BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 February, 2007, 12:40 GMT 17:40 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
اسلام آباد:لائبریری پرطالبات کاقبضہ
 

 
 
طالبات کا یہ قبضہ دو ہفتوں سے جاری ہے
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں بچوں کی لائبریری پر دینی مدرسے کی طالبات کا قبضہ بارہ روز گزر جانے کے بعد بھی برقرار ہے اور طالبات نے سرکاری عمارت کو تالے لگا کر سٹاف کو نکال دیا ہے۔

یہ پہلا موقع ہے کہ اسلام آباد جیسے اہم اور حساس شہر میں ایک سرکاری عمارت پر دو ہفتوں سے قبضہ کیا گیا ہے اور حکومت اس کا تصفیہ نہیں کرسکی ہے۔

لائبریری کے محکمہ میں رابطہ کیا تو ایک افسر نے کہا کہ حکومت نے انہیں لائبریری پر قبضے کے خلاف بات کرنے سے روکا ہے اس لیے وہ اپنا موقف نہیں بتا سکتے۔

تاہم انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بچوں کی مقبوضہ لائبریری میں آٹھ ہزار کے قریب کتابیں اور آڈیو ویڈیو کیسٹ موجود ہیں اور روزانہ ایک سو بچے وہاں آتے تھے۔

فی الحال مزید کارروائی نہیں
 اسلام آباد کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سکندر حیات سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ سرکاری لائبریری پر طالبات کے قبضے کے خلاف آبپارہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور حکومتی سطح پر لائبریری کا قبضہ خالی کرانے کے لیے بات چیت ہورہی ہے اس لیے پولیس فی الحال مزید کارروائی نہیں کر رہی۔
 
اسلام آباد کے سینیئر سپرنٹنڈنٹ پولیس سکندر حیات سے جب رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ سرکاری لائبریری پر طالبات کے قبضے کے خلاف آبپارہ تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اور حکومتی سطح پر لائبریری کا قبضہ خالی کرانے کے لیے بات چیت ہورہی ہے اس لیے پولیس فی الحال مزید کارروائی نہیں کر رہی۔

سیکٹر جی سِکس میں واقع لال مسجد سے ملحقہ خواتین کا مدرسہ جامعہ حفصہ، جس کی طالبات نے لائبریری پر قبضہ کیا ہے، اس کے نائب مہتمم مولانا غازی عبدالرشید سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے مساجد اور مدارس کو نہ گرانے کی تحریری یقین دہانی تک طالبات قبضہ نہیں چھوڑیں گی۔

انہوں نے بتایا کہ جامعہ حفصہ میں ساڑھے چھ ہزار طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور یہ دنیا میں خواتین کی اسلامی تعلیم کی سب سے بڑی درسگاہ ہے۔ ان کے مطابق جب اتنی بڑی تعداد میں برقعہ پہن کر طالبات آتی ہیں تو حکمرانوں کی روشن خیالی مجروح ہوتی ہے اور وہ مدرسے کو گرانا چاہتے ہیں۔

جب ان سے پوچھا کہ حکومت تو کہتی ہے کہ مدرسہ سرکاری زمین پر قبضہ کرکے تعمیر کیا گیا ہے تو انہوں نے کہا کہ مدرسے کے لیے حکومت سے منظوری لی تھی۔

البتہ ان کے مطابق گندے پانی کے نالے سے ملحقہ کچھ زمین نظریۂ ضرورت کے تحت استعمال میں لائی اور اس کی منظوری کے لیے درخواست بھی دی لیکن حکومت قبول نہیں کر رہی۔

غازی عبدالرشید نے جو حفاظتی اقدامات کے پیش نظر مدرسے کی عمارت میں خود ساختہ نظر بندی کاٹ رہے ہیں جمعرات کو ملاقات میں کہا کہ پاکستان میں کئی فوجی جرنیلوں اور با اثر افراد نے جو بڑے بڑے مکانات، پلازے اور فارم ہاؤسز غیر قانونی طور پر حاصل کر رکھے ہیں انہیں دو روز میں قانونی حیثیت دی جاتی ہے لیکن مساجد اور مدارس نے اگر تھوڑی بہت زمین حاصل کی تو اُسے ناجائز قرار دیا جاتا ہے۔

بچوں کی سرکاری لائبریری کی دیوار پر جو لوہے کا جنگلہ ہے اس پر طالبات نے کپڑے لگا کر پردہ کر رکھا ہے اور صدر دروازے کو تالہ لگادیا ہے۔

وہاں موجود برقعہ پوش طالبات سے بات کی تو اُم حسن نامی لڑکی نے کہا کہ مساجد اور مدارس گرانا غیراسلامی فعل ہے اور اس پر ہر مسلمان کا احتجاج کرنا فرض ہے۔

جب انہیں بتایا کہ بدھ کو وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پاؤ اور علماء کے وفد کی ملاقات میں معاملات بات چیت اور مفاہمت سے طے کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہمارے حکمران جو کہتے ہیں کرتے اس کے برعکس ہیں۔‘

انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک حکومت مساجد اور مدارس نہ گرانے کے بارے میں تحریری ضمانت نہیں دے گی اس وقت تک لائبریری کا قبضہ خالی نہیں کریں گے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد