BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Friday, 11 May, 2007, 07:05 GMT 12:05 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
خیرات دینا بند کریں: جنرل قادر
 

 
 
جنرل عبدالقادر
کسی نے بلوچستان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی: جنرل عبدالقادر
بلوچستان کے سابق گورنر نے کہا ہے کہ صدر پرویز مشرف کے دور میں کافی کام ہوا ہے لیکن وہ کوئی احسان نہیں کر رہے کیونکہ ’ہم یہی کہتے ہیں کہ ہمیں خیرات دینا بند کریں اپنے اربوں روپے جو لگائے ہیں واپس لے لیں لیکن ہمیں اپنے وسائل پر حق دیا جائے تا کہ صوبائی حکومت اسے اپنے حوالےسے خرچ کرے۔‘

بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے سابق کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر نے کہا کہ وفاقی حکومت گوادر کو اسلام آباد کا ایک سیکٹر بنانا چاہتی تھی جس کی انہوں نے مخالفت کی تھی اور ان کو استعفی دینے پر مجبور اس لیے کیا گیا کیونکہ وہ نواب اکبر بگٹی سے بات چیت کے ذریعے مسئلہ حل کر رہے تھے۔

جنرل عبدالقادر کا کہنا ہے کہ ان کے دور میں وفاقی حکو مت میں ایسی سمری پیش کی گئی تھی جس میں گوادر کو اسلام آباد کا ایک سیکٹر بنائے جانے کی تجویز تھی جس پر اس وقت کے وزیر اعظم ظفراللہ جمالی نے کابینہ میں بحث کرنے کا کہا تھا۔ جنرل (ر) عبدالقادر نے کہا کہ بلوچستان کے گورنر کے طور پر انہوں نے اس کی مخالفت کی تھی جبکہ وزارت داخلہ کا مؤقف تھا کہ اس کے بغیرگوادر میں امن و امان کی صورتحال بہتر نہیں کی جا سکتی جو غیر ملکیوں کو سرمایہ کاری کے لیے چاہیے۔

جہاز نہیں آیا
 نواب اکبر بگٹی اسلام آباد جانے کو تیار ہو گئے تھے اور سوئی ایئر پورٹ پر چار گھنٹے تک جہاز کا انتظار کرتے رہے لیکن جہاز نہیں آیا اور وہ واپس چلے گئے
 

جنرل عبدالقادر نے کہا کہ گوادر کے حوالے سے قوم پرستوں کے خدشات دور کیے جا سکتے ہیں کیونکہ بقول ان کے اس وقت کراچی کی طرح کوئی بڑی آبادی گوادر آنے والی نہیں ہے اور نہ ہی یہاں بڑی صنعتکاری کی توقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ گوادر در اصل فوجی ضروریات کے حوالے سے اہم ہے کیونکہ پاکستان کو کراچی کے علاوہ ایک اور بندرگاہ کی ضرورت ہے جوگوادر بہتر طور پر پورا کر سکتا ہے۔ جنگ کی صورت میں گوادر بندرگاہ کا محاصرہ نہیں کیا جا سکتا جبکہ کراچی بندرگاہ کو بلاک کیا جا سکتا ہے۔

بلوچستان میں فوجی کارروائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ستائیس اٹھائیس جولائی سال دو ہزار تین کو انہوں نے نواب اکبر بگٹی سے مذاکرات کیے اور مسئلہ سوئی گیس فیلڈ میں ایک سو دو ملازمین کو مستقل کرنے کا تھا جسے انہوں نے حل کر دیا اور وہ خوش تھے کہ صدر پرویز مشرف اس کامیابی پر خوش ہوں گے۔ لیکن ان کے بقول جب تین اگست کو وہ اسلام آباد پہنچے تو وہاں کوئی اور ان کا انتظار کر رہا تھا جس نے ان سے کہا کہ سوری ہم مزید ساتھ نہیں چل سکتے۔

مرکز سے دوری
 اگر کوئی غدار ہے اور اس نے جرم کیا ہے تو اسے سزا دی جائے۔ یہ کیا کہ فوجیں بھیج کر آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے جس میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور پھر وہ مرکز سے دور ہوتے جاتے ہیں
 

جنرل عبدالقادر نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کے ساتھ مذاکرات میں جو دیگر لوگ شامل تھے شاید وہی پہلے پہنچ گئے اور انہوں نے آگے کیا بتایا کہ انہیں بطور گورنر بلوچستان استعفی دینے پر مجبور کیاگیا۔

انہوں نے کہا کہ انہیں اسی لیے تعینات کیا گیا تھا کہ بات چیت شروع کی جائے لیکن حکومت میں سخت گیر رویہ (ہاکش اٹیچیوڈ) رکھنے والے لوگ مذاکرات پر نہیں بلکہ ڈنڈے کا استعمال چاہتے تھے۔

اس کے بعد حالات بگڑتے گئے اور شازیہ خالد کیس اور گیس پائپ لائن پر حملوں کے بعد دو ہزار پانچ میں کارروائی شروع کی گئی۔

جنرل عبدالقادر نے بتایا کہ ان کے دور میں نواب اکبر بگٹی اسلام آباد جانے کو تیار ہو گئے تھے اور سوئی ایئر پورٹ پر چار گھنٹے تک جہاز کا انتظار کرتے رہے لیکن جہاز نہیں آیا اور وہ واپس چلے گئے اور اس کو نواب اکبر بگٹی نے اپنی بے عزتی تصور کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے کبھی پاکستان کے خلاف بات نہیں کی اور اس کا اعتراف ان کے مخالف بھی کرتے ہیں۔

 دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ زمین کے اوپر اگنے والی اشیاء پر صوبوں کا کنٹرول ہو اور زمین کے نیچے پیدا ہونے والی اشیاء وفاق کے پاس ہوں
 

بلوچستان کو اس کے حقوق فراہم کرنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہے کہ زمین کے اوپر اگنے والی اشیاء پر صوبوں کا کنٹرول ہو اور زمین کے نیچے پیدا ہونے والی اشیاء وفاق کے پاس ہوں۔ بلوچستان میں نہ تو نہریں ہیں اور نہ ہی دریا یہاں تو صرف پہاڑ اور پتھر ہیں۔

جنرل عبدالقادر کا کہنا تھا کہ اگر یہی فارمولا ہی درست سمجھ لیا جائے تو اس کے تحت کنویں سے نکلنے والی گیس کی قیمت بلوچستان کو صفر اعشاریہ تین آٹھ ڈالر فی ہزار مکعب فٹ کے حساب سے ملتی ہے جو چھ ارب روپے بنتی ہے جبکہ پنجاب کو تین ڈالر فی ہزار مکعب فٹ کے حساب سے دی جاتی ہے۔ اگر پنجاب کو دی جانے والی قیمت ہی لگا دی جائے تو بلوچستان کو چالیس ارب روپے ملیں گے۔

جنرل عبدالقادر نے کہا کہ بلوچستان میں پانچواں فوجی آپریشن جاری ہے لیکن کسی نے بلوچستان کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی کہ آخر یہاں مسئلہ کیا ہے۔
’اگر کوئی غدار ہے اور اس نے جرم کیا ہے تو اسے سزا دی جائے۔ یہ کیا کہ فوجیں بھیج کر آپریشن شروع کر دیا جاتا ہے جس میں بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں اور پھر وہ مرکز سے دور ہوتے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت بلوچستان کا نوجوان باہر کی طرف دیکھ رہا ہے۔‘

انہوں نے تجویز دی کہ بلوچستان میں فوجی کارروائی بند کرکے مذاکرات شروع کیے جائیں اور لوگوں کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

 
 
رسول بخش پلیجوبلوچستان پر سیمینار
قوم پرست رہنماؤں کے گلے شکوے
 
 
بلوچ اور’گریٹ گیم‘
بلوچستان: طاقت کی رسہ کشی میں پھنسایا گیا
 
 
امتیاز ختم امتیاز میں کمی کیلیے
بلوچستان: 50 خواتین اے ایس آئی پولیس
 
 
بلوچستان: کالجوں کی حالت زار بلوچستان میں تعلیم
اساتذہ ہیں تو عمارت نہیں، عمارت ہے تو۔۔
 
 
یوسف مریمفادات کی جنگ
بلوچستان: حقوق کی نہیں، مفادات کی جنگ
 
 
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد