BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Wednesday, 28 March, 2007, 13:33 GMT 18:33 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
ماں، بہواور بیٹی تاحال یرغمال
 

 
 
فائل فوٹو
گزشتہ ماہ اسی مدرسے کی طالبات نے بچوں کی لائبریری پر قبضہ کر لیا تھا

جامعہ حفصہ کی طالبات اور اسلام آباد کی انتظامیہ کے مابین کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں مدرسے کی دونوں معلمات کو رہا کر دیا گیا ہے۔

مدرسے کے منتظمِ اعلیٰ مولانا عبدالعزیز کے مطابق فریقین کے مابین ہونے والے کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں مدرسے کی دو معلمات کو رہا کر دیا گیا ہے جس کے بدلے میں پولیس کی دو گاڑیوں اور دو پولیس اہلکاروں کو رہا کیا جا رہا ہے۔

مولانا عبدالعزیز نے اس بات کو واضح کیا کہ طالبات کی طرف سے یرغمال بنائی گئی تین خواتین کو رہا نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا’یا تو انہیں اپنے گناہوں کی معافی مانگ کر تائب ہونا ہو گا یا پھر پھر انہیں شرعی سزا دی جائے گی‘۔

پولیس کی حراست سے رہا ہونے والے معلمات جب جامعہ حفصہ پہنچیں تو ان کا پرجوش نعروں سے استقبال کیا گیا۔مولانا عبدالعزیز نے یہ بھی بتایا کہ معاہدے کے مطابق اب آئندہ پندرہ دن میں پولیس ان کے گرفتار شدہ پانچ طلباء اور گمشدہ افراد کی آواز اٹھانے والے خالد خواجہ کی رہائی کا انتظام کرے گی۔

اس سے قبل مدرسہ کی طالبات کی ایکشن کمیٹی کی سرکردہ رکن آمنہ عبداللہ نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ طالبات نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت جامعہ حفصہ کی دو معلمات کو رہا کر دے تو وہ قبضے میں لی گئی ایک پولیس گاڑی اور دو ڈرائیوروں کو رہا کر دیں گے۔ دوسری پولیس گاڑی کو واگزار کرانے کے بدلے میں طالبات نے گمشدہ افراد کی رہائی کے لیے سرگرم کارکن خالد خواجہ اور پہلے سے گرفتار شدہ پانچ طالبعلموں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

خواتین کی یرغمالی
 طالبات نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر حکومت جامعہ حفصہ کی دو معلمات کو رہا کر دے تو وہ قبضے میں لی گئی ایک پولیس گاڑی اور دو ڈرائیوروں کو رہا کر دیں گے۔
 
آمنہ عبداللہ

طالبات نے واضح کیا کہ وہ اسی صورت میں یرغمال بنائی گئی تین خواتین کو پولیس کے حوالے کریں گی جب ان خواتین پر زنا کے الزام میں مقدمات چلائے جانے اور قرار واقعی سزائیں دی جانے کی یقین دہانی کرائی جائے گی۔

وفاقی وزیر مملکت برائے داخلہ ظفر اقبال وڑائچ نے کہا ہے کہ حکومت جامعہ حفصہ کے معاملے کو افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا چاہتی ہے۔

بی بی سی اردو سروس کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے تو ایک گھنٹے کے اندر نہ صرف لائبریری کا قبضہ چھڑوا سکتی ہے بلکہ یرغمال بنائے گئے افراد کو رہا کرا سکتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس وقت جو لوگ حکومت کی رٹ کمزور پڑنے کی بات کر رہے ہیں وہی لوگ حکومتی کارروائی کی صورت میں جلسے جلوس نکالنے میں آگے آگے ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق منگل کی رات کو مدرسے کی طالبات نے اسلام آباد کے جی سیکٹر میں ایک رہائشی مکان پر چھاپہ مار کر ایک عورت کو اس کی جواں سال بہو اور بیٹی سمیت یرغمال بنا لیا تھا۔ جواباً کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے مدرسے کی دو استانیوں کو گرفتار کر لیا تھا۔

استانیوں کی گرفتاری پر مدرسے کی طالبات نے مشتعل ہو کر پولیسں کی دو گاڑیوں کو ڈرائیوروں سمیت مدرسے کے احاطے میں بند کر دیا تھا۔

مولانا غازی عبدالرشید نے کہا کہ دوسرے پولیس اہلکار اور گاڑی کو چند دن قبل گرفتار کیئے گئے مدرسے کے پانچ طلبہ کی رہائی کی صورت ہی میں چھوڑا جائے گا۔

جنسی کاروبار میں ملوث ہونے کے الزام میں یرغمال بنائی گئی تین خواتین کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انہیں اس صورت میں حکومت کے حوالے کیا جائے گا کہ پولیس اہل محلہ کی مرضی کے مطابق ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر کے انہیں جیل بھیجنے کی یقین دہانی کرائے۔

مدرسے کے طلبا نے دو پولیس والوں کو بھی گاڑیوں سمیت بند کر دیا

قبل ازیں بدھ کی صبح کو مدرسہ حفصہ کی انتظامیہ نے دھمکی دی تھی کہ اسلام آباد کے ایک مکان پر طالبات کے چھاپے اور تین خواتین کو یرغمال بنانے کے الزام میں گرفتار کی گئی استانیوں کو بدھ کی شام تک رہا نہ کیا گیا تو جہاد کا اعلان کر دیا جائے گا۔

غازی عبدالرشید نے پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر مسلمان پر قران شریف میں حکم دیا گیا ہے کہ جہاں برائی دیکھیں اسے روکیں۔

ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یرغمال بنائی جانے والی خواتین کے بارے میں مدرسے کی انتظامیہ کو کافی عرصے سے اہل محلہ کی طرف سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ شہر میں دیگر علاقوں میں بھی جنسی کارروبار میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی کیئے جانے کا امکان ہے۔

پولیس کی کارروائی کے بعد مدرسے کی سینکٹروں طالبات ڈنڈے اٹھا کر سڑک پر نکل آئیں۔ مشتعل طالبات نے جنھیں طلباء کی معاونت بھی حاصل تھی پولیس کی دو گاڑیوں کو ان کے ڈرائیوروں سمیت مدرسے کے احاطے میں بند کر دیا۔

مدرسے کے منتظم غازی عبدالرشید نے بدھ کی سہ پہر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا تھا کہ اسلام آباد کی رہائشی تین خواتین ان کے قبضے میں ہیں۔

غازی عبدالرشید نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان خواتین پر زنا کے الزام میں مقدمات چلائے جائیں اور قرار واقعی سزائیں دی جائیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکام نے ان پر مقدمات دائر نہ کیئے تو مدرسے کے اندر قاضی عدالت قائم کی جائے گی اور شریعت کے مطابق انہیں سزائیں سنائی جائیں گی۔

 
 
طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد