BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 March, 2007, 10:05 GMT 15:05 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
معطلی: احتجاج، ہڑتال اور مظاہرے
 

 
 
 کراچی میں وکلاء کا احتجاج
کراچی میں بار ایسو سی ایشن کے ارکان چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں
پنجاب اور سندھ کی وکلاء تنظیموں نے چیف جسٹس کے خلاف کارروائی پر احتجاج کرتے ہوئے پیر اور منگل کو ہڑتال کا اعلان کیا ہے جبکہ کراچی اور کوئٹہ میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔

کراچی اور کوئٹہ میں آج وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور جلوس نکالا۔ بلوچستان سے پاکستان بار کونسل کے نائب صدر علی احمد کرد نے بتایا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چوہدری کی معطلی کا فیصلہ غیر آئینی ہے اور اس حوالے سے بلوچستان میں آج وکلاء نے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا جبکہ آئندہ کا لائحہ عمل کے لیے فیصلہ مرکزی سطح پر وکلاء تنظیمیں کریں گی۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری
کراچی میں وکلاء نے’گو مشرف گو، لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی‘
کے نعرے لگائے جبکہ صدر پرویز مشرف کا پتلا نذر آتش کیا گیا۔

تمام وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے کہا ہے کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو جس طرح سے ہٹایا گیا ہے وہ غیر قانونی ہے اور صدر جنرل پرویز مشرف کو یہ اختیار حاصل نہیں تھا۔

کراچی میں سندھ ہائی کورٹ، سٹی کورٹس اور ملیر کی عدالتوں میں سنیچر کو وکلاء کی غیر حاضری کی وجہ سے مقدموں کی سماعت کے لیے لائے گئے تمام قیدیوں کو واپس کردیا گیا۔

نعیم بخاری کا لائسنس
 پنجاب بار کونسل نے چیف جسٹس کے خلاف خط لکھنے والے وکیل اور معروف ٹی وی کمپئیر نعیم بخاری کا وکالت کا لائسنس منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ انہیں کسی بار میں داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی۔
 
پنجاب بار کونسل کے اجلاس میں ارکان نے متفقہ طور پر قرار دیا کہ ان کی نظر میں افتخار چودھری اب بھی اپنے عہدہ پر بحال ہیں۔

کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری کو بلا جواز اور غیر قانونی طور پر محبوس رکھا گیا اور ان پر استعفی دینے کا دباؤ تھا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

پنجاب بار کونسل نے کہا کہ وہ افتخار چودھری کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتی ہے کہ انہوں نے اپنے حلف کی پاسداری کی۔

کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ افتخار چودھری اس وقت نظر بند ہیں اور مطالبہ کیا کہ انہیں فوری طور پر آزاد کیا جائے۔

پنجاب بار کونسل نے کہا کہ چیف جسٹس کے خلاف خط لکھنے والے وکیل اور معروف ٹی وی کمپئیر نعیم بخاری نے پنجاب بار کونسل کے فیصلوں اور اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کی ہے۔ کونسل نے وکیل نعیم بخاری کا وکالت کا لائسنس منسوخ کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ انہیں کسی بار میں داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی۔

پنجاب بار کونسل کے وائس چئیرمین نے پریس کو کونسل کے فیصلوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ نو مارچ کا دن ملکی تاریخ کا بدترین دن ہے اور یہ یوم سیاہ ہے جسے بار کونسل ہر برس یوم سیاہ کے طور پر منایا کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ جب تک یہ مسئلہ آئینی طور پر حل نہیں ہوجاتا بار کونسل کے دفتر پر سیاہ پرچم لہرایا جائے گا۔

 چیف جسٹس کو ایسے موقع پر ہٹایا گیا ہے جب آنے والے دنوں میں جنرل مشرف کے صدارتی انتخاب لڑنے کا معاملہ عدالت عظمی میں آتا نظر آرہا تھا اور یہ عام انتخابات کا سال ہے جس میں چیف جسٹس افتخار چودھری دو سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت دے سکتے تھے۔
 

وائس چیئرمین نے کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں موجود دو ہائی کورٹس کے چیف جسٹس صاحبان ایک آمر حکمران کے آلہ کار بنے ہیں اور ان کے خلاف بار کونسل ریفرنس دائر کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اور پنجاب کے چیف جسٹس صاحبان کی چیف جسٹس افتخار چودھری سے خاصی دیر سے ناراضگی ہے اور بول چال بھی نہیں تھی۔

انہوں نے کہا یہ دونوں چیف جسٹس صاحبان متاثرہ فریق ہیں اس لیے انہیں سپریم جوڈیشل کونسل میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں طارق جاوید وڑائچ نے کہا کہ قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیے جانے والے جج جاوید اقبال بھی متاثرہ فریق ہیں کیونکہ وہ افتخار چودھری کےہٹنے سے چیف جسٹس بن سکتے ہیں اس لیے انہیں بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔

پنجاب بار کونسل کے اجلاس میں کہا گیا کہ ریفرنس تو کئی اور ججوں کے خلاف بھی دائر کیے گئے ہیں جو مدت سے زیر التواء ہیں اور ان پر کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ ان ججوں میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس ایم بلال، جسٹس شبر رضا رضوی اور سپریم کورٹ کے جج خلیل الرحمان رمدے شامل ہیں۔

کونسل کے وائس چیئرمین نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار چودھری سیاسی اعتبار سے اہم مقدمات کی سماعت کررہے تھے جن میں وزیراعظم شوکت عزیز کی دوہری شہریت کا مقدمہ اور لاپتہ افراد کا مقدمہ شامل تھے۔

متاثرہ فریق
  قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیے جانے والے جج جاوید اقبال بھی متاثرہ فریق ہیں کیونکہ وہ افتخار چودھری کےہٹنے سے چیف جسٹس بن سکتے ہیں اس لیے انہیں بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔
 

انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس کو ایسے موقع پر ہٹایا گیا ہے جب آنے والے دنوں میں جنرل مشرف کے صدارتی انتخاب لڑنے کا معاملہ عدالت عظمیٰ میں آتا نظر آرہا تھا اور یہ عام انتخابات کا سال ہے جس میں چیف جسٹس افتخار چودھری دو سابق وزرائے اعظم بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت دے سکتے تھے۔

پنجاب بار کونسل نے کہا کہ وہ چیف جسٹس افتخار چودھری کی نظر بندی ختم ہونے پر ان کا استقبال کرے گی۔

پنجاب کے ساٹھ ہزار سے زیادہ وکلاء کی تنظیم پنجاب با رکونسل کے پچہتر منتخب ارکان ہیں جن میں سے پندرہ ارکان نے آج ایک ہنگامی اجلاس کیا جبکہ کونسل کے سربراہ اور وائس چیئرمین طارق جاوید وڑائچ کے مطابق پچیس ارکان نے اجلاس کے لیے اپنے پیغامات بھیجے۔

 
 
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
 
 
مسئلہ کس کو تھا؟
افتخار محمد چوہدری کے ریکارڈ پر ایک نظر
 
 
جسٹس افتخارچیف جسٹس معطل
جسٹس افتخار کی جگہ جسٹس جاوید کا تقرر
 
 
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
 
 
سجاد علی شاہسابق چیف جسٹس
’عدلیہ کی ساکھ کو بڑا دھچکا لگا ہے‘
 
 
’اب کیا ہوگا‘
چیف جسٹس کی معطلی اور منو بھیل کی مایوسی
 
 
مشرف کی تصویر نذر آتشوکلاء کا احتجاج
مختلف شہروں میں وکلاء نے جلوس نکالے
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد