BBCUrdu.com
  •    تکنيکي مدد
 
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
 
وقتِ اشاعت: Monday, 14 May, 2007, 22:09 GMT 03:09 PST
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
کراچی کے عوام صرف کچلے جانے کے لیے؟
 

 
 
ہفتے کو اسلام آباد میں جنرل مشرف کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں شامل گروہ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑہ ڈال رہے تھے
کراچی میں سنیچر کے دن جو خونریزی اور ہنگامہ آرائی ہوئی، پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں رہنے والوں نے وہ سب کچھ ٹی وی کی سکرین پر دیکھا، اور پھر شام ڈھلے جب لاشوں اور زخمیوں کو اٹھانے کا کام ابھی جاری تھا تو ٹی وی کیمروں کا رخ اسلام آباد کی جانب ہو گیا، جہاں صدر جنرل پرویز مشرف کی حمایت میں نکالی جانے والی ریلی میں شامل گروہ ڈھول کی تھاپ پر بھنگڑہ ڈال رہے تھے۔

اسی ریلی میں جنرل مشرف نے بلٹ پروف پوڈیم کے پیچھے کھڑے ہو کر سندھ میں اپنی حلیف جماعت متحدہ قومی موومنٹ کے بقول ’کامیابی‘ پر اسے خراج تحسین پیش کیا۔

یہ سب دیکھ کر کراچی کے رہنے والے یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ کیا وہ اب تک پاکستان ہی کا حصہ ہیں؟ وہ کہتے ہیں کہ اگر خون خرابہ کرنے والے دہشتگرد ہیں تو حکومت انہیں روکنے یا پکڑنے کی بجائے اپنی پیٹھ کیوں تھپک رہی ہے؟ اور جس ایم کیو ایم کو کراچی میں ہنگامہ آرائی کے لیے قصور وار ٹھہرایا جا رہا تھا اسی جماعت کو اسلام آباد کے سرکاری پنڈال میں شاباش کیوں دی جا رہی تھی؟

پاکستانی میڈیا پر ایک جانب تو حکومت کا دباؤ رہتا ہے اور دوسری جانب شدت پسند سیاسی، مذہبی اور لسانی تنظیموں کی جانب سے دھمکیاں اور مسلح حملے۔ ایسے میں کھل کر کسی ایک فریق کا نام لینا مقامی میڈیا کے لیے تو شاید ممکن نہیں لیکن کراچی میں میں نے چشم دیدگواہوں اور مقامی صحافیوں سے جو کچھ سنا، اور اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھا، اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ نے نہ صرف چیف جسٹس کی کراچی آمد کو بہانہ بنا کر اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کیا، بلکہ اس کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

شہری اور صوبائی حکومتیں تو ایم کیو ایم کی اپنی تھیں ہی، شواہد یہ ہیں کہ مرکزی حکومت نے بھی یا تو ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دیے رکھی اور یا وہ خود اس منصوبہ بندی کا حصہ تھی جس کے تحت ویک اینڈ پر کراچی میں اکتالیس ہلاکتیں ہوئیں، سینکڑوں زخمی ہوئے اور درجنوں گاڑیوں اور موٹر سائکلوں کو جلا دیا گیا۔

پہلے کچھ ذکر ایم کیو ایم کی کارروائی کا۔

شاہراہ فیصل کو، جو شہر کی مرکزی گذرگاہ ہے، جمعے کی شام سے ہی بلاک کرنے کا کام شروع ہو گیا تھا۔ چشم دید گواہوں کے مطابق کہیں پولیس نے اور کہیں ایم کیو ایم کے مسلح کارکنوں نے بسوں، ٹرکوں اور ٹرالرز کو چھین کر انہیں ناکارہ بنایا اور پھر انہیں رکاوٹوں کے طور پر استعمال کیا۔

شاہراہ فیصل سے بیسیوں نہیں شاید سینکڑوں راستے نکلتے ہیں۔ ان سب کو بند کرنا، اور اس طرح کہ ایک گواہ کے مطابق وہاں سے موٹر سائکل سوار بھی نہ گذر سکے، اچھا خاصا بڑا کام ہے۔ یہ کوئی ایسی کارروائی نہیں جو چھپ چھپا کر ہو سکے اور قانون نافذ کرنے والوں کو پتا بھی نہ چلے۔

یہ کارروائی رات دو بجے تک مکمل ہو چکی تھی، اور شاہراہ فیصل ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہو چکی تھی۔ کراچی ائرپورٹ پر میں ایسے مسافروں سے بھی ملا جو سنیچر کی رات گیارہ بجے کے قریب وہاں پہنچے لیکن ہوائی اڈے کی عمارت سے باہر نہ جا سکے۔

پھر سندھ کے وکیلوں کو چیف جسٹس کے استقبال کے لیے ائرپورٹ، اور ان کا خطاب سننے کے لیے ہائی کورٹ پہنچنے سے روکنے کے لیے بھی تمام انتظامات پہلے سے کیے گئے تھے۔

ہائی کورٹ اور سٹی کورٹس کی عمارات پر پولیس کا پہرہ اور ان کے ارد گرد ایم کیو ایم کی ٹولیوں کی موجودگی سے یہ یقینی بنایا گیا کہ وکلاء ان عمارات میں نہ پہنچ سکیں اور جو پہنچ جائیں وہ باہر نہ آ سکیں۔

ملیر بار ایسوسی ایشن کے ارکان، جو چیف جسٹس اور ان کے ساتھیوں کے میزبان ہونے کے ناطے انہیں ائرپورٹ سے جلوس کی صورت میں لے جانا چاہتے تھے، ملیر کی حدود سے باہر بھی نہ آ پائے۔ میں چیف جسٹس کے ساتھ اسلام آباد ائرپورٹ پر موجود تھا، اور کراچی کی پرواز میں ابھی پندرہ بیس منٹ باقی تھے جب ان کے ایک وکیل کو فون پر ملیر بار کے ایک رکن نے بتایا کہ ایم کیو ایم کے لوگ ان سے مار پیٹ کر رہے ہیں اور ائرپورٹ کا رخ کرنے کی صورت میں اس سے بھی برے نتائج کی دھمکی دے رہے ہیں۔

وکلاء تو خیر ان سے کیا لڑتے لیکن اپوزیشن سیاسی جماعتوں اور کچھ مذہبی اور لسانی گروہوں کی ریلیوں میں بھی مسلح افراد موجود تھے۔ ان سے نمٹنے کے لیے ایم کیو ایم نے الگ حکمت عملی بنا رکھی تھی۔ سینئر صحافی ایاز امیر کے مطابق، جو سنیچر کو متاثرہ مقامات کا دورہ کرتے رہے، ایم کیو ایم نے مخالفین کی ریلیوں پر گھات لگا کر حملے کیے۔

ایم کیو ایم کے پاس اسلحہ بارود کس کثرت سے تھا اور ان کے لڑنے کا انداز کس قدر پیشہ ورانہ تھا اس پر ’آج’ ٹی وی کے ایک صحافی نے جنہوں نے بہت قریب سے اپنے دفتر پر ہونے والا حملہ بھی دیکھا تھا، تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ فوجیوں کی سی پھرتی سے پوزیشنیں سنبھالتے اور بدلتے رہے اور ان کے لیے بارود کی سپلائی بغیر وقفے کے چلتی رہی، جس کی بنا پر وہ چھ گھنٹے سے زیادہ گولی باری کرتے رہے۔

ایم کیو ایم کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس کی کراچی آمد ایک سازش کا حصہ تھی جس کا جواب دینے کے لیے اسے یہ سب تیاری کرنا پڑی جس میں شاہراہ فیصل کو بند کرنا بھی شامل تھا۔ تاہم جماعت کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ تشدد کی ابتدا ان کے مخالفین کی جانب سے ہوئی۔

اب یہ بات کہ سرکاری سرپرستی اگر تھی تو کس قدر۔

کراچی میں قریباً پچیس ہزار کے قریب پولیس اہلکار ہیں جو صوبائی حکومت کے زیر نگرانی ہیں، اور ان کے علاوہ دس ہزار سے زیادہ رینجر بھی شہر میں موجود تھے، جو وفاقی حکومت کے ملازم ہیں اور گورنر کے حکم پر کام کرتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے پاس شہری اور صوبائی حکومت کے بیشتر اختیارات تو ہیں ہی، گورنر بھی اسی جماعت کے ایک رہنما ہیں۔

ان حالات میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حساس مقامات سے غیر حاضری یا جیسے ٹی وی پر دیکھا گیا کہ بلوائی کھلے عام گھوم رہے ہیں اور اہلکار ان کے قریب ہی منہ پھیرے کھڑے ہیں۔ اس صورتحال میں یہ کہنا بالکل بجا ہو گا کہ سکیورٹی اہلکار اس روز غیر جانبدار نہیں تھے۔

پھر چیف جسٹس کی کراچی آمد کے دن ہی ایم کیو ایم کا ریلی نکالنے پر اصرار بھی معنی خیز تھا۔ صوبے کے چیف سیکرٹری نے کم از کم ایک ہفتہ پہلے بتایا تھا کہ ان کے پاس خفیہ معلومات ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ چیف جسٹس کی آمد پر ہنگامے ہو سکتے ہیں۔ لیکن ان معلومات کو صرف چیف جسٹس کا دورہ مؤخر کرنے کی کوشش میں استعمال کیا گیا، عوام کی سکیورٹی کے لیے کچھ بھی نہیں کیا گیا۔ اور ایک طرح سے ایم کیو ایم کو کھلی چھوٹ دی گئی۔

اس پر وزیر اطلاعات کا یہ کہنا کہ سنیچر کو پیش آنے والے واقعات کا پہلے سے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا تھا، کسی کی بھی سمجھ سے بالا تر ہے۔

اور پھر سب سے اہم بات تو خود صدر جنرل پرویز مشرف نے کہی، جنہوں نے اسلام آباد کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے عوام نے اپنی طاقت دکھا دی ہے۔ اور یہ کہ اس سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پورے ملک کے عوام ان کے ساتھ ہیں۔

ان ساری باتوں سے کم از کم کراچی کی حد تک یہی تاثر بنا کہ ایم کیو ایم، جنرل مشرف اور مسلم لیگ کی حکومت ایک فریق ہیں، اور پاکستان کی تمام چھوٹی بڑی جماعتیں دوسرا فریق ہیں۔ اور یہ کہ کراچی کے عوام دو ہاتھیوں کی اس لڑائی میں صرف کچلے جانے کے لیے ہیں۔

 
 
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
 
 
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئے پرِنٹ کریں
 

واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنس کھیل آس پاس انڈیاپاکستان صفحہِ اول
 
منظرنامہ قلم اور کالم آپ کی آواز ویڈیو، تصاویر
 
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>  
پرائیویسی ہمارے بارے میں ہمیں لکھیئے تکنیکی مدد