BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 12 March, 2007, 16:12 GMT 21:12 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
آج کا پاکستانی میڈیا کیا کہتا ہے؟
 

 
 
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری
اردو اخبار ’جنگ‘ کے صفحہ اول پر یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ ’سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس رانا بھگوان داس تئیس یا چوبیس مارچ کو بھارت سے وطن واپس پہنچیں گے۔

اگر اس وقت تک سپریم جوڈیشل کونسل غیر مؤثر چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کرسکی تو جسٹس بھگوان داس کی موجودگی سے کونسل کی ہیت کے بارے میں آئینی سوالات اٹھ سکتے ہیں اور یہ بات مضحکہ خیز لگے گی کہ ملک کا سب سے سینئر جج کونسل سے باہر بیٹھا ہو‘۔

انگریزی اخبار ’دی نیشن‘ کے اداریے کا عنوان ہے: ’سیاست کون چمکا رھا ہے‘۔

اخبار کی رائے ہے کہ ’ایک جانب تو حکومت مسلسل یہ کہہ رہی ہے کہ ایک آئینی اور قانونی مسئلے کو سیاسی رنگ نہ دیا جائے۔ دوسری جانب سندھ کے وزیرِ اعلیٰ ارباب غلام رحیم دھڑلے سے غیرمؤثر چیف جسٹس کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

گواہوں کی فہرست تیار
 ’حکومتِ سندھ کے سو سے زائد افسر اور ملازمین کی فہرست تیار کی گئی ہے جو طلب کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جسٹس افتخار کے سخت گیر اور نامناسب رویے کے بارے میں گواہی دیں گے۔اس فہرست میں چپڑاسی اور ڈرائیور بھی شامل ہیں
 
روزنامہ ایکسپریس

اخبار نے سوال اٹھایا ہے کہ ’اگر جسٹس افتخار پر کوئی پابندی نہیں تو ان کی صاحبزادی کو اپنی ایک دوست کو یہ ایس ایم ایس کیوں بھیجنا پڑا کہ گھر میں مسلح افراد گھس آئے ہیں اور ہمیں ایک کمرے تک محدود کردیا گیا ہے‘۔

اخبار ’ایکسپریس‘ نے خبر دی ہے کہ ’حکومتِ سندھ کے سو سے زائد افسران اور ملازمین کی فہرست تیار کی گئی ہے جو طلب کرنے پر سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے جسٹس افتخار کے سخت گیر اور نامناسب رویے کے بارے میں گواہی دیں گے۔اس فہرست میں چپڑاسی اور ڈرائیور بھی شامل ہیں‘۔

اخبار دی نیوز میں یہ رپورٹ شائع ہوئی ہے کہ ’سپریم جوڈیشل کونسل میں شامل تین میں سے ایک جج کے خلاف مبینہ طور پر زمین کی ہیراپھیری اور دوسرے جج کے خلاف مالیاتی بے قاعدگیوں کا ریفرنس پہلے ہی سے کونسل میں زیرِ التوا ہے۔ جبکہ تیسرے جج کی صاحبزادی کو ایک چیف منسٹر کے کوٹے پر میڈیکل کالج میں داخلہ ملا ہے‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’چونکہ جسٹس افتخار چوہدری پر سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی رہائش گاہ کو بلا استحقاق استعمال کرنے کا بھی الزام لگایا گیا ہے۔ اس لیے صوبائی چیف جسٹس متاثرہ فریق ہیں اور انہیں سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں بیٹھنا چاہیے‘۔

’اسی طرح قائمقام چیف جسٹس جاوید اقبال کے غیر مؤثر چیف جسٹس کے خلاف الزامات کی سماعت سے مفادات کا ٹکراؤ ہوسکتا ہے کیونکہ اگر کونسل ان کی صدارت میں جسٹس افتخار کی بحالی کا فیصلہ دیتی ہے تو پھر جسٹس جاوید اقبال کے مستقل چیف جسٹس بننے کے امکانات ختم ہوسکتے ہیں‘۔

اختلافات اور نتیجہ
 ٹی وی، اخبار اور ٹیلی فون، چیف جسٹس کے لئے شجرِ ممنوعہ۔ نعیم بخاری نے اپنے خط کے ذریعے صدر اور چیف جسٹس میں خلیج پیدا کی ہے
 
روزنامہ ڈیلی ٹائمز

’اس لئے جسٹس جاوید اقبال کو دورانِ سماعت بیٹھنے سے پہلے اس پہلو پر غور کرنا چاہئے‘۔

رپورٹ کے مطابق ’اس وقت سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے ججوں کے خلاف تیئس ریفرنس اور شکایات پڑی ہیں جن میں سے کئی برسوں پرانی ہیں‘۔

اخبار ’ڈیلی ٹائمز‘ کی شہ سرخی ہے: ’ٹی وی، اخبار اور ٹیلی فون۔ چیف جسٹس کے لئے شجرِ ممنوعہ‘۔

اخبار نے وفاقی وزیرِ پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن کا یہ بیان شائع کیا ہے کہ ’وکیل نعیم بخاری نے اپنے کھلے خط میں جسٹس افتخار کے صاحبزادے سے متعلق کیس کا جو حوالہ دیا ہے وہ سیاق و سباق سے بالکل ہٹ کر ہے اور نعیم بخاری نے اپنے خط کے ذریعے صدر اور چیف جسٹس میں خلیج پیدا کی ہے‘۔

اخبار ڈان کے ادارتی صفحے پر ایک تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ’چاہے جسٹس افتخار کے تنزل کی کوئی بھی تاویل پیش کی جائے، عام آدمی اس تصویر کی روشنی میں اپنی رائے قائم کرے گا جس میں جسٹس افتخار چوہدری طلبی کے بعد ایک باوردی صدر کے سامنے مؤدب انداز میں بیٹھے ہیں‘۔

 
 
ایڈووکیٹ عباد لودھی’شیم شیم‘
اسلام آباد میں وکیلوں کی ہڑتال، وکیل کی زبانی
 
 
اخبارات’نہ جھکنے پر فارغ‘
چیف جسٹس کی معطلی پر اخبارات کے اداریے
 
 
جسٹس جاوید کون؟
فوجیوں کو زمین آلاٹ کرنے کے مخالف جج
 
 
افتخار چودھری20 ویں چیف جسٹس
جسٹس افتخار 2011 تک کے لیے چیف جسٹس تھے
 
 
اسی بارے میں
’جھکنے سے انکار پر فارغ‘
11 March, 2007 | پاکستان
چیف جسٹس آف پاکستان معطل
09 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد