BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 30 March, 2007, 20:27 GMT 01:27 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
جرنیلی دیوار اور انتہا پسندوں کی چھلانگ
 

 
 
اعتدال پسندی کے حامی صدر مشرف کے دور میں ان کے اپنے دارالحکومت میں طالبان دندنا رہے ہیں اور ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال رہا
آنٹی شمیم اختر مذہبی جنونیوں سے رہائی پانے کے بعد اب راولپنڈی میں اپنے بیٹے کے گھر پناہ گزین ہیں۔

اگر کوئی ابھی تک ان کی کہانی سے واقف نہیں تو مختصراً یہ کہ انہیں اسلام آباد کے عین وسط میں واقع لال مسجد میں زیر تعلیم طالبان اور مسجد سے جڑی جامعہ حفصہ کی طالبات نے منگل کی رات اغوا کر کے جامعہ میں یرغمال بنا لیا تھا۔


طالبات نے ان پر الزام لگایا کہ وہ اپنے گھر میں قحبہ خانہ چلاتی ہیں اور صفائی کا موقع دیے بغیر ہی گلے میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے جامعہ میں لے آئیں۔

ڈھائی دن غیر قانونی حراست میں رکھنے کے بعد آنٹی شمیم کو صرف اس شرط پر چھوڑا گیا کہ وہ ایک اقبالی بیان جاری کریں جس میں وہ اپنے کردہ و ناکردہ گناہوں سے توبہ کریں۔ اس دوران طلباء نے دو پولیس اہلکاروں کو بھی ان کی گاڑیوں سمیت یرغمال بنائے رکھا۔

لیکن ان ڈھائی دنوں میں طالبان اور طالبات کے جرم کی سنگینی سے قطع نظر اسلام آباد کی انتظامیہ اور پولیس مسجد کے رہنما غازی عبدالرشید سے مذاکرات کرتی رہی۔ اور اب جب کہ پولیس نے غازی عبدالرشید اور بیشتر طلباء پر اغوا کا مقدمہ بھی درج کر لیا ہے پھر بھی ملزموں کی فوری گرفتاری کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے۔

یہ کس قدر عجیب و غریب بات ہے۔ روشن خیال اعتدال پسندی کے حامی صدر مشرف کے دور میں ان کے اپنے دارالحکومت میں طالبان یوں دندنا رہے ہیں اور ان پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال رہا۔ جبکہ اسی حکومت میں پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بسنے والے طالبان پر ہر دوسرے روز بمباری ہو رہی ہے۔ اس سے کیا نتیجہ نکالا جائے؟

یہ سمجھنا کہ کیونکہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ اسلام آباد میں ہیں اس لیے وہاں باقاعدہ طالبان طرز کا ماحول ہو ہی نہیں سکتا قطعی غلط ہو گا۔ ذرا مسجد میں جا کر دیکھیے۔ وہاں درجنوں طالبان ہر قسم کا ہتھیار اٹھائے یوں گھوم رہے ہوتے ہیں جیسے وہ وانا یا جندولہ کے بازاروں میں ہوں۔

ان کے ہتھیاروں میں غلیلیں، لاٹھیاں، ڈنڈے، کلہاڑیاں، بھالے، ترشول، پستول اور کلاشنکوفیں سب شامل ہیں۔ بہت سوں کا چہرہ کالے نقابوں سے ڈھکا ہوتا ہے۔ پتلون قمیض میں ملبوس کوئی بھی شخص ان کے لیے ملعون ہے اور وہ سیٹیلائیٹ ٹیلیفون جیسے آلات کو یوں گھورتے ہیں جیسے وہ ابلیس کو دیکھ رہے ہوں۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے کرتے دھرتے کھلم کھلا طالبان طرز حکومت کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مسجد کے بازو میں بنی جامعہ کی بالکونیوں میں درجنوں برقعے نظر آتے ہیں جن میں چھپی طالبات کے بارے میں مسجد کی انتظامیہ فخر سے کہتی ہے کہ یہ ہتھیاروں کے استعمال میں اتنی ہی طاق ہیں جتنا مسجد کے احاطے میں دندناتے طالبان۔

وہاں جا کر آپ خود کو اتنا ہی غیر محفوظ تصور کریں گے جتنا کہ میراں شاہ یا اعظم وارسک میں۔

عربوں روپے کی کئی ایکڑ زمین پر پھیلا مذہبی انتہا پسندی کا یہ کاروبار اتنی ہی دیدہ دلیری سے جاری ہے جتنا کہ آنٹی شمیم کا مبینہ پیشہ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہ مسجد حکومت کی ملکیت ہے اور مسجد کے کرتے دھرتے حکومت کے تنخواہ دار ملازم۔

مسجد کی انتظامیہ کے خلاف سنگین نوعیت کے کئی مقدمات درج ہیں لیکن اگر پولیس سے ان مقدمات کی تفصیل طلب کی جائے تو وہ یوں گھبرا جاتی ہے جیسے آپ اسے ریاست سے بغاوت کی ترغیب دے رہے ہوں۔ آنٹی شمیم کے اغوا کے مقدمے سے پہلے کے تمام مقدمات مہربند کر کے داخل دفتر کیے جا چکے ہیں۔

اس جگہ کی تاریخ پرتشدد واقعات سے اٹی ہے۔ مسجد کے موجودہ خطیب عبدالعزیز کے والد مولانا عبداللہ کو اسی مسجد میں قتل کر دیا گیا تھا۔ امریکہ پر ہونے والے گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد لال مسجد جیش محمد جیسی انتہا پسند تنظیموں کا اڈہ رہی ہے۔ قومی سلامتی کے ادارے بھی اس جگہ اور اس میں پلنے والے ماحول سے ناواقف نہیں۔ مسجد سے تھوڑی ہی دور ملک کی طاقتور ترین انٹیلیجنس ایجنسی آئی ایس آئی کا مرکزی دفتر ہے اور اس ادارے کے کئی اہلکار اسی مسجد میں نماز ادا کرتے ہیں۔

پھر کیا وجہ ہے کہ انتہا پسندی کے اس مسکن نے کبھی بھی اس ریاستی غیض و غضب کو نہیں للکارا جو کبھی ہمیں بلوچ علیحدگی پسندوں اور کبھی سندھی قوم پرستوں پر ٹوٹتا نظر آتا ہے؟ اس سوال کا جواب شاید ابھی کسی کے پاس نہیں اور شاید اسی وجہ سے اس پورے معاملے پر قیاس آرائیوں کا غلبہ ہے۔

کوئی کہتا ہے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے مکین ملک کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کے پالے ہوئے وہ لوگ ہیں جنہیں دکھا کر صدر مشرف اپنے مغربی حلیفوں کو اپنی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں۔ ان لوگوں کے بل بوتے پر وہ مغربی دنیا کو اس بات پر قائل کرتے ہیں کہ اگر ان کو اقتدار سے ہٹایا گیا تو یہی لوگ حکومت سنبھالیں گے اور پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے بٹن انہیں لوگوں کے ہاتھوں میں ہونگے۔ گویا یہ وہ بیل ہیں جنہیں صدر مشرف جب چاہیں کہہ دیں کہ ’جا بیل اسے مار‘۔

کوئی کہتا ہے کہ یہ انتہا پسند بوتل کا وہ جن ہے جو باہر نکل چکا ہے اور اب کسی کے قابو میں نہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ یہ لوگ وہ ملیشیا ہے جو فوج نے اپنی لڑائیاں لڑنے کے لیے پالی ہوئی ہے اور جب تک ملکی خارجہ پالیسی منتخب حکومتوں کے ہاتھ نہیں آتی ان لوگوں کی اہمیت پاکستان کی فوجی قیادت کی نظر میں کبھی کم نہ ہو گی۔

کچھ کا کہنا ہے پاکستان میں کوئی بھی ان خوف کے تاجروں سے ٹکر نہیں لینا چاہتا خواہ وہ فوجی حکومت ہو یا انسانی حقوق کا پرچار کرنے والے ادارے۔ اس بات میں بھی دم ہے۔ بہت سے لوگوں کو آنٹی شمیم کے سارے واقع میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی لال مسجد کے طالبان کے نعروں سے بھی زیادہ فلک شگاف لگی۔

اس صورتحال میں کیا حقیقت ہے اور کیا افسانہ اس کا تعین کرنا تقریباً نا ممکن ہے۔ لیکن پچھلے چند دنوں کے واقعات نے ایک بات واضح کر دی ہے۔ صدر مشرف شاید اب بھی سمجھتے ہیں کہ وہ اقتدار اور مذہبی انتہا پسندی کے بیچ دیوار بنے کھڑے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ انتہا پسند کب سےاس کچی اینٹوں کی دیوار کو پھلانگ چکے ہیں۔

 
 
طالبات کی کارروائی
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ کی تصاویر
 
 
طالبات کا چھاپہآپ کیا کہتےہیں؟
اسلام آباد میں ’طالبات کا چھاپہ‘
 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد