BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Sunday, 11 March, 2007, 11:10 GMT 16:10 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ
 

 
 
عدلیہ کی کانفرنس
پاکستان میں بار بار عدالتی کاموں مداخلت کی گئی ہے
انیس سو ستر کے وسط میں ذوالفقارعلی بھٹو کی حکومت کے دنوں میں پولیس نے سانگھڑ کے سیشن جج اویس مرتضی کو ڈیفنس آف پاکستان رولز (ڈی پی آر) کے تحت گرفتار کر کے انہیں ان کی سرکاری رہائش گاہ پر نظربند کردیا تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انہیں ہتھکڑی بھی لگائي گئي تھی۔

جج اویس مرتضیٰ کا اصل ’قصور‘ کیا تھا؟ یہی کہ انہوں نے پیر پگاڑوکے حروں (مریدوں) کی ضمانت منظور کی تھی-

یہ واقعہ مجھے کل پاکستان کے فوجی صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی معطلی اور پھر انہیں ان کی سرکاری رہائشگاہ پر محصور کیے جانے پر پھر یاد آ گیا-

ذوالفقار علی بھٹو یا پرویز مشرف ہی کیا روزِ اوّل سے لے کر آج تک پاکستان کے سِول اور فوجی حکمرانوں کے پاؤں تلے روندی ہوئی تمام تاریخ ان کی طرف سے عدلیہ اور اس کے ججوں کو زیر و زبر کرنے سے بھری پڑی ہے۔

مشرف حکومت
 نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججوں سے عبوری آئینی حکم یا پی سی او ز کے تحت حلف اٹھانے کو کہا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کو ان کی رہائيشگاہ پر ایک فوجی کرنل نے تب تک سپریم کورٹ جانے سے روکے رکھا جب تک ججوں نے سی پی او کے تحت حلف نہیں اٹھا لیے۔
 
انیس سو ترپن میں گورنر جنرل غلام محمد نے حکومت کا تختہ الٹ کر پاکستان کی قانون ساز اسبملی کو بھی برطرف کردیا۔

سندھ چیف کورٹ نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کے خلاف سپیکر مولوی تمیز الدین کیس کی سماعت کی اور فیصلہ گورنر جنرل کے خلاف اور اسمبلی کی بحالی کے حق میں دیا- اس تاریخی فیصلے کے مصنف جسٹس محمد بچل میمن تھے۔

گورنر جنرل نے اس فیصلے کے خلاف پاکستان فیڈرل کورٹ میں اپیل دائر کی اور ’نظریۂ ضرورت‘ کے تحت چیف جسٹس منیر نے سندھ چیف کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے حکومت کے حق میں فیصلہ دیا-

اسی طرح پاکستان کی عدلیہ نے ’نظریہ ضرورت‘ یا ڈنڈے کے تحت آنے والے دنوں میں ملک میں مارشل لائوں اور آئين و قوانین سے ماورا حکمرانوں اور حکومتوں کیے لیے راستہ کھول دیا-

سندھ کے کسان لیڈر حیدر بخش جتوئي نے جسٹس منیر کے فیصلے کے خلاف ایک پمفلٹ لکھا ’جسٹس آف چیف جسٹس‘ جس پر انہیں تین برس قید کی سزا ہوئي تھی۔

جب ایوب خان نے اکتوبر انیس سو اٹھاون میں مارشل لاء نافذ کیا تو جسٹس ایم آر(محمد رستم ) کیانی مغربی پاکستان ہائیکورٹ (اب لاہور ہائيکورٹ) کے چیف جسٹس تھے۔

مغربی پاکستان ہائيکورٹ میں کئي کیسوں کی سماعت اور فیصلوں میں جسٹس کیانی نے ایوب خان اور ان کی حکومت کی پالیسوں پر کڑی تنقید کی- انیس سو باسٹھ میں انہیں سپریم کورٹ میں ترقی کے بجائے ہائیکورٹ سے ہی ریٹائر کردیا گیا-

یحیٰ خان کے دنوں میں بنگال میں فوجی آپریشن کے دوران اس وقت کے مشرقی پاکستان میں جنرل ٹکا خان سے ڈھاکہ ہائيکورٹ کے جسٹس ایم ایم مرشد نے حلف لینے سے انکار کردیا تھا-

جب یحی خان اور ان کا فوجی ٹولہ اقتدار سے ہٹ گیا تو پاکستان کی سپریم کورٹ نے ملک غلام جیلانی کی غیر قانونی نظربندی کے خلاف ان کی بیٹی عاصہ جیلانی کی دائر کردہ درخواست کے حق میں فیصلہ کرتے ہوئے پہلی بار پاکستان میں بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا حکم دیا۔ ججوں نے اس مشہور عاصمہ جیلانی کیس میں یحی خان اور اس کے ساتھی ٹولے کو ملکی اقتدار پر قابض قراردیا (لیکن تب جب یحی خان حکومت ختم ہوگئي تھی)۔

سجاد علی شاہ
 جسٹس سجاد علی شاہ کی سپریم کورٹ میں سیاسی بنیاد پر ججوں کی تقرریوں کے خلاف پٹیشن کی سماعت پر بینظیر بھٹو ان سے ناراض ہوئی اور ان کے اہل خانہ کے خلاف سندھ میں عبداللہ شاہ حکومت کے ہاتھوں انتقامی کاروآئیاں شروع کی گئيں۔ ان کے داماد کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے میں ان کے حیدرآباد میں گھر پر پولیس کے ذریعے چھاپے مارے گئے۔
 
عاصمہ جیلانی کیس پاکستانی عدلیہ کے تاريخ کی ’لینڈ مارک ججمینٹ‘ بتائي جاتی ہے- انیس سو اکہتر میں سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹراور صدر کی حیثیت میں ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے ذوالفقار علی بھٹو عدلیہ کی فعالیت کی طرف اپنے دوسرے پیشروؤں سے مختلف تو نہیں بلکہ کئي موقعوں پر عدلیہ کے پر باندھنے میں ان سے بھی آگے نکل گئے۔

اپنی حکومت کو سِول مطلق العنانی کی طرز پر چلانے کے لیے انہوں نے قانونی اصلاحات کے نام پر آئين میں ترامیم کروائی۔

ضیاءالحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء نافذ کیا اور بھٹو قتل کے کیس میں قیدی بنے۔ ضیاء الحق نے جسٹس کے۔ ایم صمدانی اور جسٹس دوراب پٹیل سمیت ان ججوں کا گھیرا تنگ کیا جنہوں نے بھٹو کی درخواست ضمانت منظور کی یا مقدمہ قتل میں اختلافی فیصلے یا نوٹ لکھے تھے۔

نصرت بھٹو کیس میں سپریم کورٹ نے جنرل ضیاء الحق کو جلد سے جلد انتخابات کروانے اور مارشل لاء ختم کرکے بیرکوں میں واپس جانے کا کہا تھا-

ضیاء الحق کو علم تھا کہ ان کے چیف جسٹس انوارالحق پر اپنی سول سروس کے دنوں میں انکم ٹیکس کی چوری جیسے الزام لگے ہیں اور وہ اور مولوی مشتاق اور ساتھی جج اپنی تقرریوں اور ترقیوں کے سلسلے میں بھٹو سے متنفر رہے تھے اس کے باوجود انہیں بھٹو کیس اور پھر اس کی اپیل سننے والے بینچوں میں ان کی تقرریاں رہنے دیں۔

ضیا ءالحق کے ہی دنوں میں سندھ ہائي کورٹ کے جج سید غوث علی شاہ نے ضمنی انتخابات لڑے تھے اور اس طرح وہ ججی کے منصب سے براہ راست سندھ کے وزیر اعلی منتخب ہو گئے۔

ا

جسٹس اجمل میاں
 انیس سو ترانوے میں نواز شریف کیس میں شاید جسٹس سجاد علی شاہ کی ’لاہور اور لاڑکانہ‘ کا فرق کرنے والے اختلافی نوٹ پر پر بینظیر بھٹو کے دوسری دفعہ اقتدار میں آنے پر انہیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنادیا گيا۔
 
انیس سو نوّے میں صوبہ سرحد میں اس وقت پیپلز پارٹی کے وزیر اعلیٰ آفتاب شیر پاؤ کی حکومت اور صوبائی اسمبلی کے پشاور ہائيکورٹ سے بحالی کے چوبیس گھنٹے کے اندر سپریم کورٹ سے اسمبلی کی بحالی کے خلاف حکم امتناعی لے لیا گیا اور پشاور ہائيکورٹ کے چیف جسٹس کو فارغ کردیا گیا-

’سپریم کورٹ حکومت کے ریسکیو پر‘ جسی شہ سرخی سے ضمیمہ شائع کرنے والے انگریزی روزنامے ’فرنٹیئر پوسٹ‘ پر توہین عدالت کا مقدمہ درج کیا گيا-
انیس سو ترانوے میں نواز شریف کیس میں شاید جسٹس سجاد علی شاہ کے ’لاہور اور لاڑکانہ‘ کا فرق کرنے والے اختلافی نوٹ پر بینظیر بھٹو کے دوسری دفعہ اقتدار میں آنے پر انہیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنادیا گيا۔
کہاجاتا ہے کہ جسٹس اجمل میاں اس وقت سب سے سینئر جج تھے۔

لیکن جسٹس سجاد علی شاہ کی سپریم کورٹ میں سیاسی بنیاد پر ججوں کی تقرریوں کے خلاف پٹیشن کی سماعت پر بینظیر بھٹو ان سے ناراض ہوئی اور ان کے اہل خانہ کے خلاف سندھ میں عبداللہ شاہ حکومت کے ہاتھوں انتقامی کاروائیاں شروع کی گئيں۔ ان کے داماد کے خلاف بدعنوانی کے مقدمے میں ان کے حیدرآباد میں گھر پر پولیس کے ذریعے چھاپے مارے گئے۔

سندھ ہائي کورٹ میں اس وقت کے چیف جسٹس ناصر اسلم زاہد اور دیگر ججوں کو ریاستی زیادتیوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے کیسوں کی شنوائیاں کرنے پر زبردست مداخلت اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑاتھا۔

سندھ کے چیف جسٹس ناصر اسلم زاہد کو ترقی کے نام پر وفاقی شرعی عدالت میں مقرر کردیا گیا جہاں وہ اتنے فارغ بیٹھے تھے کہ انہیں وقت گزاری کے لیے تاش کھیلنا سیکھنا پڑ ی تھی-

انیس سو بانوے میں کراچی میں ایم کیو ایم کیخلاف فوجی آپریشن کے دوران لوگوں پر تششد پر فوج سے باز پرس کرنے پر پر ڈسٹرکٹ جج شبیر احمد کے چیمبر اور عدالت پر چھاپہ مارا گیا اور کچھ دنوں بعد جج کے لیے سرکاری اعلامیے میں کہا گیا کہ وہ اصل میں ’بھارت کے شہری‘ ہیں۔

انیس سو ستانوے کے انتخابات میں ’ہیوی مینڈیٹ'‘ لے کر آنے والے وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی کے سندھ میں نامزد وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف لینے سے قبل ان کے خلاف بدعنوانی کے مقدمات میں عدالت سے ضمانت قبل از گرفتاری منظور کرنے کو یقینی بنانے کے لیے اسلام آباد سے سبکدوش ہونیوالی نگران حکومت کے وزیر قانون سےکہا گيا تھا-

چیف جسٹس سجاد علی شاہ سپریم کورٹ پر نواز شریف کی پارٹی کے ہلہ بولوں کے ہاتھوں حملے کے دوران صدر اور فوج کے سربراہ کو اپیلیں کرتے رہ گئے۔ سجاد علی شاہ کی جبری ریٹائرمنٹ کی اصل وجہ نواز شریف حکومت سے محاذ آرائي نہیں بلکہ ایئرمارشل اصغر خان کی طرف سے آئي ایس آئي اور ملٹری انٹیلجنس کی طرف سے سیاستدانوں میں بانٹی جانیوالی کروڑہا روپوں کی رقوم کے خلاف دائر کی جانیوالی پٹیشن کی سماعت تھی-

نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے بعد جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کے ججوں سے عبوری آئینی حکم یا پی سی او ز کے تحت حلف اٹھانے کو کہا اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سعید الزمان صدیقی کو ان کی رہائشگاہ پر ایک فوجی کرنل نے تب تک سپریم کورٹ جانے سے روکے رکھا جب تک ججوں نے سی پی او کے تحت حلف نہیں اٹھا لیے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد