http://www.bbc.com/urdu/

Thursday, 14 December, 2006, 16:11 GMT 21:11 PST

رفعت اللہ اورکزئی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور

پاکستان زیادہ غیرمحفوظ: طالبان

طالبان نے کہا ہے کہ افغانستان کے مقابلےپاکستان ان کےلیے زیادہ غیر محفوظ جگہ ہے لہذا ان الزامات میں کوئی حقیقت نہیں کہ اسلامی ملیشیا کو پڑوسی ملک کی مدد وحمایت حاصل ہے۔

طالبان کے ترجمان قاری محمد یوسف نے جمعرات کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون کرکے بتایا کہ افغان صدر حامد کرزئی کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ افغانستان میں مکمل طورپر ناکام ہوگئے ہیں اور اپنی ناکامیوں کوچھپانے کےلیے اس قسم کے بیانات جاری کررہے ہیں۔

وہ افغان صدر کی جانب سے گزشتہ روز قندھار میں میڈیا کو جاری کیے گئے اس بیان پر تبصرہ کررہے تھے جس میں انہوں نے الزام لگا یا تھا کہ پاکستان نے افغانستان میں تشدد جاری رکھا ہوا ہے تاکہ وہ افغان عوام کو ’غلام‘ بنا لے ۔

ترجمان نے کہا کہ ’ طالبان اپنے ملک میں امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کے خلاف جہاد کررہے ہیں، ان کا ٹھکانہ اور مال واسباب سب یہاں پر ہیں نہ پاکستان کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق ہے اور نہ کبھی انہوں نے ہماری حمایت کی یہ سب الزامات ہیں جن میں کوئی حقیقت نہیں‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ الزامات شروع دن سے لگتےآ رہے ہیں مگر آج تک نہ تو امریکہ اور نہ ہی بقول ان کے کرزئی کی کٹھ پتلی انتظامیہ اس الزام کو ثابت کرسکے ہیں۔

قاری یوسف نے مزید کہا کہ کمیونسٹوں کی حمایت یافتہ حکومت میں بھی اس طرح کے الزامات مجاہدین پر لگتے رہے لیکن ساری دنیا کو پتہ ہے کہ ان کو بھی اسی طرح شکست کا سامنا تھا جس طرح بقول ان کے آجکل امریکیوں اوران کے حامیوں کو ہے۔

 ساری دنیا کو پتہ ہے کہ کمیونسٹوں کو بھی اسی طرح شکست کا سامنا تھا جس طرح کے آج کل امریکیوں اوران کے حامیوں کو ہے۔
 
طالبان کے ترجمان

انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ طالبان کو کیا ضرورت ہے کہ پاکستان میں پناہ لے، وہاں تو اسلامی ملیشاء افغانستان کے بہ نسبت زیادہ غیر محفوظ ہیں۔

ترجمان نے دعوی کیا کہ افغانستان کے بڑے بڑے شہروں کابل ، قندھار اور مزار شریف کے علاوہ زیادہ تر علاقے طالبان مجاہدین کے قبضے میں ہیں لہذا ان حالات میں انہیں پاکستان میں پناہ لینے کی ضرورت کیا ہے۔

قاری یوسف نے ایک اور سوال کے جواب میں واضح کیا کہ طالبان کے سربراہ ملا محمد عمر افغانستان میں ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ ملا عمر کو پاکستان میں پناہ لینے کی کیا ضرورت ہے جب ان کا اپنا ملک ہے تو کسی دوسرے ملک میں کیوں کر جائیں ۔

واضح رہے کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران افغانستان میں اتحادی افواج پرحملوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ افغان صدرحامد کرزئی نےحال ہی میں ان پرتشدد کاروائیوں کو روکنے کےلیے پاکستان اور افغانستان کے قبائل کا امن جرگہ بلانے کی تجویز پیش کی ہے تاہم طالبان نےاس مجوزہ جرگے میں شرکت کرنے سے انکار کیا تھا۔