BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 April, 2007, 08:32 GMT 13:32 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
’امداد کی تقسیم کی نگرانی کی جائے‘
 

 
 
الرشید ٹرسٹ کا ایک سیل شدہ دفتر
پولیس نے فروری میں ٹرسٹ کے دفاتر سیل کر دیے تھے
سندھ ہائیکورٹ نے اسلامی فلاحی ادارے الرشید ٹرسٹ کے دفاتر کھول کر ان میں موجود دوائیں اور اجناس حکومتی حکام کی موجودگی میں تقسیم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حکومت پاکستان نے رواں سال ماہ فروری میں ملک بھر میں الرشید ٹرسٹ کے اٹھائیس دفاتر سیل کر دیے تھے اور حکومت کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی اقوام متحدہ کی ہدایت پر کی گئی ہے۔

الرشید ٹرسٹ کے چیئرمین محمد سلیمان نے پابندی کے اس فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور اس مقدمے کی گزشتہ سماعت کے موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو نوٹس جاری کیےگئے تھے۔

جمعرات کو سماعت کے موقع پر سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس صبیح الدین احمد اور جسٹس علی سائیں ڈنو میتلو پر مشتمل بینچ نے سرکاری وکیل سے معلوم کیا کہ ٹرسٹ پر پابندی کا کیا کوئی حکم نامہ یا نوٹیفیکیشن ہے جس پر
حکومت پابندی کا کوئی بھی نوٹیفیکیشن پیش نہ کرسکی۔

الرشید ٹرسٹ کے اس موقف پر کہ دفاتر میں موجود زندگی بچانے کی ادویات اور غذائی چیزیں نکالنے کی اجازت دی جائے،عدالت نے حکومت کو ہدایت کی کہ دوائیں اور کھانے پینے کی چیزیں دفاتر سے نکال کر الرشید ٹرسٹ کی مدد سے مستحقین میں تقسیم کی جائیں۔

چیف جسٹس نے حکومت سے یہ بھی سوال کیا کہ کیا اقوام متحدہ کا قانون بلاواسطہ پاکستان کے عوام پر لاگو ہوتا ہے۔

ٹرسٹ پر پابندی کے خلاف مظاہرے بھی ہوئے تھے

الرشید ٹرسٹ کے وکیل نے عدالت کو الرشید ٹرسٹ کے اکاؤنٹ منجمد کرنے کے خلاف عدالتی فیصلے کا حوالہ دیا، جس میں عدالت کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کے فیصلوں کا اطلاق پاکستان کے عوام پر نہیں ہوتا۔

دوسری جانب الرشید ٹرسٹ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے ملک بھر کے دفاتر کھولنے کا حکم جاری کیا ہے، جس سے لاکھوں غریب، یتیم اور بیواہیں ریلیف حاصل کرسکیں گی۔ ٹرسٹ کا کہنا ہے کہ یہ ادارہ کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں ہے۔

الرشید ٹرسٹ پر الزام ہے کہ اس کے ذریعے دہشت گردوں کو رقومات فراہم مہیا کی جاتی تھیں اور اس ٹرسٹ کا نام سنہ دو ہزار ایک میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملوں کے بعد امریکی حکام کی جانب سے جاری کردہ ان تنظیموں اور افراد کی فہرست میں شامل تھا جنہیں امریکہ نے غیر قانونی قرار دیا تھا۔

سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ستمبر دو ہزار ایک میں الرشید ٹرسٹ کے اثاثے منجمد کر دیے تھے، جس کے خلاف ٹرسٹ کے ایک اہلکار نے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست داخل کی تھی۔ تاہم سندھ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کو غیر قانونی قرار دیا تھا۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد