http://www.bbc.com/urdu/

Sunday, 11 March, 2007, 16:54 GMT 21:54 PST

رفاقت علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن

جسٹس جاوید اقبال کون؟

جسٹس جاوید اقبال کو سپریم کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے اور وہ تیرہ مارچ کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات کی سماعت کریں گے۔

چیف جسٹس آف پاکستان معطل

جسٹس جاوید اقبال (علامہ اقبال کے بیٹے نہیں) کا تعلق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح بلوچستان سے ہے البتہ وہ بھی جسٹس افتخار محمد کی طرح ’بلوچی‘ نہیں بلکہ ’بلوچستانی‘ ہیں۔

جسٹس جاوید اقبال کا شمار بھی ان ججوں میں ہوتا ہے جنہوں نے جنرل مشرف سے وفاداری کا حلف اٹھا رکھا ہے اور اس بینچ میں شامل تھے جنہوں نے جنرل مشرف کو دو عہدے رکھنے سے منع کرنے سے متعلق درخواست کو رد کر دیا تھا۔

البتہ جسٹس جاوید اقبال نے ایسا فیصلہ بھی کیا تھا جو اگر فوجی قیادت کے نوٹس میں ہوا تو شاید وہ انہیں بھی چیف جسٹس کے عہدے کے لیے ناموزوں قرار دے دے۔

جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے ایک تین رکنی بینچ نے دسمبر 2003 میں قرار دیا تھا کہ فوجیوں کو سرکاری زمین الاٹ کرنا غیر قانونی ہے۔

جسٹس جاوید اقبال نے امریکی ناول نگار جان سٹین بیک کے مشہور ناول ’گریپس آف راتھ‘ سے حوالہ دیتے ہوئےکہا تھا کہ جب دولت چند ہاتھوں میں جمع ہو جائے تو وہاں انقلاب آ جاتے ہیں‘۔

یہ الگ بات ہے کہ جسٹس جاوید اقبال کے فیصلے کے باوجود جنرل مشرف سمیت فوجی افسران کو نہری علاقوں میں کوڑیوں کے بھاؤ سینکڑوں ایکڑ زمینیں آلاٹ ہو رہی ہیں اور جی ایچ کیو نے حال ہی میں وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ وہ مزید ایک ہزار ایکڑ زمین فوج کے حوالے کرے۔

جسٹس جاوید اقبال نے مدعی برگیڈیر بشیر احمد کو تلقین کی تھی کہ وہ ان سینکڑوں ایکڑ رقبے پر قناعت کریں جو انہیں الاٹ کیا گیا ہے اور باقی غریب کسانوں کے لیے چھوڑ دیں۔

اسی عدالتی فیصلے میں جسٹس جاوید اقبال نے کہا تھا ہمیں تاریخ سے سبق سیکھنا چاہیے اور ماضی کی غلطیوں کو دہرانا نہیں چاہیے۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی سربراہی کرتے وقت شاید ان کو اپنا یہ فیصلہ یاد ہو۔