BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 13 March, 2007, 14:21 GMT 19:21 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جسٹس افتخار کا پہلا تحریری بیان
 

 
 
جسٹس افتخار کو سپریم کورٹ پہنچنے پر وکلاء نے کندھوں پر اٹھا لیا

(ذیل میں شائع کیا گیا بیان ’معطل‘ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلا نے سپریم کورٹ کے باہر موجود ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو فراہم کیا۔ اسی بیان کا متن ای میل کے ذریعے بھی ذرائع ابلاغ کے دفاتر کو بھیجا گیا اور دوسرے شہروں میں وکلاء تنظیموں نے بھی اسی بیان کی کاپیاں تقسیم کئیں۔)

نو مارچ کو صدر جنرل پرویز مشرف کے حکم پر معطل کیے گئے چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کا سپریم جوڈیشل کونسل میں ابتدائی بیان ایک ای میل پیغام کے ذریعے چند وکلا کو ملا ہے جسے منگل کو لاہور میں وکلا تنظیموں نے تقسیم کیا۔

افتخار محمد چودھری نے اپنے مبینہ خط میں یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ انہیں چیف جسٹس اور جج کے عہدہ سے معطل کیے جانے کا حکم واپس لیا جائے کیونکہ یہ غیر آئینی ہے۔

 چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا ہے کہ وہ نو مارچ کی شام سے اپنے تمام اہل خانہ بشمول ایک سات سالہ بیٹے کے نظر بند ہیں اور ان کے سرکاری گھر پر پولیس اور دوسری ایجسنیوں نے محاصرہ کیا ہوا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔
 

اس بیان میں چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے لکھا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی از سر نو تشکیل کی جائے اور اس میں سے ان ارکان کو نکالا جائے جن پر انہیں اعتراضات ہیں، اس ریفرنس کی کھلے عام سماعت کی جائے اور انہیں ضروری دستاویزات اور سپریم جوڈیشل کونسل کے قواعد مہیا کیے جائیں۔

ان کا کہنا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے انہیں چیف جسٹس کے طور پر کام کرنے سے روک دیا حالانکہ واقعات کی تحقیقات کرنے والے کسی کمیشن یا کونسل کو یہ اختیارات حاصل نہیں کیونکہ کونسل عدالت کے اختیارات کی حامل نہیں ہوتی۔

چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا ہے کہ وہ نو مارچ کی شام سے اپنے تمام اہل خانہ بشمول ایک سات سالہ بیٹے کے نظر بند ہیں اور ان کے سرکاری گھر پر پولیس اور دوسری ایجسنیوں نے محاصرہ کیا ہوا ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کے استعمال کی گاڑیاں لفٹر کے ذریعے اٹھا کر لے گئے ہیں اور ان میں سے ایک گاڑی واپس لاکر رکھ دی گئی ہے لیکن وہ چابیوں کے بغیر۔

ان نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ کام کرنے والا سپریم کورٹ کا عملہ لاپتہ ہے اور انہیں کسی نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

انہوں نے خدشہ اظہار کیا ہے کہ ان کے عملہ کو نظر بند رکھا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف ثبوت گھڑے جاسکیں۔

 افتخار چودھری نے لکھا ہے کہ اگر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہورہی ہو تو عدالت عظمی کا ان کے بعد سینئیر ترین جج ہی سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ ہوسکتا ہے جو کہ جسٹس بھگوان داس ہیں اور بائیس مارچ سنہ دو ہزار سات تک تعطیل پر ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں کونسل کا اجلاس بلانے کی کوئی ہنگامی ضرورت نہیں تھی کہ خصوصی طیارے کے ذریعے دو چیف جسٹوں کو اسلام آباد لایا گیا اور دفتری اوقات کے بعد کونسل کا اجلاس منعقد کیا گیا۔
 

خط میں چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ان کے علم میں یہ بات آئی ہے کہ عدالت عظمٰی میں ان کے چیمبر سربمہر کردیا گیا ہے اور نئے مقرر کردہ رجسٹرار کی نگرانی میں ان کی فائلیں فوج کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کے سپرد کردی گئی ہیں۔

انہوں نے اپنے مبینہ بیان میں کہا کہ یہ کاروائیاں تمام عدالتی روایات کے خلاف ہیں اور یہ کہ چیف جسٹس ہونے کے ناطے ان کا حق ہے کہ وہ اپنا چیمبر اور عملہ استعمال کرسکیں۔

افتخار چودھری نے اس خط میں کہا ہے کہ زبردست سکیورٹی اسٹاف کی تعیناتی کی وجہ سے نہ انہیں اور نہ ان کے اہل خانہ کو گھر سے باہر جانے کی اجازت ہے اور نہ کسی کو آزادانہ ان سے ملنے دیا جارہا ہے یہاں تک کہ ان کے سپریم کورٹ کے ساتھیوں کی ان تک رسائی نہیں ہے اور جب بھی وہ ملنے آتے ہیں انہیں دروازہ پر انتظار کروایا جاتا ہے اور اعلی حکام سے اجازت لی جاتی ہے۔

ان کے مطابق جسٹس راجہ فیاض احمد کو ان سے ملاقات کے بغیر واپس جانا پڑا اور یہی سلوک جسٹس (ریٹائرڈ) منیر اے شیخ کے ساتھ کیا گیا۔

انہوں نے کہا ہے کہ ان کے بچوں کو سکول، کالج اور یونیورسٹی جانے کی اجازت نہیں۔ مجھے ٹیلی فون، کیبل اور ڈی ایس ایل لائن میسر نہیں۔ وہ اور ان کے اہل خانہ زندگی کی بنیادی ضرورتوں جیسے ڈاکٹر سے بھی محروم ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ ’مجھے ریفرنس کے حقائق اور قانونی نکات پر بحث کے لیے وکلاء میسر نہیں۔ میں یہ بات دس مارچ کو نوٹس کے موقع پر بھی کہہ چکا ہوں۔‘

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ ان سے جو سلوک کیا گیا ہے اس کی بنا پر وہ سپریم جوڈیشل کونسل پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہیں اور انہیں اس سے منصفانہ تحقیقات کی توقع نہیں ہے خصوصاً کونسل کے چئیرمین اور اس کے دو ارکان سے اور وہ سمجھتے ہیں کہ یہ کونسل مناسب طور پر تشکیل نہیں دی گئی۔

 افتخار محمد چودھری نے لکھا ہے کہ یہ ریفرنس نعیم بخاری کے کھلے خط پر مبنی ہے جس کی وسیع پیمانے پر تشہیر ہوچکی ہے اس لیے بھی ان کے ریفرنس کی کھلی عام سماعت ضروری ہے اور وہ رضا کارانہ طور پر خود کو کھلی سماعت (پبلک انکوائری) کے لیے پیش کرتے ہیں۔
 

اپنے عدم اعتماد کی وجوہ بیان کرتے ہوئے افتخار محمد چودھری نے لکھا ہے کہ جسٹس جاوید اقبال کو آئین کے آرٹیکل ایک سو اسی کی خلاف ورزی میں قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا ہے کیونکہ قائم مقام چیف جسٹس جب ہی مقرر کیا جاسکتا ہے جب چیف جسٹس دماغی اور جسمانی طور پر معذور ہو اور یہ عہدہ خالی ہوگیا ہو جبکہ موجودہ صورتحال میں ایسا نہیں تھا اس لیے جاوید اقبال کو حلف نہیں لنیا چاہیے تھا۔

افتخار چودھری نے لکھا ہے کہ اگر چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس کی سماعت ہورہی ہو تو عدالت عظمی کا ان کے بعد سینئیر ترین جج ہی سپریم جوڈیشل کونسل کا سربراہ ہوسکتا ہے جو کہ جسٹس بھگوان داس ہیں اور بائیس مارچ سنہ دو ہزار سات تک تعطیل پر ہیں اور ان کی غیر موجودگی میں کونسل کا اجلاس بلانے کی کوئی ہنگامی ضرورت نہیں تھی کہ خصوصی طیارے کے ذریعے دو چیف جسٹوں کو اسلام آباد لایا گیا اور دفتری اوقات کے بعد کونسل کا اجلاس منعقد کیا گیا۔

انہوں نے اپنے مبینہ خط میں لکھا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے جسٹس جاوید اقبال سے قائم مقام چیف جسٹس کا حلف لیا حالانکہ یہ عہدہ خالی نہیں تھا اس لیے انہوں نے خود کو سپریم کورٹ کے جج کے طور پر نااہل کرلیا ہے اور وہ سپریم جوڈیشل کونسل کے رکن کے طور پر کام نہیں کرسکتے۔

افتخار چودھری نے لکھا ہے کہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ایک درخواست زیرِالتوا ہے جس میں ان پر الزام لگایا گیا ہے کہ انہوں نے شاہ لطیف یونیورسٹی خیر پور میں وائس چانسلر کے ساتھ مل کر مالی بدعنوانی کی۔ یہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

انہوں نے اپنے ہم نام اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کے بارے میں لکھا ہے کہ ان خلاف نازیبا رویہ کی ایک سے زیادہ ریفرنس سپریم جوڈیشل کونسل کے سامنے زیر التوا ہیں۔ جسٹس جاوید اقبال اس بات سے باخبر ہیں کیونکہ یہ فائلیں جانچ پڑتال کےلیے ان کی تحویل میں ہیں اس لیے افتخار حسین چودھری بھی سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں بیٹھ سکتے۔

چیف جسٹس افتخار چودھری کا کہنا ہے کہ افتخار حسین چودھری ان سے سخت ذاتی عداوت رکھتے ہیں جو سب کو معلوم ہے کیونکہ انہوں نے ان کے سفارش کردہ وکیلوں اور عدالتی افسروں کو لاہور ہائی کورٹ کا جج مقرر نہیں کیا تھا۔

انہوں نے لکھا ہے کہ انہوں نے اگست سنہ دو ہزار پانچ میں چیف جسٹس افتخار حسین کی سپریم کورٹ میں تعیناتی کی اہم وجوہ کی بنا پر مخالفت کی تھی جس کو یہاں ظاہر نہیں کیا جاسکتا البتہ وہ خط ریکارڈ سے حاصل کیا جاسکتا ہے اگر ریکارڈ میں تبدیلی نہ کردی گئی ہو کیونکہ ان کے کمرے سے فائلیں نکال لی گئی ہیں۔

انہوں نے لکھا ہے کہ وہ اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس افتخار حسین چودھری کی ایک دوسرے سے بول چال تک بند تھی اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے خود ان سے تمام تعلقات حتی کہ ورکنگ ریلشنشپ بھی توڑ لی تھی۔

انہوں نے لکھا ہے کہ انہیں افتخار حسین چودھری کی کونسل کے رکن ہونے پر شدید اعتراض ہے او روہ ان سے کسی انصاف کی توقع نہیں رکھتے اور مطالبہ کیا ہے کہ انصاف کے تقاضوں کو مدنظررکھتے ہوئے انہیں کونسل سے خارج کیا جائے۔

چیف جسٹس نے مبینہ خط میں لکھا ہے کہ وہ ریفرنس کی سماعت کے دروان میں الزامات کے جواب دیتے ہوئے کوئی نیا اعتراض اٹھانے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ انہیں کوئی دستاویز فراہم نہیں کی گئی ہے اور نہ وکلا سے مشاورت کی اجازت دی گئی ہے اس لیے ان کا مطالبہ ہے کہ انہیں زبانی اور تحریری شہادتوں کی تلخیص فراہم کی جائے۔

چیف جسٹس نے کہا ہے کہ وہ اپنے جواب میں دستاویزات کی فہرست فراہم کریں گے جو سپریم جوڈیشل کونسل منگوائے کیونکہ انہیں ان تک رسائی حاصل نہیں ہے۔

چیف جسٹس نے لکھا ہے کہ نوٹس کے مندرجات سے اشارہ ملتا ہے کہ کونسل کی کارروائی بند کمرہ میں ہوگی اور چونکہ ان کا موقف ہے کہ ان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں اس لیے ان کے وقار کی بحالی کے لیے وہ ایک کھلی سماعت کو ترجیح دیں گے اور چاہیں گے کہ ساری دنیا ان کے خلاف الزامات اور اور ان کا دفاع دیکھے۔

چیف جسٹس نے کونسل کی کارروائی کے لیے قواعد کی شق تیرہ کا حوالہ دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی بند کمرہ میں ہوگی اور موقف اختیار کیا ہےکہ یہ شق ایسے ریفرنسوں کے بارے میں ہیں جو کونسل کو براہ راست دائر کیے گئے ہوں جبکہ ان کے خلاف ریفرنس صدر مملکت نے دائر کیا ہے اس لیے کونسل کھلی سماعت کرسکتی ہے۔

افتخار محمد چودھری نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ریفرنس نعیم بخاری کے کھلے خط پر مبنی ہے جس کی وسیع پیمانے پر تشہیر ہوچکی ہے اس لیے بھی ان کے ریفرنس کی کھلی عام سماعت ضروری ہے اور وہ رضا کارانہ طور پر خود کو کھلی سماعت (پبلک انکوائری) کے لیے پیش کرتے ہیں۔

افتخار چودھری سے منسوب بیان میں کہا گیا ہے کہ ان کا دفاع کرنے کے لیے وکلا عدالت عظمی سے باہر موجود ہیں جنہیں انصاف کے تقاضوں کے خلاف اندر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی حالانکہ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سپریم کورٹ کی عمارت ججوں (بینچ) اور وکلاء (بار) دونوں کے لیے ہے۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد