BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 March, 2007, 04:15 GMT 09:15 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
مدرسہ: ’محبوس‘ بچے بازیاب
 

 
 
مدرسے سے بازیاب ہونے والے بچّے
مدرسے سے برآمد ہونے والے طلباء کو ان کے والدین کے حوالے کر دیا گیاہے
جنوبی پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں پولیس نے ایک دینی مدرسے پر چھاپہ مار کر پچیس ’محبوس‘ طلباء کو بازیاب کرانے کے بعد مدرسے کے مہتمم قاری غلام رسول کو حراست میں لے لیا ہے۔

قاری غلام رسول کا دعویٰ ہے کہ جب پولیس نے ان کے مدرسے پر چھاپا مارا تو کوئی بھی طالبعلم نہ تو قید تھا اور نہ ہی بیڑیوں میں جکڑا ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے مدرسے سے بھاگے ہوئے ایک طالبعلم کو ان کے مخالفین ان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔

والدین کی اجازت سے
 میں والدین کی اجازت سے بیڑیاں لگاتا ہوں کیونکہ بعض طالبعلم بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں قابو میں رکھنے کے لیے یہ طریقۂ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔ یہ صرف میرے مدرسے میں ہی میں نہیں بلکہ علاقے کے دوسرے مدرسوں میں بھی ہوتا ہے۔
 
قاری غلام رسول
قاری غلام رسول پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ زیر تعلیم طلباء کو نا صرف بیڑیاں باندھ کر رکھتے بلکہ انہیں جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بناتے رہے ہیں۔ بازیاب ہونے والے طلباء کی عمریں پانچ سے پندرہ برس کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔

مظفرگڑھ کے ضلعی پولیس افسر رائے محمد طاہر کے مطابق پولیس نے تحصیل کوٹ ادو کے نواحی علاقے موضع ہالہ میں واقع دینی مدرسے کے ایک طالبعلم پندرہ سالہ عرفان کی اطلاع پر چھاپہ مارا تو تین طلباء کو بیڑیوں میں جکڑا ہوا پایا جبکہ بائیس طلباء مدرسے کے دو مختلف کمروں میں بند تھے، جن کے دروازوں پر تالے لگے ہوئے تھے۔

ضلعی پولیس افسر کے مطابق بازیاب کرائے گئے کچھ طلباء نے قاری غلام رسول پر جنسی زیادتی کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ انہیں مدرسے سے جنسی قوت بڑھانے والی ادویات اور انجکشنز بھی ملے ہیں۔اس حوالے سے نو اور بارہ سال عمر کے دو طلباء کا طبی معائنہ بھی کرایا گیا ہے، جس کی رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔

طالبعلم عرفان نے پولیس کو بتایا کہ اس نے تین ہفتے قبل ہی قاری غلام رسول کے مدرسے میں داخلہ لیا تھا۔ عرفان کے مطابق مدرسے میں زیر تعلیم طلباء کو کمروں میں بند رکھا جاتا اور قرآن پڑھانے کے لیے دس دس کی ٹولیوں میں نکالا جاتا، اگر کوئی اس پر احتجاج کرتا تو اسے بیڑیاں ڈال دی جاتیں۔

طلباء کو بیڑیاں لگانے کے حوالے سے قاری غلام رسول کا کہنا تھا کہ وہ ایسا والدین کی اجازت سے کرتے ہیں، کیونکہ بعض طالبعلم بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں قابو میں رکھنے کے لیے یہ طریقۂ کار اختیار کرنا پڑتا ہے۔ ’یہ صرف میرے مدرسے میں ہی میں نہیں بلکے علاقے کے دوسرے مدرسوں میں بھی ہوتا ہے‘۔

مدرسے سے برآمد ہونے والے طلباء کو ان کے والدین کے حوالے جبکہ قاری غلام رسول کو چار اپریل تک کے لیے عدالتی تحویل میں جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

 
 
اسی بارے میں
لاہور میں بچے کا سفاکانہ قتل
25 December, 2004 | پاکستان
سمگل ہونے والے بچے برآمد
21 June, 2004 | پاکستان
40 لاکھ بچے تعلیم سے محروم
04 June, 2004 | پاکستان
پنجاب کتنا پڑھا لکھا ہے؟
25 December, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد