BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 09 March, 2007, 16:52 GMT 21:52 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
یہ اہم مقدمات کاسال تھا:منیرملک
 

 
 
سپریم کورٹ
پاکستان میں سیاست اور عدلیہ کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی اہم سال ہے: منیر اے ملک
پاکستان سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر منیر اے ملک نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس عدلیہ پر ناقابل قبول حملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ درست ہے کہ آئین کی شق دو سو نو کے تحت ریفرنس دائر کیا جا سکتا ہے لیکن یہ کہاں پر لکھا ہے کہ وہ اس کو معطل کر سکتے ہیں۔ ’اس کا تو یہ مطلب ہوا کہ اگر میں آپ کے خلاف مقدمہ سن رہا ہوں تو آپ دو سو نو کے تحت مجھے معطل کر دیں‘۔

منیر اے ملک نے کہا کہ آئین میں جج کے خلاف کارروائی کا ایک طریقۂ کار وضح کیا گیا ہے جس کے تحت چاروں صوبوں کے چیف جسٹس ملتے ہیں ان میں سے سینیئر جج کاؤنسل میں شامل ہوتا ہے، وفاقی شرعی عدالت کا جج اس میں بیٹھتا ہے پھر اس جج کے خلاف ایک چارج شیٹ دی جاتی ہے اور انہیں صفائی کا موقع دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس کہاں ہیں؟
 چیلنج تو دو سو نو والے کریں گے نہ، وہ تو بتائیں کہ وہ آزاد ہیں، جہاں تک میری معلومات ہے چیف جسٹس صاحب تو ابھی تک آرمی ہاؤس میں بیٹھے ہیں
 
منیر اے ملک
انہوں نے حکومت کے اس موقف کی نفی کی کہ چیف جسٹس کو معطل نہیں کیا گیا بلکہ کیونکہ ان کے خلاف ایک ریفرنس ہے اس لیے قائم مقام چیف جسٹس نامزد کیا گیا ہے۔

چیف جسٹس کے خلا ف کارروائی کی ممکنہ وجوہات پر بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے صدر کا کہنا تھا کہ ان کے ذاتی خیال میں پاکستان میں سیاست اور عدلیہ کی تاریخ میں یہ ایک انتہائی اہم سال ہے کیونکہ اس سال سپریم کورٹ کے سامنے انتہائی اہم مقدمات آنے والے ہیں جن کے دور رس اثرات ہوں گے مثلاً دوہری شہریت کا معاملہ، صدر کے موجودہ اسمبلی سے انتخاب کا مسئلہ، آیا کہ جنرل مشرف صدر کا انتخاب لڑنے کے اہل بھی ہیں یا نہیں، لاپتہ افراد کا مقدمہ اور عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ میں اختیارات کے توازن کا معاملہ۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس فیصلے کو چیلنج کیا جا سکتا ہے منیر اے ملک نے کہا سب سے بڑی عدالت عوامی رائے کی عدالت ہوتی ہے اور سپریم کورٹ بار ایسو ای ایشن لوگوں کو متحرک کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ’چیلنج تو دو سو نو والے کریں گے نہ، وہ تو بتائیں کہ وہ آزاد ہیں، جہاں تک میری معلومات ہے چیف جسٹس صاحب تو ابھی تک آرمی ہاؤس میں بیٹھے ہیں‘۔

منیر ملک کے مطابق ملک بہت بھیانک دور کی طرف جارہا ہے، سماج میں جو عسکریت پسندی اور بدامنی ہے اس کا صرف عدلیہ خیال رکھے سکتی تھی اب اس ستون کو بھی توڑا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن بھرپور جدوجہد کرے گی اور ملک کی تمام بار ایسو سی ایشن کے ساتھ مل کر احتجاج کیا جائے گا۔

 
 
اسی بارے میں
چیف جسٹس آف پاکستان معطل
09 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد