BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Tuesday, 20 March, 2007, 12:39 GMT 17:39 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
احتجاج، استعفوں کے درمیان سماعت ملتوی
 

 
 
وکلاء کے علاوہ عام لوگ بھی اس احتجاج میں شامل ہوتے جارہے ہیں
سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس افتخار کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت تین اپریل تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے جبکہ دوسری طرف ڈپٹی اٹارنی جنرل کے علاوہ سندھ کے دو مزید سول ججوں نے بھی استعفے دے دیئےہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل، جسٹس افتخار کے خلاف صدارتی ریفرنس پر سماعت بدھ اکیس مارچ کو کرنے والی تھی لیکن صرف چوبیس گھنٹے پہلے سماعت کوئی وجہ بتائے بغیر تین اپریل تک ملتوی کر دی گئی۔

سماعت کے التواء پر جسٹس افتخار چوہدری کے وکلاء کا کہنا ہے کہ کسی انتظامی حکم کے تحت ریفرنس کی سماعت ملوتی نہیں کی جا سکتی۔ بی بی سی کے نامہ نگار نے جب سپریم کورٹ کے افسر تعلقات عامہ ارشد منیر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ سماعت کو عین وقت پر ملتوی کیے جانے کی وجہ ان کے علم میں نہیں۔

ڈپٹی اٹارنی جنرل نےکہا کہ آئینی اداروں کی پامالی ہو رہی ہے

دریں اثناء حکومتی اقدام کے خلاف ججوں کے استعفوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس میں اب تک لاہور ہائی کورٹ کے جج خواجہ جواد سمیت نو جج اپنے عہدوں سے احتجاجاً مستعفی ہو چکے ہیں۔

منگل کو اسلام آباد میں پہلے ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سعید شیخ نے اپنے استعفے کا اعلان کیا اور پھر سندھ سے سول جج کوٹری جاوید میمن اور سول جج شکار پور ارم جاوید کے استعفوں کی خبر موصول ہوئی۔

اسلام آباد میں مستعفی ہونے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل ناصر سعید شیخ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ملک میں گزشتہ چند دنوں سے آئینی اداروں اور ججوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس صورت حال میں وہ اپنی ذمہ داریاں نبھانے سے قاصر ہیں‘۔ ناصر سعید شیخ نے کہا کہ انہوں نے اپنا استعفیٰ صدر جنرل پرویز مشرف کو بھجوا دیا ہے۔

سیاسی جماعتوں کی حمایت کے باوجود ابھی یہ مظاہرے تحریک کو صورت اختیار نہیں کر سکے

سول جج شکار پور ارم جاوید نے اپنے استعفے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا انہوں نے پوری کوشش کی کہ لوگوں کو انصاف فراہم کیا جا سکے اور وہ لوگوں کی پریشانیاں دور کرنے میں مددگار ثابت ہوں مگر اب انصاف فراہم کرتے ہوئے وہ یہ سوچ رہی ہیں’جب ہمارے ساتھ انصاف نہیں ہو رہا تو لوگوں کو کیا انصاف فراہم کریں گے‘۔

گزشتہ ڈیڑھ ہفتوں سے جاری وکلاء کے احتجاج میں بھی کمی واقع ہوتی نظر نہیں آتی اور ملک کے تقریباً تمام شہروں میں عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ، بھوک ہڑتالی کیمپ اور مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں وکلاء کے علاوہ حزب اختلاف کی جماعتوں کے رہمنا اور کارکن حصہ لے رہے ہیں۔

اکیس مارچ کو پشاور میں وکلاء نے عدالتوں کے مکمل بائیکاٹ کرنے کا اعلان کیا ہے جو جمعرات کو بھی جاری رہے گا۔ جمعرات کو پشاور میں وکلاء کا ملک گیر کنونش بھی منعقد کیا جا رہا ہے۔

پشاور میں منگل کو وکلاء نے عدالتوں کا ایک گھنٹے کا علامتی بائیکاٹ کیا اور ہائی کورٹ کے مین گیٹ کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ بھی منعقد کیا۔

مظاہرین کی قیادت پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر سید عتیق شاہ ، فدا گل ایڈووکیٹ اور دیگر سنئیر وکلاء کر رہے تھے۔ مظاہرین نے اس موقع پر ’گو مشرف گو‘ افتخار چوہدری کو بحال کرو اور عدلیہ اور پریس کی آزادی کو بحال کرو کے نعرے لگائے۔

گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ کے جج خواجہ جواد اور صوبہ سندھ کے چھ سول ججوں نے اپنے استفعے متعلقہ حکام کو پیش کر دیئے تھے۔

اس سے قبل بہاولپور کے بھی ایک سول جج نے استعفی دے دیا تھا۔

ناصر سعید شیخ سپریم کورٹ میں لا پتہ افراد کے مقدمے میں حکومت کی پیروی کرتے رہے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد