہ داری سے یہ کہہ سکتا ہوں کہ میر اور غالب کے بعد اردو شاعری کو ایک مکمل شاعر صرف منیر نیازی ملا ہے۔

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مجھے اقبال اور فیض کی بڑائی اور تاریخی حیثیت کا علم نہیں یا مجھے یہ نہیں پتا کہ ان دونوں بزرگوں کے طرف داروں کو یہ بات سمجھ میں آنا تو کجا سننا بھی گوارا نہیں ہو گی۔ لیکن معاملہ شاعری کا ہے اور نظریے کی خدمت گزاری اعلٰی تر شعری درجے پر ہونے کے باوجود خالص شاعری کا مقام نہیں پا سکتی، پا سکتی تو میر اور غالب کب کے راندۂ درگاہ ہو چکے ہوتے۔

لیکن رکیے ذرا اشفاق احمد کی بات بھی سنتے جائیے اور یہ بات اس جنوری میں اڑتالیس سال پہلے کی ہو جائے گی۔

’آخر میں مجھے منیر نیازی کی ذات پر ایک حملہ کرنا ہے اور وہ یہ کہ اس کی طبعیت میں تعلی اور خود پسندی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے اور وہ کسی دوسرے شاعر کو خاطر میں نہیں لاتا۔ وہ ہر وقت اپنی ہی شاعری کے چرچے کرتا ہے اور اس کے گن گاتا رہتا ہے لیکن رونا اس بات کا ہے کہ اس کی شاعری اس کی تعلی اور خود پسندی سے بھی دو قدم آگے نظر آتی ہے۔‘

اب جن لوگوں کو اشفاق احمد کی ادب فہمی پر اعتبار نہیں وہ پہلے ان پر اعتبار کرنے والوں سے نمٹ لیں۔

 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد