BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 February, 2007, 18:27 GMT 23:27 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
حسبہ بل:’تین شقیں آئین سے متصادم‘
 

 
 
سپریم کورٹ
سپریم کورٹ کے لارجر بنچ نے اس ریفرنس پر اپنا فیصلہ متفقہ طور پر دیا۔
پاکستان کی عدالت عظمٰی نے اسلام آباد میں سرحد حکومت کے متنازعہ حسبہ بل پر اپنا فیصلہ سناتے ہوئے اس کی تین شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیا ہے۔

عدالت نے حسبہ بل کے تحت قائم صوبائی محتسب کے لیے عالم کی تقرری اور اہلیت کے بارے میں سرحد اسمبلی کو دوبارہ غور کرنے کے لیے کہا ہے۔

سپریم کورٹ کے آٹھ رکنی بینچ نے محتسب کے اختیارات کی خلاف ورزی کی صورت میں اسے توہین عدالت کے قانون کے تحت سزا دینے کے اختیار پر بھی اعتراض کیا ہے۔ سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ حسبہ بل کی شق تئیس کی خلاف ورزی کو شق نمبر چودہ کے تحت ڈیل کرنا درست نہیں۔

منگل کو سماعت کے بعد سنایا جانےوالا مختصر فیصلہ سپریم کورٹ نے سرحد حکومت کے صوبائی اسمبلی سے گزشتہ برس منظور کردہ متنازعہ حسبہ بل پر غور کے لیے بھیجے گئے ایک صدارتی ریفرنس کے تحت سنایا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں قائم بڑے بنچ نے اس ریفرنس پر اپنا فیصلہ متفقہ طور پر دیا۔

تاہم عدالت نے یہ بات نوٹ کی کہ اس کی جانب سے سنہ دو ہزار پانچ میں ایسے ہی ایک ریفرنس میں فیصلے پر صوبائی اسمبلی نے حسبہ بل کی شق نمبر دو(گیارہ) اور تین (دو) کے سوا تمام پر عمل درآمد کیا ہے۔

 حسبہ بل کے تحت قائم صوبائی محتسب کے لیے عالم کی تقرری اور اہلیت کے بارے میں سرحد اسمبلی کو دوبارہ غور کے لیے کہا گیا ہے جبکہ محتسب کے اختیارات کی خلاف ورزی کی صورت میں اسے توہین عدالت کے قانون کے تحت سزا دینے کے اختیار پر بھی سپریم کورٹ نے اعتراض کیا ہے۔
 

یہ شقیں محتسب کی اہلیت اور تقرری سے متعلق ہیں اور عدالت کا کہنا ہے کہ شاید یہ صوبائی اسمبلی کی توجہ حاصل کرنے سے رہ گئے تھے جن پر اب غور کیا جا سکتا ہے۔

اس فیصلے پر صوبائی حکومت کا ردعمل ابھی سامنے نہیں آیا ہے۔ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ حسبہ کے ادارے کے ذریعے ایک ایسا نظام متعارف کروانا چاہتی ہے جس سے عوام کو جلد انصاف مہیا کیا جاسکے اور معاشرے کو اسلامی رنگ میں ڈھالا جاسکے۔ تاہم اس بل کے مخالفین اسے مولویوں کا مارشل لاء قرار دیتے ہیں۔

دوسری مرتبہ سرحد اسمبلی سے حسبہ بل منظور کرواتے ہوئے صوبائی حکومت کا کہنا تھا کہ یہ نیا بل ہے۔ تاہم آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس مختصر فیصلے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اعتراضات میں کمی آئی ہے۔

 
 
اسی بارے میں
حسبہ بل، حکومت مخمصے میں
14 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد